کوئی سمجھاؤ؟ دریا کی روانی کاٹتی ھے کہ میرے سانس کو ، تشنہ دہانی کاٹتی ھے میں باہر تو بہت بہتر ہوں ، پر اندر ہی اندر مجھے کوئی بلائے ناگہانی کاٹتی ھے میں دریا ہوں مگر کتنا ستایا جا رہا ہوں کہ بستی ، روز آ کے میرا پانی کاٹتی ھے زمیں پر ہوں مگر کٹ کٹ کے گرتا جا رہا ہوں مسلسل ، اک نگاہ ِ آسمانی کاٹتی ھے میں کچھ دن سے اچانک پھر اکیلا پڑ گیا ہوں نئے موسم میں اک وحشت پرانی ، کاٹتی ھے نظر والو ، تمہاری آنکھ سے شکوہ ھے مجھ کو زباں والو ، تمہاری بے زبانی کاٹتی ھے لیاقت جعفری
آنکھ مزدور ہے خواب ڈھوتی ہوئی اشک بوتی ہوئی جسم مزدور ہے روح کا بوجھ خود میں اٹھائے ہوئے رنج کھائے ہوئے میں بھی مزدور ہوں تو بھی مزدور ہے نوکری کیلئے جاتا ہر آدمی گھر کے کاموں میں مصروف سب بیویاں اپنے کاندھوں پہ بستے اٹھائے ہوئے بچے مزدور ہیں درد مزدور ہیں روگ مزدور ہیں زندگی ایک حاکم نما چیز ہے سانس لیتے ہوئے لوگ مزدور ہی__🖤 کومل جوئیہ
ہاں! یہ سچ ہے کہ ترستے تھے تکلّم کو کبھی اب یہ کوشش کہ تیرا ذکر نہ ہو، بات نہ ہو کاش ڈھونڈے تُو مجھے گھوم کے بستی بستی اور دعا میری، کبھی تجھ سے ملاقات نہ ہو
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارا کیا ہے جیتنے والوں کا ہم کو نہیں کچھ علم کہ ہم ہار کر سوچتے رہتے ہیں کہ ہارا کیا ہے دیکھو اے عمرِ رواں خواہشیں رہ جائیں گی! تم گزر جاؤ گی چُپکے سے تمھارا کیا ہے وہ اگر دیکھ لے اک بار محبت سے تو پھر ذر٘ۂ خاک چمک اُٹھے ستارہ کیا ہے دلاورعلی آزر