Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ یہ
ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﻣجھ ﻣﯿﮟ ﺗُﻮ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ

Offline
 

پاکستانیوں کو چاند پر جانے کی ضرورت نہیں ہے تسی سیدھا پلوٹو تے جانا کیونکہ چاند تو خود ہمارے جھنڈے پر براجمان ہے اور خیر سے ہم۔خود بھی چاند جیسے سوہنے ہیں۔۔۔تسی بجلی دے بل تھوڑے کرو بس۔تے چینی پتی سستی کراؤ۔۔۔ایڈھے تسی رہندے نئیں۔کوئی نئیں چن تاڈے تو اداس ہویا۔۔۔تسی اوتھے جا کی وی چن ای چڑھانے۔۔جیہڑے ایتھے چڑھا رہے او

Offline
 

تمہاری موجودگی
گرمیوں کی سخت دُھوپ میں
بجلی کے بغیر رہنے والے
کسی غریب کے گھر کے وسط میں لگے
گھنے درخت کے سائے کے جیسی ہے

Offline
 

اسی ایک فرد کے واسطے مرے دل میں درد ہے کس لئے
مری زندگی کا مطالبہ وہی ایک فرد ہے کس لئے
تو جو شہر میں ہی مقیم ہے تو مسافرت کی فضا ہے کیوں
ترا کارواں جو نہیں گیا تو ہوا میں گرد ہے کس لئے
نہ جمال و حسن کی بزم ہے نہ جنون و عشق کا عزم ہے
سر دشت رقص میں ہر گھڑی کوئی بادگرد ہے کس لئے
ترے حسن سے یہ پتا چلا تجھے دیکھ کر یہ خبر ہوئی
جہاں راستہ ہی نہیں کوئی وہاں رہ نورد ہے کس لئے

Offline
 

جو لکھا ہے میرے نصیب میں کہیں تو نے پڑھ تو نہیں لیا
ترا ہاتھ سرد ہے کس لئے ترا رنگ زرد ہے کس لئے
وہ جو ترک ربط کا عہد تھا کہیں ٹوٹنے تو نہیں لگا
ترے دل کے درد کو دیکھ کر مرے دل میں درد ہے کس لئے
کوئی واسطہ جو نہیں رہا تری آنکھ میں یہ نمی ہے کیوں
مرے غم کی آگ کو دیکھ کر تری آہ سرد ہے کس لئے
یہ جو نیل سا ہے فضاؤں میں کہیں زہر تو نہیں ہے وقت کا
ہے سیہ لباس میں رات کیوں ؟ جو سحر ہے زرد تو کس لیئے

Offline
 

ایک ملازم کا کہنا ہے کہ... میں نے اپنی ایک ساتھی کو ایک رقم ادھار دی اور جب میں نے اس سے مانگنا شروع کیا تو اس نے میری کال کا جواب دینے کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا.... ایک دن میں نے اسے پندرہ سے زیادہ بار فون کیا، لیکن اس نے میری کال کا جواب نہیں دیا۔ کالز.. پھر، یہ جانتے ہوئے کہ اس کا شوہر گھر سے باہر ہے، میں نے اسے ایک خط بھیجنے کا فیصلہ کیا جس میں اس نے لکھا: "ہیلو، میری جان، میں آپ کو ہمارے پاس موجود پیسوں کے لیے نہیں بلا رہا، میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں نے آپ کے شوہر کو ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی کے ساتھ اس کی گاڑی میں دیکھا ہے۔" اس کے فوراً بعد میرے فون کی گھنٹی بجی لیکن میں نے جواب کو نظر انداز کر دیا اور آدھے گھنٹے کے اندر اس نے مجھے بیس سے زائد بار کال کی اور مجھے دس ٹیکسٹ میسج بھیجے جس میں لڑکی کے بارے

Offline
 

میں پوچھا گیا اور اس کے شوہر کو کہاں دیکھا۔ لیکن میں نے اس جواب کو بھی نظر انداز کر دیا اور ایک گھنٹے میں اس کی کالز کی تعداد چالیس گنا سے تجاوز کر گئی اور آخر کار اس نے مجھے یہ کہہ کر بھیجا: آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم ملتے ہیں تاکہ آپ اپنے پیسے لیں اور مجھے بتائیں کہ کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا، یقیناً کوئی مسئلہ نہیں، میں نے جو رقم آپ کو میرے بینک اکاؤنٹ میں دی تھی، وہ مجھے بھیج دو، پھر ہم ملیں گے، تاکہ میں گاڑی کے ٹینک کو گیس سے بھر کر آپ کے پاس آؤں۔ درحقیقت، آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں، رقم میرے اکاؤنٹ میں تھی۔ پھر میں نے فون بند کر دیا اور سو گیا۔

Offline
 

ﭼﻠﻮ ﺍِﮎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ میں...
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗھ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ...!!
ﺟﮩﺎﮞ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﭽھ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ...
ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﺳﺎﺗھ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ...!!
ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ...
ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ...!!
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﮨﻮ...
ﺟﮩﺎﮞ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﺷﻨﯽ...!!
ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﻮ...
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﮐﺎ...!!
ﮨﺮ ﺍﮎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﻮ...
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ...!!
ﺳﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﻮ

Offline
 

ایک چھوٹی سی مغربی ویڈیو میں ایک بزرگ کو جھیل کنارے دکھایا گیا. بھیک کا کٹورا سامنے تھا اور ایک گتے پر لکھا تھا میں اندھا ہوں میری مدد کرو. لوگ آتے جاتے دیکھ رہے تھے کوئی مدد نہیں کر رہا تھا. ایک بچی آتی ہے وہ خالی کٹورے کو دیکھ کر گتے کے دوسری طرف کچھ لکھتی ہے اور اب وہ سمت سامنے کر دیتی ہے.
لوگ اب مدد شروع کر دیتے ہیں. کٹورا بھر جاتا ہے. بچی نے لکھا تھا " کتنا خوبصورت دن ہے لیکن میں دیکھ نہیں سکتا" بظاہر دونوں میں پیغام ایک ہی تھا کہ میں اندھا ہوں. لیکن بزرگ کے لکھے جملے میں کٹورا اس کے ہاتھ میں تھا جبکہ بچی کے لکھے جملے میں کٹورا اب دیکھتی آنکھوں نے ڈھونڈنا تھا. لوگوں نے نہ صرف ڈھونڈا بلکہ بھر بھی دیا.
کچھ لوگ اتنے بھی برے نہیں ہوتے جتنی بری وہ زبان استعمال کرتے

Offline
 

ہیں. تلخ و طنزیہ الفاظ ان کی نوک زبان پر نشتر کی طرح رہتے ہیں اور دوسروں کے جذبات و احساسات کی ان کو نہ پرواہ ہوتی ہے نہ سمجھ ہوتی ہے. لیکن جب خود کو چوٹ لگتی ہے تو پھر شکوہ کرتے ہیں. اپنا دل سامنے کرتے ہیں کہ دیکھو میرا دل کتنا اچھا ہے.
دل اکثریت کا اچھا ہوتا ہے لیکن اظہار دل کیلئے اللہ نے زبان دی ہے. رشتوں کا سب سے بہترین رابطہ وہ ہے جہاں بغیر الفاظ کے وہ سُن لیا جائے جو دوسرا کہنا چاہتا ہے. ورنہ وہ لفظ منتخب کئے جائیں جو دوسرے کیلئے تکلیف دہ نہ ہوں. ہماری اکثریت کا لیکن مسئلہ ہے کہ وہ دوسرے کو سمجھنے کیلئے سنتے ہی نہیں بلکہ جواب دینے کیلئے دوسرے کو سنتے ہیں. جہاں جواب مل گیا وہ پھر اور کچھ سننا ہی نہیں چاہتے.
اس لئے احساس کے کٹورے اکثریت کے خالی ہیں. ہجوم میں بھی ہر دوسرے بندے کو اپنا آپ تنہا لگتا ہے

Offline
 

جندڑی لٹی تئیں یار سجن
کدی موڑ مہاراں تے آ وطن
قاضی کتاباں ویکھ وے
لکھ میں تتڑی دا ویکھ وے
میڈے ہاں کلیجے نوں سیکھ وے
سڑ گیا تتی دا تن بدن
روہی دے کنڈڑے کالیاں
میڈیاں ڈکھن کناں دیاں والیاں
جتھے راتاں کالیاں جالیاں
روہی تے نہ ساڈا وطن
روہی دی عجب بہار ڈسے
جتھے میں تتڑی دا یار وسے
اوتھے عاشق لکھ تے ہزار وسے
اک میں مسافر بے وطن
یار فرید کدی آوے ہاں
مینڈی اجڑی جھوک وساوے ہاں
میں روندی نوں گل لاوے ہاں
روہی بنڑا ایس چا وطن

Offline
 

آنسوؤں کی لڑیوں سے
ہنسی کا موتی ڈھونڈ کر
ہونٹوں پر سجانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
ضبط کی حدوں کو اب
خود بھی آزمانا ہے
ان کو بھی دکھانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
رات کے اندھیرے سے
صبح کے ستارے کو
پھر سے کھوج لانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے

Offline
 

عمر بھر کی رفاقتیں
ہتھیلی پہ رکھی ریت ہیں
پھونک سے اڑانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
کتابَ زیست میں اک جگہ
وہ جو خشک پھول تھا پڑا ہوا
اسے سامنے سجانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
مشکلوں کیساتھ ہی
رکھی گئی ہے آسانی
اس آیت کو دہرانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے

Offline
 

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ احساسات ہونٹوں کے کنارے دھرے رہتے ہیں اور الفاظ نہیں پاتے۔ تو اے علیم بذات الصدور! ڈوبتے ابھرتے دل کی حالت تو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ ان کہی سمجھتا ہے۔ تو مقلب القلوب ہے۔ ہمارے ڈوبتے ڈولتے دل کو تھام لے۔ یہ دل اور اس کے معاملات تو ہی سنبھال۔ ہم پر سکون انڈیل دے۔
یا رب! ہمیں ہم جیسے لوگوں کی توجہ اور ضرورت سے بے نیاز کر دے۔
ہمیں کافی ہو جا۔

Offline
 

متاع فکر میں خودکفیل نہ ہو ، تو فکر کی چوری کرو ، جو فکر خواہ وہ کسی بھی خطہ زمین کا ہو ، کسی بھی شخص کا ہو ، کسی بھی زمانے کا ہو ، اگر وہ مفید ہے ، انسانیت پسند ہے ، ترقی پسند اور امن پسند ہے ، وہ محبت کا درس دینے والا ہے ۔۔ اس کو حرزِ جاں بنائیں ۔۔ اس کو سینے سے لگائیں ۔۔ اس کو گھول کر پی جائیں ، اس سے اپنی شخصیت کو مزین کیجئے ۔۔۔ مزید مفید اور خوبصورت انسان بننا ، خود کے ساتھ بہترین بھلائی ہے ۔۔

Offline
 

شیکسپیئر کہتا ہے کہ
’’محبت اندھی ہوتی ہے اس لئے محبت کرنے والے اپنی ان غلطیوں کو محسوس نہیں کر سکتے جو ہر لمحہ ان سے سرزد ہوتی رہتی ہیں‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ محبت کرنے والے بے شمار غلطیوں کو دہراتے ہیں، بالآخر یہ غلطیاں اس محبت کے تاج محل کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہیں،
اسی لئے لارڈ بائرن کہتا ہے کہ
’’جلد یا بدیر محبت اپنا انجام خود بن جاتی ہے‘‘،یہ محبت کرنے والے نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں، انہیں محبوب کی ہر ادا اچھی لگتی ہے، محبوب کا ہر غم اپنا غم لگتا ہے اور ہر داستان محبت کو کم و بیش اپنی ہی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں، اس لئے تو براؤننگ کہتا ہے

Offline
 

کہ
’’جو محبت کرتا ہے وہ ناممکنات کو تسلیم کرتا ہے‘‘
محبت کرنے والے کے نزدیک کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی، اس جذبے کے ساتھ وہ شہنشاہ وقت سے ٹکرا جاتا ہے، کبھی وہ تپتی ہوئی ریت پر لیٹتا ہے، کبھی سرِ دار آتا ہے، کبھی زمین میں گاڑ دیاجاتا ہے لیکن صدیاں بیت گئیں محبت اپنی افادیت کے ساتھ، اپنی ماورائی طاقت کے ساتھ بے پناہ خوبصورتی کا احساس لئے زندہ و تابندہ ہے۔
خلیل جبران کے بقول
’’محبت جذبات کے سمندر کا ٹھنڈا سانس، آسمان کا آنسو اور روح کے سبزہ زار کا تبسم ہے‘‘
کاپیڈ

Offline
 

ہم کسی اور سے منسوب ہوئے
کیا یہ نُقصان تُمہارا نہ ہوا......؟

Offline
 

زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہ اتنا اہم نہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں
اہم ترین یہ ہے کہ آپ اپنی چاہت کے لیے کس قدر کامپرومائز کرنے کے لیے تیار ہیں
مثال سے سمجھیے:
میں ایک ایتھلیٹ قسم کا جسم چاہتا ہوں
یہ چاہت اہم نہیں
اہم یہ ہے کہ اس چاہت کے لیے مجھے میرے مرغوب کھانے چھوڑنے پڑیں گے، غیر ضروری آرام ترک کرنا پڑے گا، دلچسپیاں "چھوڑ" کر ورک آؤٹ کے لیے ٹائم نکالنا پڑے گا
اپنی چاہت کے لیے یہ قربانیاں ضروری ہیں
اگر آپ یہ قربانیاں دے سکتے ہیں تو آپ کی چاہت جینوئن ہے۔ اگر نہیں چھوڑ سکتے تو آپ خود کو کامیابی سے بیوقوف بنارہے ہیں
اپنے دماغ کی ری وائرنگ کیجیے
اسے جتائیے کہ میں خود کو بیوقوف نہیں بناؤں گا
اس طرح آپ جینوئن کوشش کرسکتے ہیں، خود میں زبردست بدلاؤ لاسکتے ہیں

Offline
 

سنو !
اس وقت آسمان پہ
کوئی بھی نہیں ھے
چلو ________ !!!!
ستارے سارے توڑ لائیں ہم