گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا
دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا
ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا
میری زندگی کے تیور میرے ہاتھ کی لکیریں
انہــیں تــم اگر بدلتی تو کچھ اور بات ہوتی
میں تمہـارا آئینہ تھا میں تمہارا آئینہ ہوں
مجھے دیکھ کر سنورتی تو کچھ اور بات ہوتی
محبوبِ وقت ہوں کبھی معتوبِ وقت ہوں
ہر گردشِ حیات کی میں بازگشت ہوں
میری کسی بھی بات کا بالکل برا نہ مان
دل کا برا نہیں ہوں میں لہجے میں سخت ہوں
گردِ سفر ملی مجھے منزل نہیں ملی
اپنی مسافتوں کی سراپا شکست ہوں
یہ ساری کائنات مری دسترس میں ہے
تو کیوں سمجھ رہا ہے کہ میں تنگ دست ہوں
ﺩﻥ ﮐﻮ ﻣﺴﻤﺎﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮨﻮﺋﮯ
ﺧﻮﺍﺏ ﮨﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﻓﻘﻂ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﮨﻮﺋﮯ
ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﺭﻕ ﺳﺎﺩﮦ ﺭﮨﺎ
ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻟﻔﻆ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮨﻮﺋﮯ
ﯾﮧ ﺍﻟﮓ ﺩﮐﮫ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ
ﯾﮧ ﺍﻟﮓ ﻗﯿﺪ ﮨﮯ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﮨﻮﺋﮯ
ﺩﯾﺪﮦ ﻭ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮮ ﻋﮑﺲ ﮐﯽ ﺗﺸﮑﯿﻞ ﺳﮯ ﮨﻢ
ﺩﮬﻮﻝ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻧﮓ ﺳﮯ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮨﻮﺋﮯ
ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﮧ ﺷﺐ ﺭﻗﺺ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﻇﻔﺮؔ
ﮨﻢ ﺟﺪﺍ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺑﻐﻞ ﮔﯿﺮ ﮨﻮﺋﮯ
مجھ کو محسوس کرو روح کی گہرائی میں
یا کسی اجڑی ہوئی گود کی تنہائی میں
یا کسی کھوئے ہوئے شہر کی رعنائی میں
مجھ کو محسوس کرو
تم نے گر لفظ کے آئینہ بے روح میں دیکھا ہوگا
میری سوچوں کے خدوخال کے اجلے پن کو
اس طرح شرحِ خیالات نہیں ہوسکتی
اس طرح تم سے ملاقات نہیں ہوسکتی
مجھ کو محسوس کرو
اپنی خواہش کے جزیروں میں نہ محبوس کرو
صرف محسوس کرو
اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
ہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا
جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینا
یہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا
بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
اندھیری کاسنی راتیں یہیں سے ہو کے گزریں گی
جلا رکھنا کوئی داغ جگر آساں نہیں ہوتا
کسی درد آشنا لمحے کے نقش پا سجا لینا
اکیلے گھر کو کہنا اپنا گھر آساں نہیں ہوتا
جو ٹپکے کاسۂ دل میں تو عالم ہی بدل جائے
وہ اک آنسو مگر اے چشم تر آساں نہیں ہوتا
گماں تو کیا یقیں بھی وسوسوں کی زد میں ہوتا ہے
سمجھنا سنگ در کو سنگ در آساں نہیں ہوتا
نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے
اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا
کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں
ہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں
بس ایک وحشت منزل ہے اور کچھ بھی نہیں
کہ چند سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہتے ہیں
مجھے تو روز کسوٹی پہ درد کستا ہے
کہ جاں سے جسم کے بخیے ادھڑتے رہتے ہیں
کبھی رکا نہیں کوئی مقام صحرا میں
کہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ہیں
یہ روٹیاں ہیں یہ سکے ہیں اور دائرے ہیں
یہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں
بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں
اجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں
اتنے خاموش بهی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکهنے کےلیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
کچه نہیں ہو گا گلہ کرنے سے
ان سے نکلیں حکاتیں شاید
حرف لکه کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچه لحاظ منیر
یار سب کو بنا لیا نہ کرو
نگاہ_ شوق ہو عشق کا سرمہ ہو
تقاضاء دید ہو پھر طور کا جلنا ہو
عصاء ھدایت ہو بحر کا سینہ ہو
پھر بپھری ہوئی لہروں پہ چلنا ہو
دل صدا دے دل ہی جواب پائے
کیفیت_جذب ہو جام_دل کا چھلکنا ہو
لطف و کرم کی وہ بہار_ پر کیف ہو
چاند کا کٹورہ نور کا بہتا جھرنا ہو
مکتب_دل سے روشنی پھوٹنے لگے
رب ذدنی علما" اور سینے کا چمکنا ہو"
آنسوؤں کی جھڑی لگے کہ اک اک قطرہ
موتی ہو ! اور شان_کریمی کا چننا ہو

اُنہیں کہو، کہ بجھا کر نہ اِتنا اِترائیں
چراغ پر تو میرا انحصار ، تھا ہی نہیں
گِلہ کریں کہ جنہیں تجھ سے بڑی اُمیدیں تھیں
ہمیں تو خیر، تیرا اعتبار تھا ہی نہیں
ہوں اگر تو ہوں بھی کیا اس کے سوا
قیمتی ورثے کی ارزانی ہوں میں
جس قدر موجود ہوں مفقود ہوں
جس قدر غائب ہوں لافانی ہوں میں








submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain