اسباق بتا کر نہ تو صفحات بتا کر احساں کرو پیپر کے سوالات بتا کر آرام سے جاتی ہے سہیلے سے وہ ملنے امی کو سہیلی سے ملاقات بتا کر تجھ کو جو بتایا ہے بتانا نہ کسی کو پھیلاتی ہیں یونہی وہ ہر اک بات بتا کر 🤧🤧🤧
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں 💫🖤💫
جا کر بھی میری آنکھ سے اوجھل تو نہیں ہے تُو بھی میری مشکل ہے، میرا حل تو نہیں ہے منزل ہو، اجالے ہوں، بہاریں ہوں کہ ہو تم یاں کوئی کسی کا بھی مسلسل تو نہیں ہے 💫🖤💫
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain