Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ہم کسی اور سے منسوب ہوئے
کیا یہ نُقصان تُمہارا نہ ہوا......؟

Offline
 

زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہ اتنا اہم نہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں
اہم ترین یہ ہے کہ آپ اپنی چاہت کے لیے کس قدر کامپرومائز کرنے کے لیے تیار ہیں
مثال سے سمجھیے:
میں ایک ایتھلیٹ قسم کا جسم چاہتا ہوں
یہ چاہت اہم نہیں
اہم یہ ہے کہ اس چاہت کے لیے مجھے میرے مرغوب کھانے چھوڑنے پڑیں گے، غیر ضروری آرام ترک کرنا پڑے گا، دلچسپیاں "چھوڑ" کر ورک آؤٹ کے لیے ٹائم نکالنا پڑے گا
اپنی چاہت کے لیے یہ قربانیاں ضروری ہیں
اگر آپ یہ قربانیاں دے سکتے ہیں تو آپ کی چاہت جینوئن ہے۔ اگر نہیں چھوڑ سکتے تو آپ خود کو کامیابی سے بیوقوف بنارہے ہیں
اپنے دماغ کی ری وائرنگ کیجیے
اسے جتائیے کہ میں خود کو بیوقوف نہیں بناؤں گا
اس طرح آپ جینوئن کوشش کرسکتے ہیں، خود میں زبردست بدلاؤ لاسکتے ہیں

Offline
 

سنو !
اس وقت آسمان پہ
کوئی بھی نہیں ھے
چلو ________ !!!!
ستارے سارے توڑ لائیں ہم

Offline
 

رات کے اس پہر جب زندگی تھک کے سو جاتی ھے ۔
تو رات بو لتی ھے !!!!
زرد بلب کی مدقو ق روشنی میں چپ چاپ پڑی سیڑھیو ں کے کہیں آخری زینے کے کونے کھدرے میں چھپے ٹڈے کی خو دکلامی
اور ریل کی پٹڑ یو ں کے اس پار کرلاتے ھوئے کتے
سنسان گلی سے اٹھتی چاپ اور سیٹی پہ بجتی دھن پر کو ئی اجنبی سا گیت
کمرے کی وال کلاک کی ٹک ٹک
اور پہر یدار کی وہ سیٹی جو شہر کے مضا فا ت سے سنا ئی دیتی شہر کی فصیلو ں کے اس پار معدوم ھو جاتی ھے

Offline
 

رہتا تو ابھی بھی ھے وہ اسی شہر بیکراں میں
کوئے دلبراں سے آگے بستی ہجراں کے اس طرف

Offline
 

"ٹوٹا ہوا دل ہونا" یہ ایک اچھی علامت ہے. اس کا مطلب ہے کہ ہم نے کسی چیز کے لئے کوشش کی ہے

Offline
 

مجھے محبت کے بدلے تمہاری محبت نہیں چاہیے، مجھے بس اتنا یقین دلاؤ کہ تم اس کے مستحق تو ہو؟
لا تبادلني الإهتمام
فقط أقنعني أنك تستحقه
(عربی ادب)

Offline
 

رات یُوں دِل میں ٫ تیری کھوئی ھُوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں ، چُپکے سے بہار آ جائے
جیسے صَحراؤں میں ، ھولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو ، بے وجہ قرار آ جائے۔
"فیض احمد فیض

Offline
 

ڈھارس
تسلی
دلاسہ
وہ ہاتھ جو تھپکی کے لیئے شکستہ دلوں پہ اترتا ھے
وہ انگلی جو ہجوم میں کھوئے
ہم سے بے شناخت لوگوں کو تھام لیتی ھے

Offline
 

گر میں تم سے ملا؟
میں تمہارا استقبال
خاموشی اور آنسوؤں کے ساتھ
کرنا چا ہوں گا

Offline
 

اُجیاں لمیاں لال کھجوراں تہ پتر جنہاں دے ساویں
جس دم نال سانجھ ہے اساں کوں او دم نظر نہ آوے
گلیاں سنجیاں اُجاڑ دسن میں کو ،ویڑا کھاون آوے
غلام فریدا اُوتھے کی وسنا جتھے یار نظرنہ آوے

Offline
 

ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮈﻭﺑﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ٹوٹنا ﭘﮍﮮ ﮔﺎ
بسکٹ سب کے سامنے زندہ چلتی پھرتی مثال ہے

Offline
 

اِس ایٹمی دَور میں عِشق فورڈ کار کی چابی گُھمانے سے سٹارٹ ھوتا ھے۔ اور محبت نامے چیک بک پر لِکھے جاتے ھیں۔ اب یہ لڑکیاں محبُوب کی بیوفائی کا سُن کر زھر کھانے کی بجائے چِکن سینڈوچ کھا کر رومال سے منہ پونچھتی ھیں اور دُوسرے محبوب ، دُوسری کار اور دُوسرے کیرئیر کی تلاش میں نکل پڑتی ھیں۔
محبت کے جذبات آج کل اسپرو کی ایک گولی کھا کر غائب ھو جاتے ھیں اور عشق کا ھیجان فروٹ سالٹ کے ایک ھی چمچ سے بھاپ بن کر اُڑ جاتا ھے۔ شادی زندگی کے کاؤنٹر پر مستقل سَودا ھے اور محبت شادی کی گاڑی کے پیچھے لٹکتا ھُوا ایک جُوتا ھے۔
"اے حمید"
افسانے "مٹی کی مونا لیزا" سے اقتباس

Offline
 

سعادت حسن منٹو کے اک افسانے سے اقتباس
"گلی کی نکر میں چوری ہوئی تو اگلے دن پولیس کا اک سنتری وہاں حفاظت کے لیے لگا دیا گیا اور پھر اگلے دن اگلے محلے میں چوری ہوئی تو سنتری کی ڈیوٹی وہاں لگا دی گئی. یوں چوریاں بھی آگے آگے بڑھتی رہیں اور سنتری بھی."

Offline
 

چلیں بات ایک گاوں کی کرتے ہیں. گاوں والے تو ویسے بھی پینڈو ہوتے ہیں. انکو معتوب کرنا آسان ہے, اب وہ ہمھارے جیسے ذہین کہاں ہوسکتے ہیں, پینڈو کہیں کے.
تو اس گاوں پر اکثر سیلاب آتے تھے, کچھ نہ کچھ نقصان ہوجاتا, کچھ بربادی رقم کرجاتا, اس گاوں کے کچھ لوگوں نے سوچا کہ کیا ہربار کا نقصان اٹھانا چلو ایک بند ہی بنا لیتے ہیں. اگلے دن انہوں نے اوزار اٹھائے اور گھر گھر آواز لگانی شروع کی, لیکن کچھ زیادہ پذیرائی نہیں ملی, ہر ایک نے مزاح ہی اڑایا, کہ اپنی شکلیں دیکھو, اپنی ذات دیکھو اور چلے ہو بند بنانے,
ان بچاروں نے سوچا کہ اس پر قائل کرنا مشکل اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا بھی مشکل تو چلو اپنی بساط پر شروعات کرتے ہیں. اب ہوا یہ

Offline
 

کہ وہ کام کرتے تھے اور دوسرے آس پاس بیٹھ کر اس پر بحث کرتے تھے. گاوں میں لوگ ویسے بھی ویلے ہی ہوتے ہیں. تو بحث و تبصرے کرنے والوں کی محفل گرم رہتی تھی.
کوئی اسکے نقشے پر اعتراض کرتا,
کوئی یہ رونا روتا کہ بنیاد میں بھاری پھتر رکھ لو ورنہ فائدہ نہیں.
کوئی اسکی اونچائی سے مطمئن نہیں تھا.
کوئی اسکی لمبائی سے.
ایک دوسرے کو متوجہ کر کے ہر عیب بتایا جاتا, یہ عیب منوایا جاتا,
جو جتنے عیب نکالتا, سب اس کی عقل پر واہ واہ کرتے.
کسی کو طوالت کی فکر کھائے جارہی تھی.
کوئی صرف ان کی سادگی پر ہنسنے آتا تھا.
بحث کے میدان گرم تھے.
عمل کے میدان میں افراد چند ایک ہی تھے.
گاوں کے پینڈو لوگ, انہیں انکے حال پر چھوڑیں. یہ تو جاہل ہیں.
آو مل کر اگلے سیلاب کا انتظار کریں..

Offline
 

مجھے خود پہ اتنا ناز پہلے کب تھا
تیرے انتخاب نے مغرور کیا مجھے

Offline
 

اچھا خاصا بیٹھا بیٹھا گم ہو جاتا ھوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ھوں

Offline
 

سنا ہے تم بھی نیم شب میں
اٹھا کے تکیہ اب نیند ڈھونڈتے ہو

Offline
 

كنتُ ساشتري لكِ الورد هذا الصباح
لكن الرفاقَ كانوا جياعاً
فاشتريتُ لهم الخبز
وكتبتُ لكِ قصيدة حبْ ..
محمود_درويش
میں آج صبح تمھارے لیے گلاب خریدنے جا رہا تھا۔
لیکن میرے ساتھی بھوکے تھے۔
میں نے ان کیلئے روٹی خریدی۔
اور تمھارے لیے ایک محبت بھری نظم لکھ ڈالی...