شب غم کو بدلتا ہے سحر کے اجالے میں وہی ہنسنا سکھاتا ہے وہی ہر دکھ مٹاتا ہے خزاں میں شاخوں سے گرتے جاتے ہیں جب پتے وہی تو سبز رت میں نئیں کونپل اگاتا ہے وہی آبادی کرتا ہے وہی شاد کرتا ہے وہی تو آنکھ کے موتی کبھی رلنے نہیں دیتا کہیں گہرا سمندر کہیں طوفان آیا ہو وہ ہم کو تھام لیتا ہے کنارے پر وہ لاتا ہے وہ رازق ہے وہ خالق بھی ہے وہی واث بھی ہے مالک بھی وہ ستر ماٶں سے بڑھ کر ہمیں عزیز رکھتا ہے کہو اس کے سوا کیا ہے تمھاری ہستی اے انسان کوئی اس کے سوا تم کو کوئی پیار کرتا ہے