ہوتے۔ انہیں بغور دیکھیں۔ تکلیف تو ہو گی کمفرٹ لیول سے نکلنے میں، لیکن یونہی سہی! تکلیف سے نجات کے لیے پہلے تکلیف سہنے کے عمل سے تو گزرنا پڑتا ہے۔
ہمت کریں۔ زندگی کو اسکی تمام تر حقیقتوں سمیت قبول کریں۔ انکار سے نکلیں۔ ہر فلٹر ہٹا کر زندگی کو اسکے اصلی چہرے کیساتھ دیکھیں۔
یہیں سے مسائل کے حل کی طرف کا سفر شروع ہوتا ہے۔ سفر بخیر میرے دوستو!
ہم ہمیشہ ان پر بھروسہ کرتے ہیں جن کے دلوں پر ہم بھروسہ کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر نہیں، کیونکہ جسم کی طاقت کبھی کبھی اپنے مالک کو دھوکہ دیتی ہے، لیکن جذبات کی طاقت کبھی دھوکہ نہیں دیتی۔
شب بخیر
کسی دوسری دنیا میں جانے کیلئے"کتاب" ایک بہترین ذریعہ ہے
کہتے ہیں محبت میں مبتلا ایک شخص کے مطابق دنیا کی کُل آبادی صرف ایک شخص پر مشتمل ہوتی ہے۔
چنانچہ اُسے ٹیم نال کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھا دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔
میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ھیں
تم ھو تی تو ایسا ھوتا
تم ھوتی تو ویسا ھوتا
تم اس بات پہ حیراں ھوتی
تم اس بات پہ کتنا ہنستی
میں اور میری تنہا ئی اکثر
بند لفا فے بھی تجسس جگا تے ھیں ۔
کم از کم کھلنے سے پہلے تک ان میں گہر ا اسرار ھو تا ھے
تجربہ گاہ ِ محبت میں ہمیں عمر ہوئی
آتے جاتے ہیں مگر کچھ نہیں آتا جاتا
بہ لبم رسیدہ جانم
تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم
بہ چہ کار خواہی آمد _
میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے، تُو آ کہ میں زندہ رہوں، جب میں نہیں ہونگا تو اسکے بعد تیرا آنا کس کام کا۔
(امیر خسرو)
اس نے شہادت کی انگلی سے ناک کو چھوا... انگلی ناک کے چوٹی پر دو تین مرتبہ ایسے بجائی ۰۰۰ جیسا کہ ٹیچر اسٹک سے وائٹ بورڈ بجاتے ہیں ۰۰۰۰
"علی ۔۔ توں پہلاں کتھے مر گیا ہائیں "
یکدم اس نے بھنویں سکیڑ کر سوال کیا
جواب میں میری آنکھوں نے خاموشی سے اس کی کشادہ پیشانی کو دیکھا ۔۔۔ اور آہستہ سے فقط مسکرا کر رہ گیا
تب سردیاں تھیں ۔۔۔ اس نے سکن کلر کی جرابیں پہن رکھی تھیں ۔۔۔ بلیک اسکارف اسکی چاندی جیسی رنگت کو مزید نمایاں کر دیتا تھا
نیوٹن کے تمام لاء ... اس کی کشش کے سامنے ہیچ تھے...
فزکس اس کی گریوٹی کی پیمائش کر ہی نہیں سکتی تھی ...
ڈارون کی تھیوری سے بھی قدیم اس کی محبت کی گپھا ...
اور اس محبت کی زبان ...
کتاب الاموات" سے بھی ادق" ....
اس کا
دل ...
حسن بن صباح کی جنت سے بھی عجیب و غریب ....کہ جہاں فدائی
اشارے بھی پلکوں کے اٹھنے اور جھکنے سے سمجھتے ....
..
وہ قدیم معبدوں کی گھنٹیوں سے بھی پر اسرار ...
وہ آسان بھی تھی اور مشکل بھی ...
"تم میرے بارے میں کیوں نہیں لکھتے"
"یہ جو ناولز میں محبتیں ہوتی ہیں ایسی سچ مچ ہوتی ہیں کیا؟"
"علی ... پرفیوم نہ یوز کیا کرو"
"... اس سے تمھارے جسم کی خوشبو ختم ہو جاتی ہے"
جب وہ ہنستی تو سر پیچھے کی جانب کر لیتی ...
۔۔۔
اس کے ربن میں جکڑے بھورے بال ۔۔۔ اُس کی کمر پہ لہراتے ۔۔۔ اور اُس کی قوس ہوتی گردن۔۔۔۔
نشیب وفراز کو نظم کر لیتی ۔۔۔
اسکے ایک گال پہ ڈمپل بنتا ۔۔۔
اور ایسا تب زیادہ ہوتا جب وہ دونوں ہونٹ بھینچ کر سارا دباؤ نچلے ہونٹ پہ دے دیتی ۔۔۔
"علی تُساں شاعر وی ۔۔۔ ذہن کوں ویلڑاں بنڑا گھندے او"
تم ہمیشہ ایسے ہی رہنا ۔۔۔۔!
محبت کی خوبصورتی کاتقاضہ یہ ہے کہ جب دوسرے فریق کی آنکھوں میں آنسو
آئیں توجھگڑا ختم کردینا چاہئے
یونہی ہنسی ہنسی میں ہم دلو ں سے کھیل جاتے ھیں
کوئی چھو ٹی سی تیکھی بات
کوئی چبتھا ھوا لہجہ
کو ئی بے ضر ر سی ذو معنی بات
دلو ں کوگھائو لگاتی ھے
پھر کتنے ہی مرہم تلا فی کے لگاؤ
قطرہ قطرہ خون رستا ہی رہتا ھے
وہ آ نسو جو آ نکھ سے نہیں گر تا
اندر ہی کہیں جم سا جاتا ھے
برف پہ گرے مو م کے قطر ے کی طرح
اور برف تو شا ئد وقت کی گر می سے پگھل جاتی ھے...
مگر وہ قطرہ جب بھی پگھلنے لگتا ھے
پھیل جا تا ھے
اور بڑ ا ھو جا تا ھے
بس ختم نہیں ہو تا
اور ....
ہنسی ہنسی میں ہم
دلوں سے کھیل جا تے ھیں
انسان کے اب تک کے تمام گھڑے ہوئے مفروضوں میں سب سے بڑا احمقانہ مطالبہ یہ ہے کہ کوئی ہم سے محبت کرے۔
کہو وہ چاند کیسا تھا ؟
کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟
جِدھر سب کچھ لُٹا آئے
جِدھر آنکھیں گنوا آئے
کہا ، سیلاب جیسا تھا، بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے
کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟
کبھی چُھو کر اسے دیکھا
تو تُم نے کیا بھلا پایا
کہا ، بس آگ جیسا تھا ، اسے چُھو کر تو اپنی رُوح یہ تن من جلا آئے
کہو ، وہ وصل کیسا تھا ؟
تمہیں جب چُھو لیا اُس نے
تو کیا احساس جاگا تھا ؟
کہا ، اِک راستے جیسا ،جدھر سے بس گزرنا تھا ، مکاں لیکن بنا آئے
کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟
فلک سے جو اُتر آیا !
تمھاری آنکھ میں بسنے
کہا ، وہ خواب جیسا تھا ، نہیں تعبیر تھی اسکی ، اسے اِک شب سُلا آئے
کہو ، وہ عشق کیسا تھا ؟
بِنا سوچے بِنا سمجھے ،
بِنا پرکھے کیا تُم نے
کہا ، تتلی کے رنگ جیسا ، بہت کچا انوکھا سا ، جبھی اس کو بُھلا آئے
کہو ، وہ نام کیسا تھا ؟
جِسے صحراؤں اور چنچل ،
ہواؤں پر لکھا تُم نے
کہا ، بس موسموں جیسا ، ناجانے کس طرح کس پل کسی رو میں مِٹا آئے
ما ڈ رن اور طر حد ار خا تو ن اپنے پا لتو کتے کے ساتھ ما رکیٹ میں مو جو د تھیں . ایک جگہ رک کہ وہ کچھ دیکھنے لگیں تو سا تھ مو جو د فرو ٹ شا پ کے باہر لگے پھلوں کو کتا چا ٹنے لگا.خا تو ن کی اما رت سے مرعو ب دکاندا ر کتے کو نر می سے شش شش کرنے لگا خا تو ن کی تو جہ ہو ئی تو فو را پیا ر بھر ی ڈ انٹ سے بو لیں .....ایلسی !!! باز آؤ نہ سو یٹ ہا رٹ.... فروٹس دھلے ھو ئے نہیں ھیں .....
جب ہم سمجھتے ھیں کہ سب ایک جیسے نہیں ھو تے تو ہم غلطی پر ھو تے ھیں .
جب ہم سمجھتے ھیں کہ سب ایک جیسے ہی ھو تے ھیں تو ہم حقیقت شنا س ھو تے ھیں.
حقیقتیں تلخ ھو تی ھیں مگر ان کا بر وقت ما ن لینا ہمیں بہت سی تلخیو ں سے بچا لیتا ھے.
ستا رے سےد مکتے ھیں
جو کسی کے چشم حیر ان میں
ملا قا تیں جو ھو تی ھیں
جما ل ابر و با راں میں
یہ نہ آ با د وقتو ں میں
دل نا شا د میں ھو گی
محبت اب نھیں ھو گی
یہ کچھ دن بعد میں ھوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
پھر ان کی یا دمیں ھو گی
دو دوستوں میں یہ مقابلہ رہتا تھا کہ کون فجر کی نماز کے لیے پہلے مسجد میں پہنچتا ہے ۔ عبد اللّٰہ ہمیشہ ہی خالد سے پہلے مسجد میں ہوتا-
آخر ایک دن خالد نے عبداللّٰہ سے پوچھا " تم کیسے مینیج کرلیتے ہو ؟ میں نے بہت دفعہ کوشش کی لیکن کبھی تم سے پہلے فجر میں نہیں پہنچ پایا "
عبداللہ نے جواب دیا " میری دو بیویاں ہیں ۔ جو آپس میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں میری مدد کرتی ہیں ۔ یہ سب ان کی خدمت اور احسان کا نتیجہ ہے "
خالد نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ بھی دو شادیاں کرے اور ایسی کوئی مثال قائم کرے ۔ ۔ ۔
چنانچہ آج کل خالد بھی عبداللّٰہ کی طرح "مسجد میں ہی سوتا ہے-"
میں سمجھتاہوں کے آخر میں سب کچھ جانے دینے کا نام ہی زندگی ہے، پر سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے
جب آپ کو الوداع کہنے کا موقع نہیں ملتا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain