تیرے جانے کے بعد زندگی بہت ویران تھی دل پر حزاں کا موسم تھا ویسے موسموں میں بہار تھی تیرے جانے کے بعد میں بہت روئی بہت تڑپی کبھی خود سے گلہ کیا کبھی شکوہ کیا میں ںے تجھ سے تیرے جانے کے بعد دل کو بہلا پھسلا کر سمجھا ہی لیا مشکل تھا پر خود کو مںا ہی لیا سیکھ لیا میں ںے آنسوؤں سے ہنسی کو چرانا سیکھ لیا ہے میں ںے پھر سے مسکرانا
خیال کرنا کبھی کسی کو اس کی حیثیت ،اوقات یا مقام نہ یاد دلانا ۔۔۔کسی کی حیثیت یا مقام کا تعین کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟؟؟۔ایسا بولنے سے پہلے ہی سوچ لینا کہ اس کا تو جو مقام ہے وہ ہے کیا پتا ہمارا کوئی مقام ہو ہی نہ ۔۔۔۔نہ کسی کے دل میں نہ ہی اس دنیا میں کہیں بھی ۔۔۔۔۔ ورنہ مکافات عمل تو ہے ہی۔۔جتنے بھی بلند مقام پہ ہو آخر گرنا ہی ہے ۔۔۔ شاید کہ اتر جائے دلوں میں میری بات ۔۔۔