ھمیں آتی ھے سرداری اپنے زوربازو پر،
بزدلوں کی طرح ھم بادشاھوں کی غلامی نہین کرتے
مرتے ہیں، اٹھتے ھیں پر جھکتے نہیں،
ای میرے وطن تیرے یہ لال کبھی بکتے نہیں
حسن کی تعریف نھیں چاھیئے مجھ کو
مجھے اپنے سے زیادہ اس وردی پے مان ھے
تیرے انداز سے بھی ڈرتے ہیں دشمن
تیری للکار سے پھر کیا حال ھوتا ھوگا
یھ وردی کا بھرم ہے
پھنتا عام سا لڑکا ھے
پر لگتا شہزادہ ھے
کھیں جواب دینے کو بہی جی نھیں کرت
کہیں سلام سے پھلے سلام کرتا ہوں
وطن پھلی
اور تم آخری محبت ہو
سولجر
تمھارے ھوتے ھوئے غیر کا دلاسہ ھے
تمہیں پتا ھے، یہ کتنا بڑا طماچہ ھے
انتظار ہمیشہ رہے گا
مگر
آواز نھیں دونگا
منتیں پوری ھوں یا نھیں
در بدلے نھیں جاتے
جواب تو تیرے ھر سوال کا تھا۔
لاجواب تو مجھے تیرا لہجہ کرگیا فوجی
فرق پھلے پڑتا تہا
اب تو اثر بھی نھیں ھوتا
سنو
اسے کھنا مرگیا وہ جو روز تم پر مرتا تہا۔ ۔فوجی
شکایت نہیں تجربہ ھے، قدر والوں کی کوئی قدر نہیں کرتا
لعنت بہیجو آج ھم پر، وقت گزاری کا ھم پر الزام آیا۔
بدلی ہوئی چیزیں اچھی ھوتیں ہیں۔۔مگر یقین کیجیئے
مسافر ہوں دوستوں یادوں سے بھی [چلا جائوں گا

dear bro and sis goooooood byt
ھم سے ھم کلام ہونا ذرا ادب سے۔ لہجے کی تلخیاں ہم منہ پے مار دیتے ھیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain