Yaad Mujhko Kaun Aaya Raat Bhar
dil Jala Toh Bujh Na Paaya Raat Bhar
ek Jara Si Muskurahat Ka Asar
chain Khoya Dil Gawaya Raat Bhar
yeh Hawa Chupkese Aakar Keh Gayi
chandni Chat Par Akeli Reh Gayi
tumne Kyo Yeh Dil Jalaya Raat Bhar
dil Jala Toh Bujh Na Paaya Raat Bhar
karwatein Bechainiya Leti Rahi
naram Palkein Nam Meri Hoti Rahi
sona Chaha So Na Paaya Raat Bhar
dil Jala Toh Bujh Na Paaya Raat Bha
!
K tarap kr guzar jae gaa
DIN..
“DOST”
Tum yad na kro ge to kya
SHAAM na ho gi…?
Tarah se.
“Dost”
“K e Neend to aa rahi hai magar Dil sona
nahi chahta…!
“G(0,0)(0 ,0)D NIGHT”
khuda hafizz good night 
baqiya hisa
میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
wo tarana jo men shoq say gun, gunata hun
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں
اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو
یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو
good morning
تم بھی تنھا تھے ھم بھی تنھا تھے مل کے رونے لگے
ایک جیسے تھے دونوں کے غم دوا ھونے لگے
آئو سجدہ کریں عالمِ مدھوشی میں
لوگ کھتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں۔۔
بھت پیار کرتے ہیں تم کو صنم
قسم چاھے لے لو۔۔ خدا کی قسم
ساغر کی بانہوں میں موجیں ہیں کتنی
ھم ان کو چاہیں گے جب تک ہے دم۔۔۔
"اے خاصۂ خاصانِ رسُل ! وقتِ دُعا ھے"
اشکوں کی روانی سے عجب حشر بپا ھے
گھر گھر میں شب و روز فقط آہ و بُکا ھے
جس سمت نظر کیجے، عزا خانہ کُھلا ھے
کیا کاتبِ تقدیر ھمیں بُھول گیا ھے ؟؟؟
ھے سارا جہاں درپئے آزار ھمارے
بُجھتے ھی چلے جاتے ھیں اُمّت کے ستارے
نُقصان پہ نُقصان، خساروں پہ خسارے
دے دیجے دُعا تاکہ خُدا حال سنوارے
یہ وقت غُلامانِ محمد پہ کڑا ھے !
ے ہودگی کی پرانی رسم کو بھی نیا رواج کہتے ہیں
تری سنت و شریعت کو بھی قدیم آج کہتے ہیں
بے حیائی کو ترقی و زندہ قوموں کا تا ج کہتے ہیں
جس زہر سے مر گئیں قومیں اسی کو فگار امہ کا علاج کہتے ہیں
جہاں رونق ہے ترے اسوہ کی اسے ظالم سماج کہتے ہیں
دین و غیرت کی قربانی کو آزادیٴ بیمثال کا خراج کہتے ہیں
اے تہذیب غرب نہ چھیڑ کر تو اس مشرق نما سے
تری انتہا ہے غروبی ہماری تو آئی ہے سمآ سے
سینے تو بہت ہیں مگر ان میں قلب مومن نہیں
ہم پہ رحمت ہے عنایت ہے نبوت انکی
ہم تو قاصر ہیں بیاں کرنے سے شفقت انکی
دل میں اتری ہے کچھ اس طرح محبّت انکی
صدقے ماں باپ کروں ایسی ہے الفت انکی
رب نے لکھ دی ہے جو قرآں میں فضیلت انکی
اب کوئی ہم میں سے کیا لکّھے گا مدحت انکی
ہم ہیں عشّاقِ نبی شہر مدینہ سے ہمیں
آج بھی ملنے چلی آتی ہے نکہت انکی
اپنے محبوب کو پہلے تو بنایا اس نے
اور پھر جز کیا ایماں کا رسالت انکی
گو کہ بھیجا انھیں کل نبیوں میں سب سے آخر
ہاں مگر رکھ دی سبھی نبیوں پہ سبقت انکی
انکی آواز پہ آواز کو حاوی جو کریں
رب نے قرآن میں کر دی ہے مذمّت انکی
پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا
گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں
ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا
کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
soldiar
ترے نام کی تھی جو روشنی اسے خود ہی تونے بھجھا دیا
نہ جلاسکی جسے دھوپ بھی اَسے چاندنی نے جلادیا
میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا مجھے آپ اپنی خبر نیہں
وہ شخص تھا میرا رہنما اُسے راستوں میں گنوادیا
جسے تو نے سمجھا رقیب تھا وہی شخص تیرا نصیب تھا
ترے ہاتھھ کی وہ لکیر تھا اسے ہاتھھ سے ہی مٹادیا
مجھے عشق ہے کہ جنون ہے ابھی فیصلہ ہی نہ ہوسکا
مرا نام زینت ِدشت تھا مجھے آندھیوں نے مٹا دیا
یہ اداسیوں کا جمال ہے کہ ہمارا اوجِ ِکمال ہے
کبھی ذات سے چھپا لئیا کبھی شہر بھر کو بتا دیا
مری عمر کا ابھی گلستان تو کھلا ہوا ضرور پر
وہ پھول تھے تیری چاہ کے انھیں موسموں نے گرا دیا ،
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain