نماز عشق ہے یہ____ خوامخواہ نہیں ہوتی ہر ایک شخص سے____ تو یہ ادا نہیں ہوتی خیال یار میں گزریں_____ یونہی زمانے پھر صلوۃ عشق میں پھر مغرب عشاء نہیں ہوتی
۰"اسے میں نے ہی کہا تھا" کہ لہجے برف ہوجائیں تو پھر پگھلا نہیں کرتے،، پرندے ڈر کر اڑ جائیں تو پھر لوٹا نہیں کرتے،، یقیں اک بار اٹھ جائے کبھی واپس نہیں آتا اسے میں نے ہی لکھا تھا۔۔۔ جو شیشہ ٹوٹ جائے تو کبھی پھر جڑ نہیں پاتا،،
کیوں کسی اور کو دکھ درد سناؤں اپنے اپنی آنکھوں سے بھی میں زخم چھپاؤں اپنے میں تو قائم ہوں تیرے غم کی بدولت ورنہ یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے شعر لوگوں کے بہت یاد ہیں اوروں کے لئے توں ملے تو میں تجھے شعر سناؤں اپنے تیرے رستے کا، جو کانٹا بھی میسر آئے میں اسے شوق سے کالر پر سجاؤں اپنے سوچتا ہوں کہ بجھا دوں میں یہ کمرے کا دیا اپنے سائے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے اس کی تلوار نے وہ چال چلی ہے اب کہ پاؤں کٹتے ہیں اگر ہاتھ بچاؤں اپنے آخری بات مجھے یاد ہے اس کی انور روگ اُس کا نہ میں دل سے لگاؤں اپنے
ہم صاحبِ انا ہیں___ہمیں تنگ نہ کیجئے!! مغرور، بے وفا ہیں___، ہمیں تنگ نہ کیجئے ہم کون ہیں؟ کہاں ہیں؟ اِسے بھول جائیے___! جیسے ہیں، جہاں بھی ہیں__ہمیں تنگ نہ کیجئے!!
میں شاعری نہیں لکھتی میں تو تمہاری دھڑکنوں سے سر چراتی ہوں تمہاری آنکھوں سے خواب چنتی ہوں اور تمہارے ہونٹوں سے نظمیں کشیدتی ہوں میں شاعری نہیں لکھتی میں تو تمہیں جیتی ہوں لفظ بہ لفظ نظم بہ نظم
میری آنکھوں سے تیری یاد کا سایہ نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔۔ میں نے مان لیا تم کو بھلایا نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔۔ اک مدت سے تیرا نام لکھا تھا دل پر میں کیا کروں وہ مجھ سے مٹایا نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔💘💘💘💘💘💘💘💘💘