جب اللہ تعالی نے انسان کو تخلیق کیا تو فرشتوں سے پوچھا۔ اس کا سکون کہاں رکھا جاۓ؟ فرشتوں نے کہا اسے سب سے اونچے مکام پر رکھ دیا جاۓ جواب ملا انسان وہاں پہنچ جاۓ گا۔ فرشتوں نے کہا پھر اسے سمندر کی گہرائی میں رکھ دیا جاۓ جواب ملا یہ و ہاں بھی اتر جائیں گے۔ فرشتوں نے کہا پھر اسے ریگستان کے ذروں میں رکھ دیا جاۓ جواب ملا یہ ذروں کو بھی گن لیگا فرشتے سوال کرتے ہیں کہ یا اللہ پھر اسے کہاں رکھا جاۓ جواب ملا کہ میں انسان کا سکون اس کے اندر ہی رکھ دوں گا۔ یہ پوری کائنات میں تلاش کرے گا لیکن جب یہ ڈھونڈ ڈھونڈ تھک جاۓ گا تو پھر اس کو کہیں سے آواز آئے گی میں تیرے اندر ہوں مجھے خود میں تلاش کر ۔ اور جانتے ہیں وہ سکوں صرف اور صرف اللہ ہے اس کا ذکر ہے بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے