مخلوقِ خدا کا ہے یہ جہاں وسیع و عریض،
ہر دل میں ہے محبت، ہر دل میں ہے ایک تیز۔
کسی کی مسکان میں خدا کا عکس ہے،
کسی کے آنسو میں، زندگی کا سبق ہے۔
یہ رنگ برنگی دنیا، سب کا ہے ایک حصہ،
خدا کی مخلوق میں چھپی ہے محبت کی ہَوا۔
ذات، رنگ، اور زبان کے فرق کو بھلا دو،
خدا کی ہر تخلیق کو گلے سے لگا لو۔
ہر چہرے میں دیکھو، وہی نورِ الہی،
مخلوقِ خدا کی خدمت میں ہے اصل راہِ فلاحی۔
محبت، اخلاص، اور خلوص کی یہ زبان،
خدا کی مخلوق کا ہے یہ سب سے بڑا انعام۔
چاہے انسان ہو، چرند ہو یا پرند،
سبھی مخلوقِ خدا ہے، سبھی کو رکھو پسند۔
خدا کی رضا میں ہے مخلوق سے پیار،
یہی ہے اصل بندگی، یہی ہے ہمارا کردار۔
چلو، سب کے لئے محبت کا پیغام بانٹیں،
مخلوقِ خدا کو امن و سکون کا پیغام دیں۔
اندھیروں میں قندیل کی روشنی بکھر گئی،
دل کے سناٹے میں، خوشبو سی بھر گئی۔
یہ چمک ہے امید کی، اندھیروں کا مقابلہ کرتی،
ہر لمحہ، ہر پل میں، دل کی دھڑکن سنبھالتی۔
رات کی خاموشی میں، ایک سرگوشی سی ہے،
قندیل کی روشنی میں، زندگی کی روشنی چمکتی ہے۔
چاہت کے راستوں پر، یہ قندیل جلتی رہے،
دکھ کے لمحوں میں بھی، مسکراہٹ کو پلتی رہے۔
ہر رات کی تنہائی میں، قندیل کی چمک ہے ساتھ،
اندھیروں کی گلیوں میں، یہ روشنی ہے ایک پناہ۔
خوابوں کی دنیا میں، جب دکھوں کا سامنا ہو،
قندیل کی روشنی میں، دل کا ہر غم ٹوٹتا ہو۔
یہ قندیل ہے محبت کی، یہ قندیل ہے وفا کی،
اندھیروں میں بھی یہ چمکے، دل کی ہر خواہش کی۔
زندگی کی کٹھن راہوں میں، یہ روشنی رہے میری رہنما،
اندھیروں میں قندیل کی طرح، ہمیشہ چمکتی رہے، یہی ہے دعا۔
خاموش روح کا یہ عالم ہے،
جس میں ہر درد کی صدا خاموش ہے۔
چپ رہ کر بھی کہانی سناتی ہے،
دل کے کونے میں چھپے رازوں کو جانتی ہے۔
آنسوؤں کی چپ، مسکراہٹ کی چادر،
خاموش روح کا یہ سفر، کبھی نہ ہو گا ادھورا۔
گزرے لمحوں کی یادیں، گہری ہیں بہت،
خاموشی کی آغوش میں، بکھرے ہیں خوابوں کے خط۔
جب رات کی تنہائی، دل کو ڈھانپ لیتی ہے،
خاموش روح کی سسکی، خوابوں کو چُراتی ہے۔
چاہت کے لمحات میں، کرب کی گونج ہے،
یہی خاموش روح، دل کی ہر تڑپ کی گونج ہے۔
کبھی کبھی یہ خاموشی بھی، دل کی بات کرتی ہے،
خوابوں کی دنیا میں، حقیقت سے ہمکلام کرتی ہے۔
خاموش روح کی خاموشی میں، اک پیغام ہے،
زندگی کی تلخیوں میں، محبت کا احسان ہے۔
دوریوں کے درد میں بھی، یہ روح جیتی ہے،
خاموش رہ کر بھی، عشق کی ہر خوشبو بکھرتی ہے۔
محبت کا نام لے کر سب نے چہرے بکھیرے،
پر دل کی گہرائیوں میں، سچے احساس نہیں پھیریں۔
مسنوئی باتوں کے یہ لبادے اوڑھ کر،
آنسوؤں کے سمندر کو، کس نے دھیما کیا ہے، یہ سب ہی جانتے ہیں۔
چمکدار آنکھوں سے، جھوٹے وعدے کیے گئے،
پر حقیقت کے آئینے میں، خوابوں کو بکھرنے دیا گیا۔
لفظوں کی خوشبو میں، زہر گھول دیا گیا،
محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے، دل کو توڑ دیا گیا۔
چاہت کی کہانیوں میں، دکھ کا جال بُنا،
یہ مسنوئی محبت کا کیا جوہر ہے، جو خود کو چھپاتا ہے۔
چہرے کی مسکراہٹوں میں، بے زاری چھپی،
محبت کا رنگ چڑھاتے ہوئے، دل کی باتیں خاموش رہیں۔
ایک لمحے کی خوشی، عمر بھر کا دکھ بن گئی،
مسنوئی محبت کا یہ سفر، کہیں بھی نہ رکے، نہ جھکے۔
پر دل کی گہرائیوں میں، ایک چاہت کی جڑ ہو،
اسی کی تلاش میں، زندگی کا ہر لمحہ گزر جائے۔
زندگی کی راہوں میں چلتے ہوئے،
اپنے علاوہ کسی کو کچھ نہ سمجھنا۔
دل کی گہرائیوں میں چھپی باتیں،
ان کو خاموشی سے، کبھی بیان نہ سمجھنا۔
دنیا کی چکاچوند میں گم ہو کر،
خود کو بھولنا، یہ کوئی کارنامہ نہ سمجھنا۔
دوستوں کی باتیں، رشتہ داروں کے مشورے،
لیکن اپنے دل کی آواز کو کبھی انجان نہ سمجھنا۔
وقت کا سفر ہے، گزر جائے گا،
پر اپنے خوابوں کی قیمت کو کبھی کم نہ سمجھنا۔
اپنے سفر کا راستہ خود چننا ہے،
اپنے علاوہ کسی کو کچھ نہ سمجھنا۔
زندگی کے میدان میں جو ہو تم،
اپنے سوا کسی کو کمزور نہ سمجھنا۔
اپنے علاوہ کسی کو کچھ نہ سمجھنا،
دل کی باتوں کو کبھی فرضِ بیان نہ سمجھنا۔
تم خود میں ہو ایک عالمِ خاص،
یہ جہاں تمہارا ہے، یہی راز پر خدا نہ سمجھنا۔
لوگ تمہیں اپنے رنگ میں ڈھالنے کو کہیں گے،
اپنے رنگ میں رہنا، ان کا پیغام بس ہوا سمجھنا۔
تم ہو تو منزل ہے، تم ہو تو راہ بھی ہے،
پر اس راستے میں کسی کو اپنا ہمسفر نہ سمجھنا۔
اپنی طاقت اور ہمت پر بس بھروسہ رکھنا،
اور اپنے علاوہ کسی کو کچھ نہ سمجھنا۔

کہتے ہیں کہ انسان زندگی کے تین مراحل سے گزرتا ہے!!
وہ سہتا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بدل جاتا ہے!!!
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے
سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو
ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے
مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا
پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
ہمیں کبھی ان لوگوں کو بھولنا نہیں چاہیے، جو ہماری تاریک زندگی میں روشنی لے کر آۓ ہوں، کیونکہ بہت سے لوگوں کی زندگی تاریک تو ہوتی ہے لیکن ہر ایک کی زندگی میں روشنی لانے والا نہیں آتا۔


زوال دوری،کمال جینا،محال سہنا،وبال کہنا۔۔۔۔۔۔
وہ تلخ لمحے،زہر لہو میں تریاق چاہیں تیرا تصور


وحشت۔دل در و دیوار پہ رقصاں کیوں ہے
میری تنہائی مرے حال پہ خنداں کیوں ہے
تجھ سے چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا کبھی رشتہءدرد
وائے دیوانگیء شوق پشیماں کیوں ہے
تو ہمیشہ سے مکیں ہے مرے ویرانے میں
محفل۔خواب میں اک رات کا مہماں کیوں ہے
ہر نفس پھول محبت کے کھلائے ہیں مگر
موسم۔گل کا مقدر در۔زنداں کیوں ہے
یوں گزاری ہے شب۔ہجر کہ کچھ یاد نہیں
صبح دم چاک ہواؤں کا گریباں کیوں ہے
میرے آنگن میں اندھیروں کی اداسی بو کر
اے مرے دوست ترے گھر میں چراغاں کیوں ہے



نظر نظر بیقرار سی ہے، نَفس نَفس پُراسرار سا ہے
میں جانتا ہُوں کہ تم نہ آؤ گے، پھر بھی کُچھ اِنتظار سا ہے
مِرے عزیزو! میرے رفیقو! کوئی نئی داستان چھیڑو
غمِ زمانہ کی بات چھوڑو، یہ غم تو اب سازگار سا ہے
وہی فسُردہ سا رنگِ محفل، وہی تِرا ایک عام جلوہ
مِری نِگاہوں میں بار سا تھا، مِری نِگاہوں میں بار سا ہے
کبھی تو آؤ، کبھی تو بیٹھو، کبھی تو دیکھو، کبھی تو پُوچھو !
تمہاری بستی میں، ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے
چلو کہ جشنِ بہار دیکھیں، چلو کہ ظرفِ بہار جانچیں
چَمن چَمن روشنی ہُوئی ہے، کلی کلی پہ نِکھار سا ہے
یہ زُلف بردَوش کون آیا، یہ کِس کی آہٹ سے گُل کِھلے ہیں؟
مہک رہی ہے فضائے ہستی، تمام عالَم بہار سا ھے
🕯🕯SÌĹĔŇŤ_ŇÌĜĤŤ🕯🕯
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain