جُدائی اتنی بھی آ سا ن نہیں صاحب
میں پتھر بھی روتے دیکھے ہیں۔
دیکھ کر تجھ کو میں غم دل کے بُھلا دیتا ہوں رات دن میں تم کو جینے کی دُعا دیتا ہوں.❤️💕
جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے
درد بے اختیار اٹھتا ہے
تیرے قریب رہ کر بھی تجھے تلاش کروں
محبتوں میں میری بدحواسیاں نہ گئیں
کتنی ظالم ہوتی ہے یہ پل دو پل کی محبت
نہ چاہتے ہوئے بھی دل کو کسی کا انتظار رہتا ہے
تیرا دیدار ہی آنکھوں کی تلاوت ٹھہرا
یہ میرا عشق مقدس ہے عبادت جیسا
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کاہونے دے ،نہ اپنارکھے۔
کبھی ملے فرصت تو ضروربتان
وہ کون سی محبت تھی جوہم تمہیں نہ دے سکے۔
اس طرح غور سے مت دیکھ میرے ہاتھ کو
ان لکیروں میں حسرتوں کے سواکچھ بھی نہیں ۔
ضبط غم اس قدر آساں نہیں فرازؔ
آگ ہوتے ہیں وہ آنسو جو پیے جاتے ہیں
مجھ سے ہر بار نظریں چُرالیتا ہے
میں نے کاغذ پر بھی بنا کے دیکھی ہیں آنکھیں اُس کی ۔
اک پل میں جو برباد کر دیتے ہیں دل کی بستی کوفرازؔ
وہ لوگ دیکھنے میں اکژمعصوم ہوتے ہیں ۔
میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا
کہ دل کا زہرمری چشم ترسے نکلاتھا۔
میں شب کا بھی مجرم ہوں سحر کا بھی ہوں مجرم
👃👃یارو مجھے اس شہر کے آداب سکھادو۔
اَب کیوں روشنی سے ڈرتے ہوفرازؔ
تم توکہتے تھے مجھے چاند چاہیئے۔
کچھ محبت کانشہ پہلے ہم کو تھافرازؔ
دل جو ٹوٹاتو نشے سے محبت ہوگئی۔
محبت کے بعد محبت ممکن ہے فرازؔ
پرٹوٹ کے چاہناصرف ایک بارہوتاہے۔
اس نے مجھے چھوڑدیاتوکیاہوافرازؔ
میں نے بھی توچھوڑاتھا سارا زمانہ اس کے لیے۔
میرے مرنے پر سب خوش ہوں گے فرازؔ
بس اک تنہائی روئے گی کہ میرا ہمسفر چل بسا۔
ہم نے آغاز محبت میں ہی لُٹ گئے ہیں فرازؔ
لوگ کہتے ہیں کہ انجام بُراہوتاہے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain