عرش سے فرش تک
کہانی صرف ”کن “کی ہے۔
Asalam alaikum
جب یاد آٶں تو بس اتنی سی عنایت کرنا
اپنے بدلے ہوۓ لہجے کی وضاحت کرنا
تم تو چاہت کا شاہکار ہوا کرتے تھے
کس سے سیکھا ہے الفت میں ملاوٹ کرنا
ہم سزاٶں کے حقدار بنے ہیں کب سے
تم ہی بتاٶ جرم ہے کیا محبت کرنا
تیری فرقت میں آنکھیں ابھی تک نم ہیں
کبھی آنا میری آنکھوں کی زیارت کرنا
صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اس پار
دیوار ہی دیوار ہے دیوار کے اس پار
بیٹھا ہے کوئی گھات لگائے ہوئے مجھ
پر
خاموشی ہے لگاتا دیوار کے اس پار
آتی ہیں کبھی کراہیں۔ کبھی آہیں کبھی سسکی
شاید کوئی بیمار ہے دیوار کے اس پار
اے میرے من کے شاہ پیا
مجھے آج بھی تیری چاہ پیا
میرے دل میں سچی پریت تیری
تجھے کون کیا گمراہ پیا
میں گلے میں مالا ڈال پھری
میں نے اوڑھا رنگ سیاہ پیا
تو جس جس رستے سے گذرا
میں نے چومی ہر وہ راہ پیا
میں نے اشک بہائے نمازوں میں
تو لوٹ کیوں نہ آہ پیا
یوں بھی ہم دور دور رہتے تھے
ویسے بھی سینوں میں ایک کدورت تھی
تم نے رسمن بھلٰا دیا ورنہ
اس تکلف کی کیا ضرورت تھی
پھر ہوتا یوں ہے کہ ہم سادہ دلوں کا دل بھی شہر کے آخری مکار پہ آجاتا ہے
یا اللہ آزمائشوں کے قابل نہیں ہیں ہم
بس اپنی رحمتوں سے نواز دے
آمین ثم آمین
ممی بول رہی ہیں
اگلے گھر جا کر میاں کو دو پوسٹ فرائی اور ایک ابلا ہوا کمنٹ دینا
🙊🙈🙊🙈🙊🙈🙊🙉🙉
فقط خیالوں تک خوبصورت ہے زندگی
نا سنو گر برا کہے کوئی
نا کہو گر برا کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کی گلا کرے کوئی