ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ یہ
ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﻣجھ ﻣﯿﮟ ﺗُﻮ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ
پاکستانیوں کو چاند پر جانے کی ضرورت نہیں ہے تسی سیدھا پلوٹو تے جانا کیونکہ چاند تو خود ہمارے جھنڈے پر براجمان ہے اور خیر سے ہم۔خود بھی چاند جیسے سوہنے ہیں۔۔۔تسی بجلی دے بل تھوڑے کرو بس۔تے چینی پتی سستی کراؤ۔۔۔ایڈھے تسی رہندے نئیں۔کوئی نئیں چن تاڈے تو اداس ہویا۔۔۔تسی اوتھے جا کی وی چن ای چڑھانے۔۔جیہڑے ایتھے چڑھا رہے او
تمہاری موجودگی
گرمیوں کی سخت دُھوپ میں
بجلی کے بغیر رہنے والے
کسی غریب کے گھر کے وسط میں لگے
گھنے درخت کے سائے کے جیسی ہے
اسی ایک فرد کے واسطے مرے دل میں درد ہے کس لئے
مری زندگی کا مطالبہ وہی ایک فرد ہے کس لئے
تو جو شہر میں ہی مقیم ہے تو مسافرت کی فضا ہے کیوں
ترا کارواں جو نہیں گیا تو ہوا میں گرد ہے کس لئے
نہ جمال و حسن کی بزم ہے نہ جنون و عشق کا عزم ہے
سر دشت رقص میں ہر گھڑی کوئی بادگرد ہے کس لئے
ترے حسن سے یہ پتا چلا تجھے دیکھ کر یہ خبر ہوئی
جہاں راستہ ہی نہیں کوئی وہاں رہ نورد ہے کس لئے
جو لکھا ہے میرے نصیب میں کہیں تو نے پڑھ تو نہیں لیا
ترا ہاتھ سرد ہے کس لئے ترا رنگ زرد ہے کس لئے
وہ جو ترک ربط کا عہد تھا کہیں ٹوٹنے تو نہیں لگا
ترے دل کے درد کو دیکھ کر مرے دل میں درد ہے کس لئے
کوئی واسطہ جو نہیں رہا تری آنکھ میں یہ نمی ہے کیوں
مرے غم کی آگ کو دیکھ کر تری آہ سرد ہے کس لئے
یہ جو نیل سا ہے فضاؤں میں کہیں زہر تو نہیں ہے وقت کا
ہے سیہ لباس میں رات کیوں ؟ جو سحر ہے زرد تو کس لیئے
ایک ملازم کا کہنا ہے کہ... میں نے اپنی ایک ساتھی کو ایک رقم ادھار دی اور جب میں نے اس سے مانگنا شروع کیا تو اس نے میری کال کا جواب دینے کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا.... ایک دن میں نے اسے پندرہ سے زیادہ بار فون کیا، لیکن اس نے میری کال کا جواب نہیں دیا۔ کالز.. پھر، یہ جانتے ہوئے کہ اس کا شوہر گھر سے باہر ہے، میں نے اسے ایک خط بھیجنے کا فیصلہ کیا جس میں اس نے لکھا: "ہیلو، میری جان، میں آپ کو ہمارے پاس موجود پیسوں کے لیے نہیں بلا رہا، میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں نے آپ کے شوہر کو ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی کے ساتھ اس کی گاڑی میں دیکھا ہے۔" اس کے فوراً بعد میرے فون کی گھنٹی بجی لیکن میں نے جواب کو نظر انداز کر دیا اور آدھے گھنٹے کے اندر اس نے مجھے بیس سے زائد بار کال کی اور مجھے دس ٹیکسٹ میسج بھیجے جس میں لڑکی کے بارے
میں پوچھا گیا اور اس کے شوہر کو کہاں دیکھا۔ لیکن میں نے اس جواب کو بھی نظر انداز کر دیا اور ایک گھنٹے میں اس کی کالز کی تعداد چالیس گنا سے تجاوز کر گئی اور آخر کار اس نے مجھے یہ کہہ کر بھیجا: آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم ملتے ہیں تاکہ آپ اپنے پیسے لیں اور مجھے بتائیں کہ کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا، یقیناً کوئی مسئلہ نہیں، میں نے جو رقم آپ کو میرے بینک اکاؤنٹ میں دی تھی، وہ مجھے بھیج دو، پھر ہم ملیں گے، تاکہ میں گاڑی کے ٹینک کو گیس سے بھر کر آپ کے پاس آؤں۔ درحقیقت، آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں، رقم میرے اکاؤنٹ میں تھی۔ پھر میں نے فون بند کر دیا اور سو گیا۔
ﭼﻠﻮ ﺍِﮎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ میں...
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗھ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ...!!
ﺟﮩﺎﮞ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﭽھ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ...
ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﺳﺎﺗھ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ...!!
ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ...
ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ...!!
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﮨﻮ...
ﺟﮩﺎﮞ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﺷﻨﯽ...!!
ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﻮ...
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﮐﺎ...!!
ﮨﺮ ﺍﮎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﻮ...
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ...!!
ﺳﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﻮ
ایک چھوٹی سی مغربی ویڈیو میں ایک بزرگ کو جھیل کنارے دکھایا گیا. بھیک کا کٹورا سامنے تھا اور ایک گتے پر لکھا تھا میں اندھا ہوں میری مدد کرو. لوگ آتے جاتے دیکھ رہے تھے کوئی مدد نہیں کر رہا تھا. ایک بچی آتی ہے وہ خالی کٹورے کو دیکھ کر گتے کے دوسری طرف کچھ لکھتی ہے اور اب وہ سمت سامنے کر دیتی ہے.
لوگ اب مدد شروع کر دیتے ہیں. کٹورا بھر جاتا ہے. بچی نے لکھا تھا " کتنا خوبصورت دن ہے لیکن میں دیکھ نہیں سکتا" بظاہر دونوں میں پیغام ایک ہی تھا کہ میں اندھا ہوں. لیکن بزرگ کے لکھے جملے میں کٹورا اس کے ہاتھ میں تھا جبکہ بچی کے لکھے جملے میں کٹورا اب دیکھتی آنکھوں نے ڈھونڈنا تھا. لوگوں نے نہ صرف ڈھونڈا بلکہ بھر بھی دیا.
کچھ لوگ اتنے بھی برے نہیں ہوتے جتنی بری وہ زبان استعمال کرتے
ہیں. تلخ و طنزیہ الفاظ ان کی نوک زبان پر نشتر کی طرح رہتے ہیں اور دوسروں کے جذبات و احساسات کی ان کو نہ پرواہ ہوتی ہے نہ سمجھ ہوتی ہے. لیکن جب خود کو چوٹ لگتی ہے تو پھر شکوہ کرتے ہیں. اپنا دل سامنے کرتے ہیں کہ دیکھو میرا دل کتنا اچھا ہے.
دل اکثریت کا اچھا ہوتا ہے لیکن اظہار دل کیلئے اللہ نے زبان دی ہے. رشتوں کا سب سے بہترین رابطہ وہ ہے جہاں بغیر الفاظ کے وہ سُن لیا جائے جو دوسرا کہنا چاہتا ہے. ورنہ وہ لفظ منتخب کئے جائیں جو دوسرے کیلئے تکلیف دہ نہ ہوں. ہماری اکثریت کا لیکن مسئلہ ہے کہ وہ دوسرے کو سمجھنے کیلئے سنتے ہی نہیں بلکہ جواب دینے کیلئے دوسرے کو سنتے ہیں. جہاں جواب مل گیا وہ پھر اور کچھ سننا ہی نہیں چاہتے.
اس لئے احساس کے کٹورے اکثریت کے خالی ہیں. ہجوم میں بھی ہر دوسرے بندے کو اپنا آپ تنہا لگتا ہے
جندڑی لٹی تئیں یار سجن
کدی موڑ مہاراں تے آ وطن
قاضی کتاباں ویکھ وے
لکھ میں تتڑی دا ویکھ وے
میڈے ہاں کلیجے نوں سیکھ وے
سڑ گیا تتی دا تن بدن
روہی دے کنڈڑے کالیاں
میڈیاں ڈکھن کناں دیاں والیاں
جتھے راتاں کالیاں جالیاں
روہی تے نہ ساڈا وطن
روہی دی عجب بہار ڈسے
جتھے میں تتڑی دا یار وسے
اوتھے عاشق لکھ تے ہزار وسے
اک میں مسافر بے وطن
یار فرید کدی آوے ہاں
مینڈی اجڑی جھوک وساوے ہاں
میں روندی نوں گل لاوے ہاں
روہی بنڑا ایس چا وطن
آنسوؤں کی لڑیوں سے
ہنسی کا موتی ڈھونڈ کر
ہونٹوں پر سجانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
ضبط کی حدوں کو اب
خود بھی آزمانا ہے
ان کو بھی دکھانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
رات کے اندھیرے سے
صبح کے ستارے کو
پھر سے کھوج لانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
عمر بھر کی رفاقتیں
ہتھیلی پہ رکھی ریت ہیں
پھونک سے اڑانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
کتابَ زیست میں اک جگہ
وہ جو خشک پھول تھا پڑا ہوا
اسے سامنے سجانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
مشکلوں کیساتھ ہی
رکھی گئی ہے آسانی
اس آیت کو دہرانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ احساسات ہونٹوں کے کنارے دھرے رہتے ہیں اور الفاظ نہیں پاتے۔ تو اے علیم بذات الصدور! ڈوبتے ابھرتے دل کی حالت تو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ ان کہی سمجھتا ہے۔ تو مقلب القلوب ہے۔ ہمارے ڈوبتے ڈولتے دل کو تھام لے۔ یہ دل اور اس کے معاملات تو ہی سنبھال۔ ہم پر سکون انڈیل دے۔
یا رب! ہمیں ہم جیسے لوگوں کی توجہ اور ضرورت سے بے نیاز کر دے۔
ہمیں کافی ہو جا۔
متاع فکر میں خودکفیل نہ ہو ، تو فکر کی چوری کرو ، جو فکر خواہ وہ کسی بھی خطہ زمین کا ہو ، کسی بھی شخص کا ہو ، کسی بھی زمانے کا ہو ، اگر وہ مفید ہے ، انسانیت پسند ہے ، ترقی پسند اور امن پسند ہے ، وہ محبت کا درس دینے والا ہے ۔۔ اس کو حرزِ جاں بنائیں ۔۔ اس کو سینے سے لگائیں ۔۔ اس کو گھول کر پی جائیں ، اس سے اپنی شخصیت کو مزین کیجئے ۔۔۔ مزید مفید اور خوبصورت انسان بننا ، خود کے ساتھ بہترین بھلائی ہے ۔۔
شیکسپیئر کہتا ہے کہ
’’محبت اندھی ہوتی ہے اس لئے محبت کرنے والے اپنی ان غلطیوں کو محسوس نہیں کر سکتے جو ہر لمحہ ان سے سرزد ہوتی رہتی ہیں‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ محبت کرنے والے بے شمار غلطیوں کو دہراتے ہیں، بالآخر یہ غلطیاں اس محبت کے تاج محل کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہیں،
اسی لئے لارڈ بائرن کہتا ہے کہ
’’جلد یا بدیر محبت اپنا انجام خود بن جاتی ہے‘‘،یہ محبت کرنے والے نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں، انہیں محبوب کی ہر ادا اچھی لگتی ہے، محبوب کا ہر غم اپنا غم لگتا ہے اور ہر داستان محبت کو کم و بیش اپنی ہی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں، اس لئے تو براؤننگ کہتا ہے
کہ
’’جو محبت کرتا ہے وہ ناممکنات کو تسلیم کرتا ہے‘‘
محبت کرنے والے کے نزدیک کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی، اس جذبے کے ساتھ وہ شہنشاہ وقت سے ٹکرا جاتا ہے، کبھی وہ تپتی ہوئی ریت پر لیٹتا ہے، کبھی سرِ دار آتا ہے، کبھی زمین میں گاڑ دیاجاتا ہے لیکن صدیاں بیت گئیں محبت اپنی افادیت کے ساتھ، اپنی ماورائی طاقت کے ساتھ بے پناہ خوبصورتی کا احساس لئے زندہ و تابندہ ہے۔
خلیل جبران کے بقول
’’محبت جذبات کے سمندر کا ٹھنڈا سانس، آسمان کا آنسو اور روح کے سبزہ زار کا تبسم ہے‘‘
کاپیڈ
ہم کسی اور سے منسوب ہوئے
کیا یہ نُقصان تُمہارا نہ ہوا......؟
زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہ اتنا اہم نہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں
اہم ترین یہ ہے کہ آپ اپنی چاہت کے لیے کس قدر کامپرومائز کرنے کے لیے تیار ہیں
مثال سے سمجھیے:
میں ایک ایتھلیٹ قسم کا جسم چاہتا ہوں
یہ چاہت اہم نہیں
اہم یہ ہے کہ اس چاہت کے لیے مجھے میرے مرغوب کھانے چھوڑنے پڑیں گے، غیر ضروری آرام ترک کرنا پڑے گا، دلچسپیاں "چھوڑ" کر ورک آؤٹ کے لیے ٹائم نکالنا پڑے گا
اپنی چاہت کے لیے یہ قربانیاں ضروری ہیں
اگر آپ یہ قربانیاں دے سکتے ہیں تو آپ کی چاہت جینوئن ہے۔ اگر نہیں چھوڑ سکتے تو آپ خود کو کامیابی سے بیوقوف بنارہے ہیں
اپنے دماغ کی ری وائرنگ کیجیے
اسے جتائیے کہ میں خود کو بیوقوف نہیں بناؤں گا
اس طرح آپ جینوئن کوشش کرسکتے ہیں، خود میں زبردست بدلاؤ لاسکتے ہیں
سنو !
اس وقت آسمان پہ
کوئی بھی نہیں ھے
چلو ________ !!!!
ستارے سارے توڑ لائیں ہم
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain