جب آپ کسی کو اپنا پسندیدہ بناتے ہیں اسے اپنی ماں سے ضرور ملوائیے اور اس انسان کے بارے میں ماں جو رائے دے اسے غور سے سنے جب ماں کہہ دے یہ انسان جو دیکھتا ہے وہ نہیں اتنا نا بھروسا کرو دیکھو تم نے غلط انسان چن لیا تمہیں لوگوں کی پہچان نہیں تو خدارا ماں کی بات سن کے ماں کو دشمن نا سمجھ لینا ان کی بات پہلے سننا اور پہلی فرصت میں اپنے پسندیدہ کو عام کر دینا ورنہ تمہارا پسندیدہ انسان ہی تمہیں وہ تماچا مارے گا کہ اس تھپڑ کی آواز اور گال پر اس کی سنسناہٹ تمہیں قبر تک نہیں بھولے گی ورنہ زیبی کی طرح تہی دامن رہ جائے گے آپ Zebi ✍🏻
⛔ ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے مشورہ: شادی ایک مقدس اور پختہ عہد سے شروع ہوتی ہے، اس لیے اسے جذبات اور خواہشات کی ایماء پر نہیں چھوڑنا چاہیے تاکہ اسے تباہ کر دیا جائے۔ اپنے ساتھی کو آپ کی کاپی بننے پر مجبور نہ کریں۔ ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ ہر ایک کی اپنی شخصیت ہوتی ہے، اور یہ کہ عورت کی شخصیت اور سوچنے کا انداز مرد کی طرح نہیں ہوتا۔ لہذا، ہر شخص کی اپنی خوبیاں تسلیم کریں اور سمجھوتہ ہی حل ہے۔
مجھ سے دور ہو تو خود کو سنبھالے رکھنا لوگ پوچھیں گے کیوں پریشان ہو تم، کچھ نگاہوں سے کہنا، زبان پہ تالے رکھنا نہ کھونے دینا میرے بیتے لمحوں کو، میری یادوں کو بڑے پیار سے سنبھالے رکھنا تم لوٹ آو گے اتنا یقین ہے مجھ کو، میرے لئے کچھ وقت نکالے رکھنا دل نے بڑی شدت سے چاہا ہے تمہیں، میرے لئے اپنے انداز وہی پرانے رکھنا ❤️❤️Sw
ہم نے محبت میں کوئی غلطی نہیں کی تھی، بس ہم ان دلوں کی طرف بڑھتے گئے جو ہمارے نصیب میں کبھی تھے ہی نہیں۔ ہم نے اپنی امیدیں، اپنی چاہتیں، اور اپنی دعائیں ان کے قدموں میں رکھ دیں جن کے لیے ہم کبھی بھی اپنی حقیقت میں اہم نہ تھے۔ اور پھر سزا ملی، ایسی سزا جو صرف دکھ نہیں دیتی بلکہ انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ یہ سزا یہ سکھا گئی کہ محبت گناہ نہیں، لیکن 'غلط دلوں کا انتخاب' سب سے بڑا عذاب ہے۔" 🖤🍂
جن سے محبت کا دعوٰی ہوتا ہے ناں، انہیں اتنی آسانی سے دنیا میں گم ہونے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا! انہیں پاس رکھنے کے لیے آخری حد تک کوشش کی جاتی ہے۔💐🫶 ___*(🌻🦋🫠
کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ......ایک دن ہم......ایک دوسرے سے ہی......محروم ہو جائیں گے......محبت کا مینار......منہ کے بل گر جاۓ گا...... میں تو اس کے ساتھ......بوڑھا ہونا چاہتا تھا......اس کے جھڑیوں والے......جھولتے ہاتھوں سے......"ہاٹ اینڑ سار" سوپ پینا چاہتا تھا......آنکھوں کی بینائی کمزور ہونے کے بعد......دن کی روشنی میں......اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لا کر......اسے دیکھنا چاہتا تھا......وہ بھی کون سا کم تھی......تسبیح کے دانوں پر پروردگار کا......نام لیتے ہوۓ......مانگتی تھی مجھے.... ایک دن بڑے پیار سے پوچھنے لگی..."سنو تم بوڑھے ہو جاؤ گے تب...کیا تم چڑچڑے ہو جاؤ گے..بڑھے بابوں کی....." میں نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا."نہ.نہ.چڑچڑے تو وہ ہوتے ہیں..جو تمام عمر..محبت سے..محروم رہے ہوں...تم نے میر
ایک فلسفی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کیسی عورت سے شادی کرنا پسند کرینگے ۔۔ فلسفی نے جواب دیا ۔۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ اتنی خوبصورت ہو کہ میرے علاوہ اور لوگ بھی پسند کریں نہ ہی اتنی بدصورت کہ میں بیزار ہوجاؤں نہ اتنی لمبی ہو کہ میں ایڑی کے بل ہو کر بات کروں اور نہ ہی اتنی پست قد کہ جھکنا پڑے نہ اتنی موٹی کے دروازہ گھیر کر رکھے نہ ہی اتنی پتلی کے مجھے وہ محض ایک خیالی جسد لگے نہ موم کیطرح سفید نہ بھوت کیطرح کالی نہ اتنی جاہل کہ مجھے سمجھ ہی نہ سکے اور نہ ہی اتنا علم ہو کہ مجھ سے بحث ہی کرتی رہے ۔۔ خیر سے مرحوم کنوارے مرگئے۔۔۔۔ 😁
( اج کی پوسٹ ماؤں کے نام ) میں نے نو ماہ انہیں اپنے پیٹ میں پالا ❤️ میں انہیں اس دنیا میں لائی، اپنے جسم کی سات تہوں کو چیر کر 👩🦰 میں نے ان کے ننھے وجود کی خاطر ان گنت دن اور راتیں قربان کر دیں 💝 میں نے اپنے جسم سے انہیں دودھ پلایا، اپنی جان کا ہر قطرہ ان کے نام کیا 🙂 میں ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کی خاطر اپنا کھانا اور اپنا سکون بھول گئی 🥰 ویکسینیشن کے دنوں میں، میں ان کے ساتھ روئی ہوں 😒 میں نے اپنی خوشیاں تیاگ دیں اور صرف تب سکون پایا جب وہ ٹھیک تھے 😢 اس لیے مجھے یہ مت سکھاؤ کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے — میں کسی بھی انسان سے بہتر جانتی ہوں ☝️😡 ان کی بہتری، ان کی خوشی، میں سب سے زیادہ سمجھتی ہوں ❤️
ہماری روحیں وقت سے پہلے بوڑھی ہو چکی ہیں۔ ان پر تجربوں کی جھریاں ہیں، سوالوں کا بوجھ ہے، اور خاموش تھکن ہے۔۔۔ ہماری عقلیں جیسے کسی انجانی گلی میں بھٹک گئی ہوں، جہاں راستے تو بہت ہیں مگر سمت کوئی واضح نہیں۔۔ یوں لگتا ہے ہم نے ایسی زندگی گزار لی، جس کے لیے نہ دل تیار تھا، اور نہ ہی دماغ۔۔ ہم نے مسکرانا تو سیکھ لیا، مگر خوش ہونا بھول گئے۔۔۔ سمجھوتے اتنے کیئے کہ اپنی اصل پہچان ہی کہیں پیچھے رہ گئی۔۔۔ ہم وہ عمر گزار آئے، جس میں سیکھنا تھا کہ جینا کیا ہے..،؟ اور اب جینا سیکھ رہے ہیں, اس احساس کے ساتھ کہ کچھ زخم ہماری ناسمجھی سے پہلے کے ہیں۔۔۔ یہ تھکن جسم کی نہیں ہے، یہ بوجھ ہے، ادھورے فیصلوں اور نا مکمل خواہشوں کے، جسے جسم خاموشی سے روح پر رکھ دیتا ہے۔۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain