بحرِ طویل ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
'اسے کیوں ہم نے دل دیا'
مصرع اول:
اسے کیوں دیا ہم نے دل، جو ہے بے مہری میں کامل، جسے عادت ھے جفا کی، جسے چڑ مہر و وفا کی، جسے آتا نہیں آنا، غم و حسرت کا مٹانا، جو ستم میں ہے یگانہ، جسے کہتا ہے زمانہ، بے مہر دغا باز جفا، پیش فسوں ساز ستم خانہ، ہر انداز غضب جس کا، ھر اک ناز قلق و رنج کا، موجد ستم و جور کا، استاد جو جفا کاری میں ماہر، جو ستم کیش و ستمگر، جسے آتی نہیں الفت، جو سمجھتا نھیں چاھت، جو تسلی کو نہ سمجھے، جو تشفی کو نہ جانے، نہ کرے قول کو پورا، کرے ہر کام ادھورا، یہی دن رات تصور ہے، کی نا حق اسے چاہا، وہ نہ آئے نہ بلائے، نہ رہ و رسم بڑھاۓ، نہ لگی دل کی
بجھائے، نہ کوئی بات سنائے، جو کہو کچھ تو خفا ہو کے کہے شکوے کی ضرورت ہے؟ جو یہی ہے تو نہ چاہو، جو نہ چاہو گے تو کیا ہے، نہ نباھو گے تو کیا ہے، بہت اتراؤ نہ دل دے کے، کہ یہ کس کام کا دل ہے، میں جو چاھوں تو ابھی اسے رکھ دوں تلووں سے مسل کر، ابھی منہ دیکھتے رہ جاو گے کہ ھیں! ان کو ہوا کیا؟ یوں ہی میرا دل لے کے میرے ہاتھ سے کھویا
مصرعہ ثانی:
بس اسی دھیان میں ہم تھے کہ ہوئی پاؤں کی آہٹ نظر اٹھی تو یہ دیکھا کہ چلا آتا ہے وہ زہرہ جبیں ماہ مبیں طرفہ حسیں پردہ نشیں در سمیں دل کا مکیں ساتھ مگر کوئی نھیں دھک سے ہوا دل کہ یہ اس وقت کیا اس سے جو پوچھا کے بتا خیر تو ہے کیوں ادھر آیا تو جواب اس نے دیا ہنس کے کہ یونہی، تجھے کیا کام جو تو پوچھ رہا ہے کوئی قاضی ہے کہ مفتی ہے آ کے پھر بیٹھ گیا میرے پاس وہ داب کے زانو بس ادھر دیکھ ادھر دیکھ میرے دل کو ٹٹولا پر وہاں دل کا پتہ کب تھا جو ملتا اس نے ناچار کہا مجھ سے کہ کیوں جی کوئی اور بھی
جاری ہے۔۔۔
دل ہے؟ ہمیں عادت ہے ستانے کی جلانے کی دکھانے کی مٹانے کی اگر دو تو بڑا کام کرو سن کے یہ بات کہا میں نے کہ کچھ خیر تو ہے؟ ایک دل تھا سو تو لے ہی گیا دو کھیں ہوتے ہیں بھی اس دنیا میں جو تو لینے کو آیا تو وہ بولا کہ اجی جاؤ ذرا جی کو تو شرماؤ بڑا حکم اٹھایا، کھیں دیتے ہیں جواب ایسا ٹکا سا، ارے توبہ ارے توبہ چلو بیٹھے رہو باتیں نہ بناو تم یونہی منہ سے کہتے تھے ہٹو جاؤ محبت کا بھلا نام ڈبوؤ گے
مضطرؔ خیرآبادی
میں نے تمہارا انتظار کیا
جیسے قحط سالی کے موسم میں لوگ بارش کا انتظار کرتے ہیں۔
`°کبھی بارش کے موسم میں اگر میں یاد آ جاؤں
تو مٹھی میں میرے حصے کی بوندیں جذب کر لینا
تجھ کو چلتا ہوا دیکھ لیں ،،،،،،، تو چلتے بنیں
غزال _ مورنی _ موجیں _ نجوم _ ابر۔ گھڑی
کسی سے بھی زیادہ مرعوب ھونے کی ضرورت نہیں۔ اور نہ ہی کسی کو مرعوب کرنے کی ضرورت ھے۔ھر ایک کے متاثر ھونے کا اپنا ایک الگ معیار ہوتا ھے۔جیسے مکھی کا چناؤ زخم ' اور پھول ہمیشہ تتلی کا انتخاب ھوتا ھے۔
کتابوں کی طرح بہت سے الفاظ ہیں مجھ میں
اور کی کتابوں کی طرح ہی میں خاموش رہتا ہوں
انتیس سالہ کیٹ اوگ برسبین آسٹریلیا کی ایک ماں تھی. اس کے ہاں جڑواں بچوں کی ولادت متوقع تھی. 25 مارچ 2010 کو اس کے جڑواں بچے لڑکی ایملی اور لڑکا جیمی پیدا ہوئے. لڑکی نارمل پیدا ہوئی لیکن لڑکا سانس نہ لے پایا. ڈاکٹروں نے بیس منٹ کوشش کی اور پھر کیٹ اور اس کے شوہر ڈیوڈ کو بتا دیا گیا جیمی زندہ نہیں ہے.
کیٹ نے مطالبہ کیا مجھے میرا بچہ دے دو. اسے بچہ دے گیا جسے اس نے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا. کچھ دیر بعد بچے کے بدن میں حرکت ہوئی. ڈیوڈ نے ڈاکٹروں کو بتایا تو ڈاکٹروں نے چیک کر کے اسے کہا یہ دماغ کا ریفلکس ہے. بچہ زندہ نہیں. کیٹ لیکن بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی رہی. دو گھنٹے بعد معجزہ ہوگیا. جیمی نے آنکھیں کھول دیں.
پرانے دور میں جب انکیوبیٹر نہیں ہوتے تھے تب ماں
کی گود ہی انکیوبیٹر کا کردار ادا کرتی تھی. آج بھی آسٹریلیا میں ہی کینگرو ماں کے پیٹ میں بنا تھیلا اس کے بچوں کا انکیوبیٹر ہوتا ہے جسے کینگرو کئیر کہتے ہیں. انکیوبیٹر وہ ڈبہ گود یا گھونسلا ہے جہاں بچے کو ایک ایسا بہترین ماحول دیا جاتا ہے جو اس کی زندگی قائم رکھے. جہاں اسے زندہ رہنے کیلئے فطرت سے جنگ نہ کرنا پڑے. یہاں تک کہ وہ اس کے قابل نہ ہو جائے.
ہمارے اکثر خواب اسی لئے مرجاتے ہیں کہ ہم ان کو پیدا تو کردیتے ہیں. لیکن جب دُنیا والے ہمیں کہتے ہیں تمہارا خواب مردہ ہے تو ہم ان کو فوراً دفن کر دیتے ہیں. آپ کے بھی وہی خواب حقیقت کا معجزہ بنتے ہیں جن کو آپ کی ممتا ملتی ہے. جن کو آپ اپنے سینے سے لگائے رکھتے ہیں. ماں کا رشتہ بہت کرشمہ ساز ہے دوستو.
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
دنیا کیلئے ہوتی ہونگی
مونگ کی دال، ماش کی دال ، مسور کی دال
میرے لیے تو بس پیلی، کالی اور سفید دالیں ہوتی ہیں
وہ ہے بادلوں میں چھپے چاند کی طرح
کبھی روبرو, کبھی لاپتہ
ایک طالب علم نے استاد سے پوچھا انا کیا ہے.؟ استاد نے طالب علم سے کہا تم کون ہو.؟ طالب علم نے اپنا نام بتایا. استاد نے کہا اس نام کے تو ہزاروں افراد ہوں گے. تم کون ہو.؟ طالب علم نے ولدیت بتائی کہ فلاں کا بیٹا ہوں. استاد نے کہا یہ تو ولدیت ہے تم کون ہو.؟
طالب علم نے اپنی قوم نسل قبیلہ ملک بتایا. لیکن استاد پوچھتا رہا کہ یہ تو ہزاروں لاکھوں کی نسلی پہچان ہے. تم کون ہو.؟ شاگرد نے آخر میں کہا میں انسان ہوں. استاد نے کہا دنیا میں جانداروں کی ہزاروں اقسام ہے. اس میں انسان بھی ایک
قسم ہے. ان انسانوں میں تم کون ہو؟ شاگرد نے آخر تلملا کر کہا میں " میں" ہوں.
کسی بھوکے کو کھانا کھلانا انسانیت و ثواب کا کام ہے. لیکن اسی عمل کی تصویر سوشل میڈیا پر لگانا انا کا مسئلہ ہے. انا انسان کی "میں" ہے. یہ جب اپنی ذات میں رہے تو انسانیت و بندگی کا سفر شروع کر کے خودداری بن جاتی ہے. لیکن اگر یہ باہر کا سفر شروع کردے تو میں میں کا ایک طویل سفر شروع ہو جاتا ہے. اسے اب سب کو یہ بتانا ہوگا وہ کون ہے.
یہ بڑا طویل اور تھکا دینے والا سفر ہے. آپ تھک جائیں گے لیکن نفس و انا کی بھوک نہیں مٹے گی. کیونکہ ہر دوسرے دن کوئی فرد کوئی موقع کوئی مقام آپ سے پوچھے گا آپ کون ہیں.؟
تیرے خیال سے نکل ہی نہیں پاتے
روز اک تصویر نئی بنا لیتے ھیں
کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں
ساتھ ہوں منتظر تمہارا ہوں
مجھ سے پوچھا مرا تعارف جو
کہہ دیا مختصر تمہارا ہوں
خود جو ٹوٹا تجھے بنانے میں
میں وہی کوزہ گر تمہارا ہوں
ہو سکے تم نہ میرے پل کے لئے
اور میں عمر بھر تمہارا ہوں
سایہ میرا تو میرے بس میں نہیں
پر ہے وعدہ شجر تمہارا ہوں
ہم کو منظور ہر قیامت ہے
وہ جو کہہ دے اگر تمہارا ہوں
روک رکھا ہے ایک صحرا نے
ضد کرے میں ہی گھر تمہارا ہوں
تم تو دنیا کے ہوگئے ابرک
اور میں بے خبر تمہارا ہوں
بیو ی جب میں مر جا ئو ں گی تو تمہیں میرے جیسی بیوی نہیں ملے گی۔
شو ہر مگر میں تمہار ے جیسی تلا ش ہی کیو ں کروں گا۔
آج تمہارا ڈرا ئیو نگ کا ٹیسٹ تھا کیا بنا؟؟؟
ٹیسٹ لینے وآلا زخمی حا لت میں ہسپتا ل پڑ ا ھے ہوش میں آیئگا تو رزلٹ بتائے گا۔
بس میں نوجو ان کا ھا تھ بو ڑھے کی جیب سے ٹکرا یا تو اس نے گبھر ا کے کہا کیا کر رھے ہو؟
نوجو ان نے فو را کہا
بی.اے
گورنمنٹ کا لج سے
تمہاری آنکھیں بغداد کی مانند ہیں۔ سوختہ حال و رنجیدہ لیکن پھر بھی جاذب و پُر کشش
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain