ہم کسی اور سے منسوب ہوئے
کیا یہ نُقصان تُمہارا نہ ہوا......؟
زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہ اتنا اہم نہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں
اہم ترین یہ ہے کہ آپ اپنی چاہت کے لیے کس قدر کامپرومائز کرنے کے لیے تیار ہیں
مثال سے سمجھیے:
میں ایک ایتھلیٹ قسم کا جسم چاہتا ہوں
یہ چاہت اہم نہیں
اہم یہ ہے کہ اس چاہت کے لیے مجھے میرے مرغوب کھانے چھوڑنے پڑیں گے، غیر ضروری آرام ترک کرنا پڑے گا، دلچسپیاں "چھوڑ" کر ورک آؤٹ کے لیے ٹائم نکالنا پڑے گا
اپنی چاہت کے لیے یہ قربانیاں ضروری ہیں
اگر آپ یہ قربانیاں دے سکتے ہیں تو آپ کی چاہت جینوئن ہے۔ اگر نہیں چھوڑ سکتے تو آپ خود کو کامیابی سے بیوقوف بنارہے ہیں
اپنے دماغ کی ری وائرنگ کیجیے
اسے جتائیے کہ میں خود کو بیوقوف نہیں بناؤں گا
اس طرح آپ جینوئن کوشش کرسکتے ہیں، خود میں زبردست بدلاؤ لاسکتے ہیں
سنو !
اس وقت آسمان پہ
کوئی بھی نہیں ھے
چلو ________ !!!!
ستارے سارے توڑ لائیں ہم
رات کے اس پہر جب زندگی تھک کے سو جاتی ھے ۔
تو رات بو لتی ھے !!!!
زرد بلب کی مدقو ق روشنی میں چپ چاپ پڑی سیڑھیو ں کے کہیں آخری زینے کے کونے کھدرے میں چھپے ٹڈے کی خو دکلامی
اور ریل کی پٹڑ یو ں کے اس پار کرلاتے ھوئے کتے
سنسان گلی سے اٹھتی چاپ اور سیٹی پہ بجتی دھن پر کو ئی اجنبی سا گیت
کمرے کی وال کلاک کی ٹک ٹک
اور پہر یدار کی وہ سیٹی جو شہر کے مضا فا ت سے سنا ئی دیتی شہر کی فصیلو ں کے اس پار معدوم ھو جاتی ھے
رہتا تو ابھی بھی ھے وہ اسی شہر بیکراں میں
کوئے دلبراں سے آگے بستی ہجراں کے اس طرف
"ٹوٹا ہوا دل ہونا" یہ ایک اچھی علامت ہے. اس کا مطلب ہے کہ ہم نے کسی چیز کے لئے کوشش کی ہے
مجھے محبت کے بدلے تمہاری محبت نہیں چاہیے، مجھے بس اتنا یقین دلاؤ کہ تم اس کے مستحق تو ہو؟
لا تبادلني الإهتمام
فقط أقنعني أنك تستحقه
(عربی ادب)
رات یُوں دِل میں ٫ تیری کھوئی ھُوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں ، چُپکے سے بہار آ جائے
جیسے صَحراؤں میں ، ھولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو ، بے وجہ قرار آ جائے۔
"فیض احمد فیض
ڈھارس
تسلی
دلاسہ
وہ ہاتھ جو تھپکی کے لیئے شکستہ دلوں پہ اترتا ھے
وہ انگلی جو ہجوم میں کھوئے
ہم سے بے شناخت لوگوں کو تھام لیتی ھے
گر میں تم سے ملا؟
میں تمہارا استقبال
خاموشی اور آنسوؤں کے ساتھ
کرنا چا ہوں گا
اُجیاں لمیاں لال کھجوراں تہ پتر جنہاں دے ساویں
جس دم نال سانجھ ہے اساں کوں او دم نظر نہ آوے
گلیاں سنجیاں اُجاڑ دسن میں کو ،ویڑا کھاون آوے
غلام فریدا اُوتھے کی وسنا جتھے یار نظرنہ آوے
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮈﻭﺑﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ٹوٹنا ﭘﮍﮮ ﮔﺎ
بسکٹ سب کے سامنے زندہ چلتی پھرتی مثال ہے
اِس ایٹمی دَور میں عِشق فورڈ کار کی چابی گُھمانے سے سٹارٹ ھوتا ھے۔ اور محبت نامے چیک بک پر لِکھے جاتے ھیں۔ اب یہ لڑکیاں محبُوب کی بیوفائی کا سُن کر زھر کھانے کی بجائے چِکن سینڈوچ کھا کر رومال سے منہ پونچھتی ھیں اور دُوسرے محبوب ، دُوسری کار اور دُوسرے کیرئیر کی تلاش میں نکل پڑتی ھیں۔
محبت کے جذبات آج کل اسپرو کی ایک گولی کھا کر غائب ھو جاتے ھیں اور عشق کا ھیجان فروٹ سالٹ کے ایک ھی چمچ سے بھاپ بن کر اُڑ جاتا ھے۔ شادی زندگی کے کاؤنٹر پر مستقل سَودا ھے اور محبت شادی کی گاڑی کے پیچھے لٹکتا ھُوا ایک جُوتا ھے۔
"اے حمید"
افسانے "مٹی کی مونا لیزا" سے اقتباس
سعادت حسن منٹو کے اک افسانے سے اقتباس
"گلی کی نکر میں چوری ہوئی تو اگلے دن پولیس کا اک سنتری وہاں حفاظت کے لیے لگا دیا گیا اور پھر اگلے دن اگلے محلے میں چوری ہوئی تو سنتری کی ڈیوٹی وہاں لگا دی گئی. یوں چوریاں بھی آگے آگے بڑھتی رہیں اور سنتری بھی."
چلیں بات ایک گاوں کی کرتے ہیں. گاوں والے تو ویسے بھی پینڈو ہوتے ہیں. انکو معتوب کرنا آسان ہے, اب وہ ہمھارے جیسے ذہین کہاں ہوسکتے ہیں, پینڈو کہیں کے.
تو اس گاوں پر اکثر سیلاب آتے تھے, کچھ نہ کچھ نقصان ہوجاتا, کچھ بربادی رقم کرجاتا, اس گاوں کے کچھ لوگوں نے سوچا کہ کیا ہربار کا نقصان اٹھانا چلو ایک بند ہی بنا لیتے ہیں. اگلے دن انہوں نے اوزار اٹھائے اور گھر گھر آواز لگانی شروع کی, لیکن کچھ زیادہ پذیرائی نہیں ملی, ہر ایک نے مزاح ہی اڑایا, کہ اپنی شکلیں دیکھو, اپنی ذات دیکھو اور چلے ہو بند بنانے,
ان بچاروں نے سوچا کہ اس پر قائل کرنا مشکل اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا بھی مشکل تو چلو اپنی بساط پر شروعات کرتے ہیں. اب ہوا یہ
کہ وہ کام کرتے تھے اور دوسرے آس پاس بیٹھ کر اس پر بحث کرتے تھے. گاوں میں لوگ ویسے بھی ویلے ہی ہوتے ہیں. تو بحث و تبصرے کرنے والوں کی محفل گرم رہتی تھی.
کوئی اسکے نقشے پر اعتراض کرتا,
کوئی یہ رونا روتا کہ بنیاد میں بھاری پھتر رکھ لو ورنہ فائدہ نہیں.
کوئی اسکی اونچائی سے مطمئن نہیں تھا.
کوئی اسکی لمبائی سے.
ایک دوسرے کو متوجہ کر کے ہر عیب بتایا جاتا, یہ عیب منوایا جاتا,
جو جتنے عیب نکالتا, سب اس کی عقل پر واہ واہ کرتے.
کسی کو طوالت کی فکر کھائے جارہی تھی.
کوئی صرف ان کی سادگی پر ہنسنے آتا تھا.
بحث کے میدان گرم تھے.
عمل کے میدان میں افراد چند ایک ہی تھے.
گاوں کے پینڈو لوگ, انہیں انکے حال پر چھوڑیں. یہ تو جاہل ہیں.
آو مل کر اگلے سیلاب کا انتظار کریں..
مجھے خود پہ اتنا ناز پہلے کب تھا
تیرے انتخاب نے مغرور کیا مجھے
اچھا خاصا بیٹھا بیٹھا گم ہو جاتا ھوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ھوں
سنا ہے تم بھی نیم شب میں
اٹھا کے تکیہ اب نیند ڈھونڈتے ہو
كنتُ ساشتري لكِ الورد هذا الصباح
لكن الرفاقَ كانوا جياعاً
فاشتريتُ لهم الخبز
وكتبتُ لكِ قصيدة حبْ ..
محمود_درويش
میں آج صبح تمھارے لیے گلاب خریدنے جا رہا تھا۔
لیکن میرے ساتھی بھوکے تھے۔
میں نے ان کیلئے روٹی خریدی۔
اور تمھارے لیے ایک محبت بھری نظم لکھ ڈالی...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain