جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا
وہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں
تو مجھے ڈُھونڈ میں تجھے ڈُھونڈوں
کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں
جونؔ ایلیاء
بدن کے قید خانے میں، عجب تھی روح کی حالت
اسیری بھی مقدم تھی، رہائی بھی ضروری تھی
وہ کوئی عام سا شخص تو نہیں ہو سکتا.
ہم جِسے اپنا کہیں، عشق کریں، رو پڑیں
مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے
یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے
*شکیل بدایونی*
میں یہ سمجھا کہ فقط بچھڑے ہیں،،
ہاۓ قسمت..! بُھلا دیا اُس نے...!!!
جون ایلیاء"
خود کو چائے پہ بلائیں، کوئی بات کریں!
اپنے ضمیر سے بهی،اک ملاقات کریں!☕
*بوڑھا ہونے میں بھلا دیر لگتی ہے*
*اک زرا سا غم لگ جائے تو انسان لمحوں میں بوڑھا*
*ہو جاتا ہے🙂*