محبت کی چادر جو اوڑھی ہے تم نے
تو پھر یہ رقص کیسا ۔شخص کیسا ۔ عکس کیسا۔۔۔۔
یہ زندگی جو گذر رہی ہے
تو پھر یہ شک کیسا۔ گمان کیسا۔فرق کیسا۔۔۔۔۔
لفظوں میں بھی کشش نہ ہو گر تیرے
تو پھر یہ شعر کیسا۔شاعر کیسا۔شور کیسا
ایک بچپن کا زمانا تھا
جس میں خوشیوں کا خزانہ تھا
چاہت چاند کو پانے کی تھے
پر دل تتلی کا دیوانہ تھا
تھک ہار کے آنا اسکول سے
پھر کھیل میں لگ جاتے تھے
غم کی زبان نہ ہوتی تھی
نہ زخموں کا پیمانہ تھا
ہر کھیل میں ساتھی تھے
ہر رشتہ نبھانا تھا
بارش میں کاغذ کی ناٶ تھی
ہر موسم سہانا تھا