Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ہوتے۔ انہیں بغور دیکھیں۔ تکلیف تو ہو گی کمفرٹ لیول سے نکلنے میں، لیکن یونہی سہی! تکلیف سے نجات کے لیے پہلے تکلیف سہنے کے عمل سے تو گزرنا پڑتا ہے۔
ہمت کریں۔ زندگی کو اسکی تمام تر حقیقتوں سمیت قبول کریں۔ انکار سے نکلیں۔ ہر فلٹر ہٹا کر زندگی کو اسکے اصلی چہرے کیساتھ دیکھیں۔
یہیں سے مسائل کے حل کی طرف کا سفر شروع ہوتا ہے۔ سفر بخیر میرے دوستو!

Offline
 

ہم ہمیشہ ان پر بھروسہ کرتے ہیں جن کے دلوں پر ہم بھروسہ کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر نہیں، کیونکہ جسم کی طاقت کبھی کبھی اپنے مالک کو دھوکہ دیتی ہے، لیکن جذبات کی طاقت کبھی دھوکہ نہیں دیتی۔
شب بخیر

Offline
 

کسی دوسری دنیا میں جانے کیلئے"کتاب" ایک بہترین ذریعہ ہے

Offline
 

کہتے ہیں محبت میں مبتلا ایک شخص کے مطابق دنیا کی کُل آبادی صرف ایک شخص پر مشتمل ہوتی ہے۔
چنانچہ اُسے ٹیم نال کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھا دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔

Offline
 

میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ھیں
تم ھو تی تو ایسا ھوتا
تم ھوتی تو ویسا ھوتا
تم اس بات پہ حیراں ھوتی
تم اس بات پہ کتنا ہنستی
میں اور میری تنہا ئی اکثر

Offline
 

بند لفا فے بھی تجسس جگا تے ھیں ۔
کم از کم کھلنے سے پہلے تک ان میں گہر ا اسرار ھو تا ھے

Offline
 

تجربہ گاہ ِ محبت میں ہمیں عمر ہوئی
آتے جاتے ہیں مگر کچھ نہیں آتا جاتا

Offline
 

بہ لبم رسیدہ جانم
تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم
بہ چہ کار خواہی آمد _
میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے، تُو آ کہ میں زندہ رہوں، جب میں نہیں ہونگا تو اسکے بعد تیرا آنا کس کام کا۔
(امیر خسرو)

Offline
 

اس نے شہادت کی انگلی سے ناک کو چھوا... انگلی ناک کے چوٹی پر دو تین مرتبہ ایسے بجائی ۰۰۰ جیسا کہ ٹیچر اسٹک سے وائٹ بورڈ بجاتے ہیں ۰۰۰۰
"علی ۔۔ توں پہلاں کتھے مر گیا ہائیں "
یکدم اس نے بھنویں سکیڑ کر سوال کیا
جواب میں میری آنکھوں نے خاموشی سے اس کی کشادہ پیشانی کو دیکھا ۔۔۔ اور آہستہ سے فقط مسکرا کر رہ گیا
تب سردیاں تھیں ۔۔۔ اس نے سکن کلر کی جرابیں پہن رکھی تھیں ۔۔۔ بلیک اسکارف اسکی چاندی جیسی رنگت کو مزید نمایاں کر دیتا تھا
نیوٹن کے تمام لاء ... اس کی کشش کے سامنے ہیچ تھے...
فزکس اس کی گریوٹی کی پیمائش کر ہی نہیں سکتی تھی ...
ڈارون کی تھیوری سے بھی قدیم اس کی محبت کی گپھا ...
اور اس محبت کی زبان ...
کتاب الاموات" سے بھی ادق" ....
اس کا

Offline
 

دل ...
حسن بن صباح کی جنت سے بھی عجیب و غریب ....کہ جہاں فدائی
اشارے بھی پلکوں کے اٹھنے اور جھکنے سے سمجھتے ....
..
وہ قدیم معبدوں کی گھنٹیوں سے بھی پر اسرار ...
وہ آسان بھی تھی اور مشکل بھی ...
"تم میرے بارے میں کیوں نہیں لکھتے"
"یہ جو ناولز میں محبتیں ہوتی ہیں ایسی سچ مچ ہوتی ہیں کیا؟"
"علی ... پرفیوم نہ یوز کیا کرو"
"... اس سے تمھارے جسم کی خوشبو ختم ہو جاتی ہے"
جب وہ ہنستی تو سر پیچھے کی جانب کر لیتی ...
۔۔۔
اس کے ربن میں جکڑے بھورے بال ۔۔۔ اُس کی کمر پہ لہراتے ۔۔۔ اور اُس کی قوس ہوتی گردن۔۔۔۔
نشیب وفراز کو نظم کر لیتی ۔۔۔
اسکے ایک گال پہ ڈمپل بنتا ۔۔۔
اور ایسا تب زیادہ ہوتا جب وہ دونوں ہونٹ بھینچ کر سارا دباؤ نچلے ہونٹ پہ دے دیتی ۔۔۔
"علی تُساں شاعر وی ۔۔۔ ذہن کوں ویلڑاں بنڑا گھندے او"
تم ہمیشہ ایسے ہی رہنا ۔۔۔۔!

Offline
 

محبت کی خوبصورتی کاتقاضہ یہ ہے کہ جب دوسرے فریق کی آنکھوں میں آنسو
آئیں توجھگڑا ختم کردینا چاہئے

Offline
 

یونہی ہنسی ہنسی میں ہم دلو ں سے کھیل جاتے ھیں
کوئی چھو ٹی سی تیکھی بات
کوئی چبتھا ھوا لہجہ
کو ئی بے ضر ر سی ذو معنی بات
دلو ں کوگھائو لگاتی ھے
پھر کتنے ہی مرہم تلا فی کے لگاؤ
قطرہ قطرہ خون رستا ہی رہتا ھے
وہ آ نسو جو آ نکھ سے نہیں گر تا
اندر ہی کہیں جم سا جاتا ھے
برف پہ گرے مو م کے قطر ے کی طرح
اور برف تو شا ئد وقت کی گر می سے پگھل جاتی ھے...
مگر وہ قطرہ جب بھی پگھلنے لگتا ھے
پھیل جا تا ھے
اور بڑ ا ھو جا تا ھے
بس ختم نہیں ہو تا
اور ....
ہنسی ہنسی میں ہم
دلوں سے کھیل جا تے ھیں

Offline
 

انسان کے اب تک کے تمام گھڑے ہوئے مفروضوں میں سب سے بڑا احمقانہ مطالبہ یہ ہے کہ کوئی ہم سے محبت کرے۔

Offline
 

کہو وہ چاند کیسا تھا ؟
کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟
جِدھر سب کچھ لُٹا آئے
جِدھر آنکھیں گنوا آئے
کہا ، سیلاب جیسا تھا، بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے
کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟
کبھی چُھو کر اسے دیکھا
تو تُم نے کیا بھلا پایا
کہا ، بس آگ جیسا تھا ، اسے چُھو کر تو اپنی رُوح یہ تن من جلا آئے
کہو ، وہ وصل کیسا تھا ؟
تمہیں جب چُھو لیا اُس نے
تو کیا احساس جاگا تھا ؟
کہا ، اِک راستے جیسا ،جدھر سے بس گزرنا تھا ، مکاں لیکن بنا آئے

Offline
 

کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟
فلک سے جو اُتر آیا !
تمھاری آنکھ میں بسنے
کہا ، وہ خواب جیسا تھا ، نہیں تعبیر تھی اسکی ، اسے اِک شب سُلا آئے
کہو ، وہ عشق کیسا تھا ؟
بِنا سوچے بِنا سمجھے ،
بِنا پرکھے کیا تُم نے
کہا ، تتلی کے رنگ جیسا ، بہت کچا انوکھا سا ، جبھی اس کو بُھلا آئے
کہو ، وہ نام کیسا تھا ؟
جِسے صحراؤں اور چنچل ،
ہواؤں پر لکھا تُم نے
کہا ، بس موسموں جیسا ، ناجانے کس طرح کس پل کسی رو میں مِٹا آئے

Offline
 

ما ڈ رن اور طر حد ار خا تو ن اپنے پا لتو کتے کے ساتھ ما رکیٹ میں مو جو د تھیں . ایک جگہ رک کہ وہ کچھ دیکھنے لگیں تو سا تھ مو جو د فرو ٹ شا پ کے باہر لگے پھلوں کو کتا چا ٹنے لگا.خا تو ن کی اما رت سے مرعو ب دکاندا ر کتے کو نر می سے شش شش کرنے لگا خا تو ن کی تو جہ ہو ئی تو فو را پیا ر بھر ی ڈ انٹ سے بو لیں .....ایلسی !!! باز آؤ نہ سو یٹ ہا رٹ.... فروٹس دھلے ھو ئے نہیں ھیں .....

Offline
 

جب ہم سمجھتے ھیں کہ سب ایک جیسے نہیں ھو تے تو ہم غلطی پر ھو تے ھیں .
جب ہم سمجھتے ھیں کہ سب ایک جیسے ہی ھو تے ھیں تو ہم حقیقت شنا س ھو تے ھیں.
حقیقتیں تلخ ھو تی ھیں مگر ان کا بر وقت ما ن لینا ہمیں بہت سی تلخیو ں سے بچا لیتا ھے.

Offline
 

ستا رے سےد مکتے ھیں
جو کسی کے چشم حیر ان میں
ملا قا تیں جو ھو تی ھیں
جما ل ابر و با راں میں
یہ نہ آ با د وقتو ں میں
دل نا شا د میں ھو گی
محبت اب نھیں ھو گی
یہ کچھ دن بعد میں ھوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
پھر ان کی یا دمیں ھو گی

Offline
 

دو دوستوں میں یہ مقابلہ رہتا تھا کہ کون فجر کی نماز کے لیے پہلے مسجد میں پہنچتا ہے ۔ عبد اللّٰہ ہمیشہ ہی خالد سے پہلے مسجد میں ہوتا-
آخر ایک دن خالد نے عبداللّٰہ سے پوچھا " تم کیسے مینیج کرلیتے ہو ؟ میں نے بہت دفعہ کوشش کی لیکن کبھی تم سے پہلے فجر میں نہیں پہنچ پایا "
عبداللہ نے جواب دیا " میری دو بیویاں ہیں ۔ جو آپس میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں میری مدد کرتی ہیں ۔ یہ سب ان کی خدمت اور احسان کا نتیجہ ہے "
خالد نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ بھی دو شادیاں کرے اور ایسی کوئی مثال قائم کرے ۔ ۔ ۔
چنانچہ آج کل خالد بھی عبداللّٰہ کی طرح "مسجد میں ہی سوتا ہے-"

Offline
 

میں سمجھتاہوں کے آخر میں سب کچھ جانے دینے کا نام ہی زندگی ہے، پر سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے
جب آپ کو الوداع کہنے کا موقع نہیں ملتا