کچھ لوگ ہوا کرتے تھے جن کے ساتھ میں نے ایک عرصہ گزارا آج انہیں دیکھے ہوئے بھی کئی برس بِیت چکے ہیں لیکن میرے دل میں ان کی حسرت آج تک باقی ہے سچ ہے کہ میں نے پیاروں کی جدائی کے سوا زمانے کی تمام مصیبتوں کو ہلکا پایا
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تُو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اُس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی
ملیں جب اُن سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی
کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی
کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
بے محل سچ بولنے کی بد ہضمی
ایک صاحب تھے,جنہیں ہمیشہ بے محل سچ بولنے کی بد ہضمی ہو جاتی تھی,چاہے پھر ان کے سچ سے کتنا ہی بڑا فتنہ و فساد کیوں نہ پیدا ہو جاٸے۔
ایک دن اپنے ہی گھر میں اپنی سگی بیگم کی موجودگی میں گھر آٸے دوست پر چڑھ دوڑا کہ تم مطالعہ پاکستان والے سچ کیا جانو,ہم تو سولی پر بھی سچ بولیں گے,چاہے ہماری جان چلی جاٸے۔
مطالعہ پاکستان کے طعنے سن سن کر تپے ہوٸے دوست نے پوچھ لیا کہ ” جناب ذرا سچ سچ بتاٸیں کہ آپ کی گرل فرینڈز کتنی ہیں؟
یہ سوال سنتے ہی گاموں سچار کی بولتی بند ہو گٸی۔
بڑے آٸے مطالعہ پاکستان کا طعنہ دینے اور سولی پر سچ بولنے والے
اس کے بعد تاریخ مکمل خاموش ہے۔
بزرگ کہتے تھے۔
کم کھانا۔ کم سونا
ہم نے سمجھا۔
کم اے کھانا تے کم اے سونا۔
شب بخیر
کملائے ہوئے پھولوں کی طرح
کملائے ہوئے سے رہتے ہیں
محبت کاغذ پر نہیں لکھی جاتی، کیونکہ وقت کاغذ کو مٹا سکتا ہے، اور پتھر پر کندہ نہیں ہوتا، کیونکہ پتھر ٹوٹ سکتا ہے، محبت دل میں رونما ہوتی ہے، اور ہمیشہ رہتی ہے۔
تمہا ر ی یا د بھی محسن گو یا کسی مفلس کی پو نجی ھے،
جسے ہم رو ز گنتے ہیں ،جسے ہم سا تھ ر کھتے ہیں
بگڑا کیوں رہتا ہے میرا مزاج اکثر
کوئی تو ہو جو سمجھے بے بسی کو مری
ضمیر کی عدا لت میں ضر ور جائیے .کیو نکہ یہا ں غلط فیصلے نہیں ھو تے .اور وکیلو ں کی فیس بھی ادا نہیں کرنا پڑ تی .بس ایک شر ط ھے کہ آ پ کے پاس ضمیر ھو
اک تعلق نہ سہی ! دیکھ کے مسکایا کریں
آپ ہنستے ہیں تو کچھ رنجشیں گھٹ جاتی ہیں
ٹرانسپورٹ کی لائن میں جب گاڑی پرانی ہو جاتی ہے. سواریوں کی توجہ حاصل نہیں کرپاتی, تو پرانے چیسس پر نئی باڈی ڈال دی جاتی ہے, یا رنگ نیا کردیا جاتا ہے, سیٹوں پر نئے غلاف چڑھا دئے جاتے ہیں. لیکن انجن اور چیسس پرانا ہی ہوتا ہے. ڈرائیور پروفیشنل ہوتے ہیں. انہے پتہ ہوتا ہے کہ سڑک پر مسابقت انجن کی ہے. رنگ و روپ سواریوں کو تو دھوکا دے سکتا ہے. سڑک پر وقت کے مقابلے میں یہ کسی کام کا نہیں.
ایسی گاڑیوں پر ڈرائیور پیچھے ایک سچ لکھ دیتے ہیں.
" وقت نے پھر دلہن بنادیا."
جھوٹ کے ان پہاڑوں میں, سراب دنیا کہ بیابانوں میں, ہمھارے آس پاس بھی بہت سے سچ ہیں, بس ہمھیں جلدبازی میں جھوٹ کی سواری پر ٹکٹ کٹوانے سے پرہیز کرنا چاہئے, کہ آج کی تیز رفتار زندگی میں ایک بار جھوٹ کی سواری پر ٹکٹ کٹوالیا جائے, تو چاہتے نہ چاہتے بھی پھر آپ جھوٹ کے سوار رہیں گے.
جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے
باباجی جہاز میں بیٹھے تھوڑی دیر بعد ایک خوبصورت خاتون سیٹ نمبر دیکھتی ہوئی آئی اور بابا جی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گٸی۔
بابا جی کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے۔
مگر انہیں محسوس ہوا کہ وہ خاتون مسلسل اُنہیں گھور رہی ہیں اُنہوں نے مُڑ کر دیکھا تو وہ خاتون واقعی گھور رہی تھی۔
بابا جی:
"کیا بات ہے محترمہ! آپ مجھے ایسے کیوں گھور رہی ہیں؟
خاتون:
"میں گھر سے ائیرپورٹ تک سارے راستے یہی دُعا کرتی آئی ہوں کہ میرے ساتھ کسی خاتون کو سیٹ ملے"
بابا جی "میں بھی سارے راستے یہی دعا کرتا رہا ہوں اور رب نے میری سُن لی تم نے دل سے نہیں مانگی ہوگی
میں تمہیں سکھا نہیں سکتا
محبت کیسے کی جاتی ہے
مچھلیاں معلم کی محتاج نہیں
جو انہیں تیرنا سکھائے
اور چِڑیوں کو استاد نہیں چاہیے
جو پرواز کے اسباق پڑھائے
تمہیں خود تیرنا ہے
تمہیں خود اُڑنا ہے
محبت درسی کتابوں میں نہیں پڑھی جاتی
تاریخ کے سارے عظیم عُشّاق اَن پڑھ تھے۔
پا ؤ ں لٹکا کے جا نب دنیا
آؤ بیٹھیں کسی ستا رے پر
شب بخیر
کیا ملا محبت سے
روز و شب ریا ضت سے
ایک شا م یادوں کی
اور ......
ایک تھکا ھوا .....
آنسو ........
سنو
میں واجب المحبت ہوں
مجھے سراہنا فرض ہے تُم پر
سیف ۔۔۔۔۔ اندازِ بیاں بات بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
پری بھائی۔۔ ہاتھ پاؤں چھلوا کر اور ایک آنکھ سجوا کر گھر آیا
بھرجائی۔۔ نے گھبرا کر پوچھا کیا ہوا
پری بھائی ۔ ایک عورت اسکوٹی سے ٹکر مار کر نکل گئی
بھرجائی ۔ اسکوٹی کا نمبر نوٹ کیا یا کوئی اور بات جو اس کے گھر تک پہنچا جا سکے؟؟
پری بھائی ۔ نہیں درد کی وجہ سے نمبر تو نوٹ نہیں کر پایا
پر وہ بہت گوری اور سنہرے بال والی تھی
اس نے ہرے رنگ کا سوٹ پہنا تھا
گلابی رنگ کی چوڑیاں
گہرے لال رنگ کی لپ اسٹک
کانوں میں ہیرے کی بالیاں تھی
ہاتھوں میں مہندی لگی تھی
اور ہاں دائیں گال پر ہونٹوں کے پاس تِل بھی تھا
اتنا بتانے کی دیر تھی کہ پری بھائی کی دوسری آنکھ بھی سوج گئی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain