Damadam.pk
Shayan.shaikh's posts | Damadam

Shayan.shaikh's posts:

Shayan.shaikh
 

یوں پھر رہاہے کانچ کا پیکرلیے ہوئے
غافل کو یہ گمان ہے کہ پتھر نہ آئے گا۔

Shayan.shaikh
 

دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہترہے۔

Shayan.shaikh
 

سنا ہے تمہاری ایک نگاہ سے قتل ہوتے ہیں لوگ
ایک نظر ہم کو بھی دیکھ لوکے زندگی اچھی نہیں لگتی ۔

Shayan.shaikh
 

س قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج میں نے پہلی بار اس سے بے وفائی کی۔

Shayan.shaikh
 

اے خدا میرے دوست کو سلامت رکھنا
ورنہ میری شادی میں برتن صاف کون کرے گا

Shayan.shaikh
 

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلوبات کرکے دیکھتے ہیں۔

Shayan.shaikh
 

سنا ہے عشق کا شوق نہیں ہے تمہیں
مگر برباد تم کمال کا کرتے ہو

Shayan.shaikh
 

جب اس نے پر کاٹ کے پنجرہ کھول دیا
اڑنے کے زمانے بہت یاد آئے

Shayan.shaikh
 

تم کیا جانو محبت کے میم کا مطلب
مل جائے تو معجزہ نہ ملے تو موت

Shayan.shaikh
 

یہ اداس شاعری میں یونہی نہیں لکھتا
جب ٹوٹتا ہوں تو لفظوں میں بکھر جاتا ہوں

Shayan.shaikh
 

کاش روح کی جگہ 'تم' ہوتے میرے جسم میں.
جب 'تم' چھوڑ کے جاتے تو ہم مر تو جاتے.

Shayan.shaikh
 

اب تو درد سہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے فرازؔ
جب درد نہیں ملتا تو دردہوتاہے

Shayan.shaikh
 

دھڑ کنیں بے قا بو ہو جا تی ہیں
و ہ اِ ک نظر جب اٹھا کر دیکھتی ہے۔

Shayan.shaikh
 

اسے بارش پسند ہے اور مجھے بارش میں وہ
اسے ہنسنا پسند ہے اور مجھے ہنستے ہوئے وہ
اسے بولنا پسند ہے اور مجھے بولتے ہوئے وہ
اسے سب کچھ پسند ہے اور مجھے بس وہ

Shayan.shaikh
 

ہم تو کسی دوست کی برائی نہیں کرتے
ہمارے یار بھی کبھی کچھ ادائی نہیں کرتے

Shayan.shaikh
 

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

Shayan.shaikh
 

شوہر محبت کا سمندر ہوتا ہے بیوی چاہتی ہے کہ وہ اکیلی ہی اس سمندر میں شارک بن کر گھومتی پھرے
جبکہ شوہر چاہتا ہے کہ اس سمندر میں بہت ساری مچھلیاں ہوں
ھاھاھاھاھاھا

Shayan.shaikh
 

وہ مزہ نہیں دنیا کے کسی کونے میں
جو مزہ ہے صبح اٹھ کر پھر سے سونے میں

Shayan.shaikh
 

پرائیویٹ جاب سے چھٹی لینا
کسی کنجوس سے ادھار لینے کے مترادف ہے

Shayan.shaikh
 

اے بھٹکے ہو ئے انسان تو اپنے آ پ کو پہچان
تیرا مقصد ہے دنیا سے بچا کر لے جانا ایمان۔
محمد اختر انصاری