اے شخص میں تیری جستجومیں
بے زارنہیں ہوں ، تھک گیاہوں ۔
بھٹکتاپھر رہاہو ں ، جستجوبِن
سراپاآرزوہوں ،آرزوبِن۔
کمینے ہوگئے جذبے ، ہوئے بدنام خواب اپنے
کبھی اِس سے کبھی اُس سے محبت ہوگئی آخر۔
غیر کے دل میں ا گراُترناتھا
میرے دل سے اُترگئے ہوتے۔
سوچتاہوں کبھی کبھی یوں ہی
آخر ہرج کیا تھا، اسے منانے میں ۔
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روزاک چیز ٹوٹ جاتی ہے ۔
کیا کہا ، عشق جاودانی ہے !
آخری بار مِل رہی ہوکیا؟
میں تیرے دَرپہ لگاؤں گاکچھ اس طور صدا
دیکھورقص کریں گے تیرے درباں اب کے ۔
اک رنگ سی کمان ہو خوش بوساایک تیر
مرہم سی واردات ہواور زخم کھاؤں میں ۔
زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں ۔
تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا۔