کیا آپ نے یہ سوچا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ نے یہ کیوں فرمایا کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چھکنا ہے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہر ذی روح کو موت آنی ہے! آپ نے کبھی اس لفظ "ذائقہ" جس کو انگلش میں TASTE کہتے ہیں پر غور کیا ہے۔۔؟؟؟سائنس کہتی ہے کہ ہرانسان کی چھکنے کی حس مختلف ہوتی ہے، اگر کسی کو کوئی چیز پسند ہی نہیں تو اسے اسکا ذائقہ برا ہی لگے گا چیز کا ذائقہ اس میں ڈالے گئے اجزاء پر منحصر ہوتا ہے اس لئے ہر شخص کی موت کا ذائقہ اسکے اعمال کے مطابق ہو گا اسکا ذائقہ دوسروں کی موت سے مختلف ہو گا۔۔۔ "یہ آپکی موت ہے تو اسکا ذائقہ بھی آپ ہی کو چکھنا ہو گا یہاں پر ہر چیز ختم ہوتی ہے ، پیسہ ، وقار ،عزت ،اکڑ ،غرور، نفر ت اور منصب اور صرف عمل باقی رہتا ہے .. اللّٰہ ہمارا خاتمہ ایمان پر نصیب فرمائے ، آمین