نہ کوئی اندازِ فہم ہے نہ کوئی طرزِ بیان میرا
میں ایک ایسا شاعر ہوں جس کا ہر شعر اک طوفان ہے
مرے الفاظ ہیں شعلے، مری آواز ہے آتش
مرا ہر مصرعہ اک بحرِ بے پناہ کا طغیان ہے
مجھے معلوم ہے تقدیرِ امم کیا ہے
مگر اے ناداں! یہ بھی پوچھ کہ انسان کیا ہے
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاریء نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن ہے
حقیقی عشق کی لگان کچھ اور ہے
یہ دل کی گہرائیوں میں چھپی روشنی ہے
یہ جو ہر دکھ میں سکون دیتا ہے
یہ جو ہر پل میں خدا کا پیغام بن جاتا ہے
عشق وہ جذبہ ہے جو جسم کو نہیں، روح کو جیتا ہے
یہ جو سچائی ہے، وہ کبھی چھپ نہیں پاتی
حقیقی عشق میں فنا کی حقیقت ہے
اور یہی فنا میں بقا کی اصل داستان ہے
روح کی پرواز کو کچھ نہیں چاہیے
جسم کی قید میں، یہ دل نہیں رہتا
خود کو سمندر کی گہرائی میں ڈوبو
یہی حقیقت ہے، یہ دنیا نہیں رہتی
دل کی لگان میں کوئی جوش نہیں ہے
دکھ میں سکون کا، کوئی جواز نہیں ہے
روح کا پیغام، دل کے اندر سنو
ہر چیز میں، وہی روشنی ہے
یہ جو بارش کی اوس ہے مجھ میں
یہ جو ٹھنڈی ہوا بسی ہے
یہ جو بادل کہیں ٹھہرے ہیں
یہ جو لمحہ کہیں رکا ہے
کسی یاد کا نم ہے دل میں
کسی لفظ کا لمس ہونٹوں پہ
یہ جو راتوں کی برف چمکی ہے
یہ جو بارش میں درد جاگا ہے

ہر چراغ بجھا، ہر ستارہ گرا
اندھیروں میں تیری روشنی کا پتہ ملا
جو دل شکستہ تھا، صدا یہ دی،
"اے اللہ، تو ہی بچا، تو ہی رہا"
نہ خواب کے معنی، نہ زندگی کا سکون،
ہر راہ میں ملا بس فنا کا جنون
یہ دل، یہ جسم، یہ دنیا کا شور،
خاموش ہوا، باقی رہا تیرا نور
سجدے میں گرے، تو درد بھی مسکرایا،
آنسو گرے، تیرا نام ساتھ آیا
ہر غم، ہر زخم تیرا تحفہ ہوا،
سب کچھ مٹا، فقط تیرا ذکر رہا۔



خیر کی راہ میں ہمیشہ روشنی کا پیغام ہے
شر کی گلی میں، دل کی پرچھائیاں خاموش ہیں، بوجھ کا دھواں ہے
خیر وہ ہے جو دلوں کو سکون دے، ہر زبان پر دعائیں ہوں
شر وہ ہے جو دل میں اندھیرا چھپائے، اور زندگی میں ہو فتنہ و گلاہیں ہوں
خیر کا چراغ ہے جس سے راستے روشن ہوتے ہیں
شر کی ہوا میں، صرف اندھیرے کا رقص ہوتا ہے
جب دل میں خیر ہو، زندگی آسان ہو جاتی ہے
شر سے بچنا ہی اصل میں زندگی کی حقیقت ہو جاتی ہے
خیر کا سفر ہمیشہ دل کو سکون دیتا ہے
اور شر کی گزرگاہ ہر پل دل کو زخم دیتا ہے
اختیار ہمارا ہے، ہم کہاں چلتے ہیں
خیر کی راہ ہو یا شر، انتخاب ہمارا ہی ہوتا ہے
🕯🕯ŇÌĜĤŤ🕯🕯😴
عشق میں کبھی یہ راز بھی سمجھنا ضروری ہے
جب دل میں سکون ہو، تبھی محبت کا دروازہ کھولنا ضروری ہے
محبت کبھی خود کو کھونے کا عمل نہیں
یہ وہ رشتہ ہے جو دل کی صفائی سے شروع ہوتا ہے
پیار میں اگر عزت اور سکون نہ ہو
تو پھر یہ رشتہ جھوٹ اور دکھوں کا پیچھا کرتا ہے
عشق کا راستہ جب سچائی سے خالی ہو
تو وہ راہ دلوں کو اندھیروں میں لے آتی ہے
محبت، پیار اور عشق کی حقیقت میں بس
اگر خود کو سمجھو تو پھر دل کبھی نہ دھوکا دے
دور رہو ان محبتوں سے جو دکھوں کا سبب بنیں
یقین رکھو، سچی محبت وہی ہے جو دل کی گہرائی سے نکلے
سچائی کا رستہ کبھی بھی آسان نہیں ہوتا
مگر دل کی سکونت میں یہی سب سے پیارا ہوتا
جھوٹ کا سایہ لمحوں میں مٹ جاتا ہے
لیکن سچ کا چمک ہر دکھ کو جیت جاتا ہے
سچائی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں جلاتا ہے
یہی انسان کے اندر کا اصل نور دکھاتا ہے
جھوٹ کا پھیلاؤ ایک دن خود کو پکڑ لیتا ہے
مگر سچ ہمیشہ سچ کے راستے پر چلتا ہے
دل میں سچائی ہو تو ہر لفظ میں تاثیر ہوتی ہے
سچ کبھی نہ ٹوٹے، اس کی ہر بات میں حقیقت ہوتی ہے
زندگی کا اصل مقصد یہی سمجھنا ہے
سچائی کی راہ پر چل کر انسان بننا ہے
مسکراہٹ تیرا صدقہ ہے، رحمت کی بارش ہے
دلوں کی دنیا کو تیرے لبوں کی روشنی سے تازگی ہے
جب تیری مسکراہٹ بکھرتی ہے فضاؤں میں
اللہ کی رضا کی جھلک دکھائی دیتی ہے ہر دم
جو ہنستی مسکراہٹ، دلوں میں سکون لاتی ہے
یہ ایک نعمت ہے، جو ہر غم کو پگھلاتی ہے
رسول اللہ ﷺ کی مسکراہٹ سے ہے یہ سبق
کہ ہر لمحہ دل میں ایمان کی محبت رک
مسکراہٹ ہے عبادت کا رنگین لباس
دل کی صفائی، زبان کی صدق سے ہے یہ اظہار خاص
خوش رہنا اللہ کی رضا کا ہی پیغام ہے
تھوڑی سی مسکراہٹ میں ایک جنت کا مقام ہے
اچھائی کے رستے پر چلنا آسان نہیں ہوتا
ہر قدم پر آزمائش کا سامنا کرنا ہوتا
چاہے راہ میں کانٹے بچھے ہوں یا اندھیری رات ہو
لیکن دل میں امید، لب پہ دعا ساتھ ہو
سچائی کے سفر میں ٹھوکر بھی ملے گی
پھر بھی صبر سے یہ دنیا ہارے گی
نفرت کو محبت سے جواب دینا
برائی کو اچھائی سے مٹا دینا
کامیابی وہی جو دل کو سکون دے
راستہ وہی جو رب کی طرف لے
اچھائی کے سفر میں تھکنا نہیں
یہی تو وہ راہ ہے جسے کبھی رکنا نہیں



خود کو سمجھنا ہی سب سے بڑی حکمت ہے
جو اپنے اندر کی حقیقت کو جان لے، وہی مکمل ہے
دنیا کی رنگینیوں میں کبھی کھو نہ جانا
سکون اور خوشی دل میں چھپے ہیں، انہیں تلاش کرنا
زندگی کے سبق میں نے بہت دیر سے سمجھے
خوابوں کے پیچھے بھاگنا ایک فریب سے کم نہیں
سکون ملتا ہے دل کو جب حقیقت کو اپنائیں
یہی اصل خوشی ہے، جب خود کو پا جائیں
خود شناسی کی راہ میں ایک عجب ہے کائنات،
اپنے دل کے سفر میں ملتی ہے ہر بات۔
اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر کر دیکھ،
ہر خواب، ہر حقیقت کو صبر سے پرکھ کر دیکھ۔
نہ دُنیا کے شور میں اپنا عکس گم کر،
اپنے دل کی خاموشیوں میں خود کو سُن کر دیکھ۔
یہی تو ہے زندگی کا اصل راز،
خود کو پہچاننا ہے، سب سے بڑا اعزاز۔
خود کی تلاش میں چھپی ہے ہر بات کی کلید،
اپنے آپ کو جان کر ہی ملتی ہے زندگی کی دید۔
یہ سفر تنہائی کا ہے، مگر کمال کا،
خود شناسی کا لمحہ ہے سب سے خوشحال کا۔
دل کے آئینے میں جھانک اور سچائی کو پا،
خود شناسی کا یہ نور ہے، زندگی کا راستہ۔
جب خود کو پہچانے گا، تو دنیا کو بھی دیکھے گا،
خود شناسی کے سفر میں ہی، خود کو سچائی سے جوڑے گا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain