نہیں تھا اس کو اعتبار میری مخلصی پر.
کھودیا اس نے مجھے آزماتے آزماتے.
خزاں کا دور تیری بے رخی کو کہتے ہیں.
بہار تیری توجہ کا نام ہے..
السلام علیکم صبح بخیر
چاہنا غلط نہیں.
چاہ کر چھوڑ دینا غلط ہے.
رنگ بدلنا صرف آسمان کو جچتا ہے.انسان کو نہیں.
بے وفاؤں سے ہار کر.وفاداروں سے بدلا لیتے ہیں لوگ.
خود کلامی بھی عجیب ہوتی ہے
خود سے باتیں اور وہ بھی آپ کی باتیں ..
یاد رکھئے محبتوں کی قضا نہیں ہوتی..
میرے خیال سے اب ہم
تیرے خیال میں بھی نہیں رہے.
زندگی سے کچھ نہیں مانگا بس اک تیری سوا.
زندگی نے سب کچھ دیا بس اک تیرے سوا.