ہر روز دل اداس ہوتا ہے اور شام گزر جاتی ہے۔
ایک روز شام اداس ہوگی اور ہم گزر جائینگے
Prince
ہم لوگ بھی کتنے عجیب ہیں نا
نشانیاں محفوظ رکھتے ہیں اور لوگوں کو کھو دیتے ہیں
نہ جانے کیا لکھا ہے تقدیر میں جسے چاہو چھوڑ کر چلا جاتا ہے
محبت سیکھا کر جدا ہو گیا۔
نہ سوچا نہ سمجھا خفا ہوگیا۔
کس کس کو ہم اپنا کہیں۔
جو اپنا تھا وہی بے وفا ہو گیا