Damadam.pk
RajaAyyanAli's posts | Damadam

RajaAyyanAli's posts:

RajaAyyanAli
 

Yaad Mujhko Kaun Aaya Raat Bhar
dil Jala Toh Bujh Na Paaya Raat Bhar
ek Jara Si Muskurahat Ka Asar
chain Khoya Dil Gawaya Raat Bhar
yeh Hawa Chupkese Aakar Keh Gayi
chandni Chat Par Akeli Reh Gayi
tumne Kyo Yeh Dil Jalaya Raat Bhar
dil Jala Toh Bujh Na Paaya Raat Bhar
karwatein Bechainiya Leti Rahi
naram Palkein Nam Meri Hoti Rahi
sona Chaha So Na Paaya Raat Bhar
dil Jala Toh Bujh Na Paaya Raat Bha

RajaAyyanAli
 

!
K tarap kr guzar jae gaa
DIN..
“DOST”
Tum yad na kro ge to kya
SHAAM na ho gi…?

RajaAyyanAli
 

Tarah se.
“Dost”
“K e Neend to aa rahi hai magar Dil sona
nahi chahta…!
“G(0,0)(0 ,0)D NIGHT”

RajaAyyanAli
 

khuda hafizz good night .r8

RajaAyyanAli
 

baqiya hisa
میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے

RajaAyyanAli
 

wo tarana jo men shoq say gun, gunata hun
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں
اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو
یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو

RajaAyyanAli
 

good morning

RajaAyyanAli
 

تم بھی تنھا تھے ھم بھی تنھا تھے مل کے رونے لگے
ایک جیسے تھے دونوں کے غم دوا ھونے لگے

RajaAyyanAli
 

آئو سجدہ کریں عالمِ مدھوشی میں
لوگ کھتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں۔۔

RajaAyyanAli
 

بھت پیار کرتے ہیں تم کو صنم
قسم چاھے لے لو۔۔ خدا کی قسم

RajaAyyanAli
 

ساغر کی بانہوں میں موجیں ہیں کتنی
ھم ان کو چاہیں گے جب تک ہے دم۔۔۔

RajaAyyanAli
 

"اے خاصۂ خاصانِ رسُل ! وقتِ دُعا ھے"
اشکوں کی روانی سے عجب حشر بپا ھے
گھر گھر میں شب و روز فقط آہ و بُکا ھے
جس سمت نظر کیجے، عزا خانہ کُھلا ھے
کیا کاتبِ تقدیر ھمیں بُھول گیا ھے ؟؟؟
ھے سارا جہاں درپئے آزار ھمارے
بُجھتے ھی چلے جاتے ھیں اُمّت کے ستارے
نُقصان پہ نُقصان، خساروں پہ خسارے
دے دیجے دُعا تاکہ خُدا حال سنوارے
یہ وقت غُلامانِ محمد پہ کڑا ھے !

RajaAyyanAli
 

ے ہودگی کی پرانی رسم کو بھی نیا رواج کہتے ہیں
تری سنت و شریعت کو بھی قدیم آج کہتے ہیں
بے حیائی کو ترقی و زندہ قوموں کا تا ج کہتے ہیں
جس زہر سے مر گئیں قومیں اسی کو فگار امہ کا علاج کہتے ہیں
جہاں رونق ہے ترے اسوہ کی اسے ظالم سماج کہتے ہیں
دین و غیرت کی قربانی کو آزادیٴ بیمثال کا خراج کہتے ہیں
اے تہذیب غرب نہ چھیڑ کر تو اس مشرق نما سے
تری انتہا ہے غروبی ہماری تو آئی ہے سمآ سے
سینے تو بہت ہیں مگر ان میں قلب مومن نہیں

RajaAyyanAli
 

ہم پہ رحمت ہے عنایت ہے نبوت انکی
ہم تو قاصر ہیں بیاں کرنے سے شفقت انکی
دل میں اتری ہے کچھ اس طرح محبّت انکی
صدقے ماں باپ کروں ایسی ہے الفت انکی
رب نے لکھ دی ہے جو قرآں میں فضیلت انکی
اب کوئی ہم میں سے کیا لکّھے گا مدحت انکی
ہم ہیں عشّاقِ نبی شہر مدینہ سے ہمیں
آج بھی ملنے چلی آتی ہے نکہت انکی
اپنے محبوب کو پہلے تو بنایا اس نے
اور پھر جز کیا ایماں کا رسالت انکی
گو کہ بھیجا انھیں کل نبیوں میں سب سے آخر
ہاں مگر رکھ دی سبھی نبیوں پہ سبقت انکی
انکی آواز پہ آواز کو حاوی جو کریں
رب نے قرآن میں کر دی ہے مذمّت انکی

RajaAyyanAli
 

پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا
گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں

RajaAyyanAli
 

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے

RajaAyyanAli
 

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

RajaAyyanAli
 

وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا
کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے

RajaAyyanAli
 

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
soldiar

RajaAyyanAli
 

ترے نام کی تھی جو روشنی اسے خود ہی تونے بھجھا دیا
نہ جلاسکی جسے دھوپ بھی اَسے چاندنی نے جلادیا
میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا مجھے آپ اپنی خبر نیہں
وہ شخص تھا میرا رہنما اُسے راستوں میں گنوادیا
جسے تو نے سمجھا رقیب تھا وہی شخص تیرا نصیب تھا
ترے ہاتھھ کی وہ لکیر تھا اسے ہاتھھ سے ہی مٹادیا
مجھے عشق ہے کہ جنون ہے ابھی فیصلہ ہی نہ ہوسکا
مرا نام زینت ِدشت تھا مجھے آندھیوں نے مٹا دیا
یہ اداسیوں کا جمال ہے کہ ہمارا اوجِ ِکمال ہے
کبھی ذات سے چھپا لئیا کبھی شہر بھر کو بتا دیا
مری عمر کا ابھی گلستان تو کھلا ہوا ضرور پر
وہ پھول تھے تیری چاہ کے انھیں موسموں نے گرا دیا ،