یوں پھر رہاہے کانچ کا پیکرلیے ہوئے
غافل کو یہ گمان ہے کہ پتھر نہ آئے گا۔
دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہترہے۔
سنا ہے تمہاری ایک نگاہ سے قتل ہوتے ہیں لوگ
ایک نظر ہم کو بھی دیکھ لوکے زندگی اچھی نہیں لگتی ۔
س قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج میں نے پہلی بار اس سے بے وفائی کی۔
اے خدا میرے دوست کو سلامت رکھنا
ورنہ میری شادی میں برتن صاف کون کرے گا
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلوبات کرکے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے عشق کا شوق نہیں ہے تمہیں
مگر برباد تم کمال کا کرتے ہو
جب اس نے پر کاٹ کے پنجرہ کھول دیا
اڑنے کے زمانے بہت یاد آئے
تم کیا جانو محبت کے میم کا مطلب
مل جائے تو معجزہ نہ ملے تو موت
یہ اداس شاعری میں یونہی نہیں لکھتا
جب ٹوٹتا ہوں تو لفظوں میں بکھر جاتا ہوں
کاش روح کی جگہ 'تم' ہوتے میرے جسم میں.
جب 'تم' چھوڑ کے جاتے تو ہم مر تو جاتے.
اب تو درد سہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے فرازؔ
جب درد نہیں ملتا تو دردہوتاہے
دھڑ کنیں بے قا بو ہو جا تی ہیں
و ہ اِ ک نظر جب اٹھا کر دیکھتی ہے۔
اسے بارش پسند ہے اور مجھے بارش میں وہ
اسے ہنسنا پسند ہے اور مجھے ہنستے ہوئے وہ
اسے بولنا پسند ہے اور مجھے بولتے ہوئے وہ
اسے سب کچھ پسند ہے اور مجھے بس وہ
ہم تو کسی دوست کی برائی نہیں کرتے
ہمارے یار بھی کبھی کچھ ادائی نہیں کرتے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
شوہر محبت کا سمندر ہوتا ہے بیوی چاہتی ہے کہ وہ اکیلی ہی اس سمندر میں شارک بن کر گھومتی پھرے
جبکہ شوہر چاہتا ہے کہ اس سمندر میں بہت ساری مچھلیاں ہوں
ھاھاھاھاھاھا
وہ مزہ نہیں دنیا کے کسی کونے میں
جو مزہ ہے صبح اٹھ کر پھر سے سونے میں
پرائیویٹ جاب سے چھٹی لینا
کسی کنجوس سے ادھار لینے کے مترادف ہے
اے بھٹکے ہو ئے انسان تو اپنے آ پ کو پہچان
تیرا مقصد ہے دنیا سے بچا کر لے جانا ایمان۔
محمد اختر انصاری
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain