میں ایک زیست عام سی ایک قصہ نا تمام سی نہ لہجہ بے مثال ہے نہ بات میں کمال ہے ہوں دیکھنے میں عام سی اداسیوں کی شام سی جیسے ایک راز ہوں خود سے بے نیاز ہوں نہ دلکشی سے رابطہ نہ شہرتوں کا ضابطہ مجنوں ہوں نہ ہیر ہوں مرشد ہوں نہ پیر ہوں میں پیکر اخلاص ہوں وفا دعا اور آس ہوں میں بس ایک خود شناس ہوں اب تم کرو فیصلہ میں ہوں بہت عام سی اداسیوں کی شام سی
میرا سوچنا تیری ذات تک میری گفتگو تیری بات تک نہ ملو جو تم کبھی مجھے میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک کبھی فرصتیں ملیں تو آ میری زندگی کے حصار تک میں نے جاناں کی میں تو کچھ نہیں تیرے پہلے سے تیرے بعد تک۔
تو اپنی خوبیاں ڈھونڈ خامیاں نکالنے کے لیۓ لوگ ہیں نا اگر قدم رکھنا ہے تو آگے رکھ پیچھے کھینچنے کے لیۓ لوگ ہیں نا سپنے دیکھنے ہیں تو اونچے دیکھ نیچا دکھانے کے لیۓ لوگ ہیں نا اگر پیار کرنا ہے تو خود سے کر نفرت کرنے کے لی لوگ ہیں نا تو اپنی الگ پہچان بنا بھیڑ میں چلنے کے لیۓ لوگ ہیں نا تو کچھ کر کے دکھا دنیا کو تالیاں بجانے کے لیۓ لوگ ہیں نا صنم زئی تو خود سنبھل سنبھل کر رہ تماشا بنانے کے لیۓ لوگ ہیں نا