Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

بعض اوقات الفاظ انسان کے منہ میں ایسے بھرے ہوتے ہیں ،
جیسے ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑے ،
اور ایسی صورتحال میں خاموشی تکلیف دہ ہوتی ھے
اور بولنے سے خون بہتا ھے۔۔۔

Offline
 

ہمیں سمجھاو نہ محسن ہمیں معلوم ہے سب کچھ
محبت مشورہ ہوتی تو تم سے پوچھ کر کرتے

Offline
 

ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے کہا کہ موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔
اس نے کہا حضور! آپ کا اقبال بلند ہو‘ آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟
بادشاہ نے کہا شکار پر۔
کمہار کہنے لگا‘ حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہونے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
بادشاہ نے کہا‘ ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تو کیا جانے موسم

Offline
 

کیا ہے ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور شکار کے لیے بہت موزوں اور تم کہہ رہے ہو کہ بارش ہونے والی ہے؟
پھر بادشاہ نے ایک مصاحب کو حکم دیا کہ اس بے پر کی چھوڑنے والے کمہار کو دو جوتے مارے جائیں۔
بادشاہ کے حکم پر فوری عمل ہوا اور کمہار کو دو جوتے نقد مار کر بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں داخل ہو گیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ گھٹا ٹوپ بادل چھا گئے ۔ ایک آدھ گھنٹہ بعد گرج چمک شروع ہوئی اورپھر بارش۔ بارش بھی ایسی کہ خدا کی پناہ۔ ہر طرف کیچڑ اور دلدل بن گئی۔ بادشاہ اور مصاحب کو سارا شکار بھول گیا۔ جنگل پانی سے جل تھل ہو گیا۔ ایسے میں خاک شکار ہوتا۔ بادشاہ نے واپسی کا سفر شروع کیا اور برے حالوں میں واپس محل پہنچا۔ واپس آکر اس نے دو کام کیے ۔ پہلا یہ کہ وزیرِ موسمیات کو برطرف کیا اور دوسرا یہ کہ کمہار کو دربار میں طلب

Offline
 

کیا، اسے انعامات سے نوازا اور وزیرِ موسمیات بننے کی پیشکش کی۔
کمہار ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا‘ حضور! کہاں میں جاہل اور ان پڑھ شخص اور کہاں سلطنت کی وزارت۔ مجھے تو صرف برتن بنا کر بھٹی میں پکانے اور گدھے پر لاد کر بازار میں فروخت کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔ مجھے موسم کا رتی برابر پتہ نہیں۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ جب میرا گدھا اپنے کان ڈھیلے کر کے نیچے لٹکائے تو اس کا مطلب ہے کہ بارش ضرور ہو گی۔ یہ میرا تجربہ ہے اور کبھی بھی میرے گدھے کی یہ پیش گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی۔
یہ سن کر بادشاہ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کمہار کے گدھے کو اپنا وزیرِ موسمیات مقرر کر دیا۔
مؤرخ کا کہنا ہے کہ گدھوں کو وزیر بنانے کی ابتدا تب سے ہوئی۔۔!!
.منقول۔۔۔

Offline
 

مشہور داغستانی شاعر حمزہ توف کی ایک لازوال نظم
"عورت "
اگر ایک ہزار مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو... یقینا رسول حمزہ ان میں سے ایک ہوگا..
اگر ایک سو مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو... رسول حمزہ توف ان میں...ظاہر ہے ضرور شامل ہو گا...
اور اگر دس مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو... رسول حمزہ توف ان میں سے ایک ہوگا..
اور اگر ...
صرف ایک مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو... تو وہ رسول حمزہ توف کے سوا اور کون ہو سکتا ہے...
اور اگر تم تنہا ہو ...اکیلی ہو..
اور کوئی بھی تمہاری محبت میں مبتلا نہیں ہے ... تو یقین کر لینا کہ ...
کہیں بلند پہاڑوں میں .. رسول حمزہ توف....مر گیا ہے ۔۔۔

Offline
 

فقیر نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری مُٹھی عجوہ کھجوروں سے بھر دی، فرمایا کھاؤ اور ساتھ بِٹھا کے فرمانے لگے
بتاؤ تو حیاتی کِس کو کہتے ہیں..؟
میں نے کہا زندگی کو..؟
تو میرے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر فرمانے لگے نہیں نکمے حیاتی تو وہ ھوتی ھے جِسے کبھی موت نہیں آتی.. دیکھو نہ اللّٰه تعالی کا ایک ایک لفظ ہیرے یاقوت و مرجان سے زیادہ پیارا اور قیمتی اور نصیحتوں سے بھرپور ھے...
اللّٰه نے یہ نہیں کہا کہ اِسلام مکمل ضابطہ زندگی ھے بلکہ یوں کہا کہ مکمل ضابطہ حیات ھے اور حیاتی تو مرنے کے بعد شروع ھو گی جِسے کبھی موت نہیں

Offline
 

آئے گی...
پھر گلاس میں میرے لیئے زم زم ڈالتے ھُوئے فرمانے لگے میرے بیٹے اللّٰہ نے زندگی دی ھے حیات کو سنوارنے کے لیئے نہ کہ بگاڑنے کے لیئے تو یہ زندگی بھی بھلا کوئی حیاتی ھے جِسکو موت آ جائے گی... اصل تو وہ حیات ھے جِسکو کبھی زوال نہیں کبھی موت نہیں....
تو زندگی ایسے گزارو کہ حیات سنور جائے...
اور میں زندگی میں تب پہلی بار سمجھا کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ھے کا اصل مطلب کیا ھے

Offline
 

چُپ چاپ ٹوٹتی گئیں
آہــوں کا شکریہ
سمجھے نہ درد
درد شناسوں کا شکریہ

Offline
 

"مُحبت ایسے ہی ہے ؛ جیسے کوئی گُونگا گُڑ کھائے اور ذائقہ نا بتا سکے

Offline
 

جب دنیا کے ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی کام تھا، میں تمہیں یاد کر رہا تھا۔

Offline
 

بد تمیز بدمزاج ہر شے سے بیزار
دیکھ تو تیرے بعد کیسا ہو گیا ہوں میں

Offline
 

بہت سے زخم ھیں دل میں
مگر اک زخم ایسا ھے
جو جل اٹھتاھے راتو ں کو
جو لو دیتا ھے با رش میں

Offline
 

ایک بات پوچھوں؟
ایلی نے کہا
"پوچھو: شام بولا
رادھا میں وہ کون سی خوبی ہے جو تمھیں پسند آگئی؟
وہ قہقہہ مار کر ہنسنے لگا. اور پھر اپنی مست آنکھیں ایلی کی آنکھوں میں ڈال کر کہنے لگا
"صرف ایک، اور اس ایک خوبی پر ساری دنیا قربان کی جا سکتی ہے،
وہ کیا؟
وہ مجھ سے محبت کرتی ہے.
عورت میں بس یہی ایک خوبی ہوتی ہے جس پر مرد مرتا ہے،
تم تو نفسیات پڑھتے ہو. تمھیں تو معلوم جانا چاہیے باقی جو ناک نقشے اور رنگ کی بات ہے سب باتیں منہ زبانی ہیں.

Offline
 

اگر آپ اپنی بیوی کو انگریزی میں"مرڈرر"یا ہندی زبان میں"ہتھیارن" بولیں گے تو رات کا کھانا بھی نہیں ملے گا۔
وہیں اگر اردو زبان میں اس کو بولیں
" بیگم آج تو آپ بڑی قاتل لگ رہی ہیں "
تو شام کی چائے کے ساتھ پکوڑے اور ڈنر کے بعد میٹھا بھی ملے گا۔
اردو میٹھی زبان ہے اسے فروغ دیں

Offline
 

کچھ لوگوں کے کام اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کا نام چھوٹا پڑ جاتا ہے. تب لوگ ان کے نام کے ساتھ اعظم و عظیم لگاتے ہیں. جیسے قائداعظم محمد علی جناح بابائے قوم ہیں.
کچھ لوگوں کے نام کے ساتھ آپ جتنے شرق و غرب کے القابات لگا لیں. جتنا ان کو درجہ عظمت پر بلند کرلیں. وہ عام و عوام کیلئے اجنبی ہی رہتے ہیں. کیونکہ ان لمبے ناموں کے پیچھے کام بہت چھوٹے ہوتے ہیں.

Offline
 

کیا ہوا جو خزاں رسیدہ ہیں ہم
وہ ھے ناں ___ ہمیں گلدان میں سجا سکتی ھے

Offline
 

نو دولتیہ خا تون سے ملنے ان کی پر انی محلے دار خاتو ن آئیں تو وہ بڑے فخر سے انھیں بتا نے لگیں کہ ہم نے اپنے ٹمی کو بہت مہنگے سکو ل میں داخل کر وایاھے .. ابھی سے تو ٹمی کو انگلش ، فرینچ ، اور الجبرا پڑھا یا جا رھا ھے .ٹمی بیٹا !!! اپنی آ نٹی کو گڈ ما ر ننگ بولو نا الجبر ا میں

Offline
 

زندگی کی تصویر پر ہم اپنی سہولت کے مطابق فلٹرز لگا لیتے ہیں۔ جو چیز دل دکھاتی ہے، وہاں سے فوکس ہٹا لیتے ہیں۔ جہاں اندھیرا ہے، وہاں ذرا سن شائن۔ جہاں کچھ غلط ہے، وہاں سے دھندلا کر دیتے ہیں۔ کوئی خرابی نظر آئی، اسکو بیک گراونڈ سے ہٹا دیا۔ خرابی وہیں رہتی ہے، بگڑ کر ناسور بن جاتی ہے۔ ہماری جان کو آ جاتی ہے لیکن ہائے، فلٹرز ہٹا کے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا بڑا مشکل لگتا ہے۔
مسائل پر سے نگاہ ہٹا لینے سے مسائل کم نہیں

Offline
 

ہوتے۔ انہیں بغور دیکھیں۔ تکلیف تو ہو گی کمفرٹ لیول سے نکلنے میں، لیکن یونہی سہی! تکلیف سے نجات کے لیے پہلے تکلیف سہنے کے عمل سے تو گزرنا پڑتا ہے۔
ہمت کریں۔ زندگی کو اسکی تمام تر حقیقتوں سمیت قبول کریں۔ انکار سے نکلیں۔ ہر فلٹر ہٹا کر زندگی کو اسکے اصلی چہرے کیساتھ دیکھیں۔
یہیں سے مسائل کے حل کی طرف کا سفر شروع ہوتا ہے۔ سفر بخیر میرے دوستو!