زۀ د مينې اباسين يوړم، لاهو شوم
ستا د مينې غر دې تا ته مبارک شي
په خوږ نظر چې دې راوکاتۀ نن
زۀ دا احسان خو دې منمه کنه
ستا د خورو زلفو غُنچې ، د ملاکنډ بادونه
پۀ بدهايي زمکه ګُلرنګې! کرامات ګرځي
تا به زه دومره خبر کړے خو وې
زه که خبر له دې بازار نه ووم
زه د خپل زړه په نرې تار زنګیدم
زه د هیچا پشان په در نه ووم
عورت محض ایک فانوس نہیں بلکہ تہذیب کی وہ روشنی ہے جو صدیوں کے تجربوں سے تراشی گئی ہے
ہر آنکھ اس کی چمک برداشت نہیں کر سکتی
کیونکہ سچ کی روشنی کمزور نظر والوں کو ہمیشہ چبھتی ہے
🌱❤️
“جیسے ننگے پاؤں، پھٹے پرانے کپڑوں والے بچے، اپنی خالی جیبوں کا احساس لیے،
دکان کے بند شیشوں سے مہنگی چیزیں صرف دیکھ سکتے ہیں، دل کو چھو نہیں سکتے—
میں بھی تمہیں یوں ہی، محسن، اکثر تکتا رہتا ہوں۔”
پھر وہی دسمبر کی۔۔
آخری اُداس راتیں ہیں۔۔
کُھلا دریچہ ہے۔۔
سرد ہوا ہے۔۔
خاموشی کا پہرہ ہے۔۔
تنہائی کا ڈیرہ ہے۔۔
کافی کا ایک کپ ہے۔۔
اور، چند یادیں ہیں۔۔
یہ کتنا جان لیوا موسم ہے۔۔
دسمبر کیوں اتنا گُم سُم ہے؟؟
جب متبادل مل جائیں تو لوگ تبدیل کر لیتے ہیں راستہ بھی، مزاج بھی، رشتہ بھی، کتاب بھی اور الفاظ بھی۔
سنا ہے وہ بچھڑ کے بھی نہال ہے، کمال ہے
میرے تو ہو گئے ہیں، دو جہاں اِدھر اُدھر
میں وہ دُھتْکارا ہوا پُھول ہُوں۔۔۔!!
جِس کو آخری وقت تک آس میں رَکھا گیا ہے۔۔۔
💔
*محبت کے مسافر جب پلٹنا بھول جاتے ہیں❤🩹🫠*
*تو اُن کے چاہنے والے سنورنا بھول جاتے ہیں ❤🩹🙃*
*کچھ لوگ پل بھر کی اجازت لے کے آتے ہیں❤🩹🥹*
*مگر پھر عمر بھر دل سے نکلنا بھول جاتے ہیں💔😭*
سا دہ سڑے یم زندگی خپلہ رنگینہ ساتم❤
خلک نفرت کوی زہ ھر چاسرہ مینہ ساتم ❤
رابطہ بھی نہیں رکھتا ہے سرِ وصل کوئی
اور تعلق بھی معطل نہیں ہونے دیتا
دِل یہ کہتا ہے اسے لوٹ کے آنا ہے یہیں
یہ دلاسہ مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا....
محبّت کی آخری حد ہے ذلیل ہونا
خاموشیاں بھی خوفزدہ ہیں مجھ سے__
کچھ اس قدر کچلی ہے تو نے ذات میری__🖤🥀😢
میری حاصل محبت فقط اتنی سی ہے٬꧁༺
میری ذات ہے خالی، بن خیال تیرے❣❣
ګیلې مې پرېښي ګیله نه کړم
خداې خبر بد کؤم که ښه کړم
ستا له دیدنه به روژه کړم
نورې ښېرې به درته نه کړم
مخ دې بدرنګ شه چې غرور دې خاورې شینه
د روژې بختوره میاشت مو بختوره شه
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain