اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے سانس لینے کا بھی تاوان کیا جائے وُصول سبسِڈی دُھوپ پہ کچھ اور گھٹا دی جائے رُوح گر ھے تو اُسے بیچا ، خریدا جائے وَرنہ گودام سے یہ جنس ھٹا دی جائے قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے پیار سےدیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے تجزیہ کر کے بتاؤ کہ منافع کیا ھو گا بوندا باندی کی اَگر بولی چڑھا دی جائے آئینہ دیکھنے پہ دُگنا کرایہ ھو گا بات یہ پہلے ، مسافر کو بتا دی جائے تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے یہ اَگر پیشہ ھے تو اِس میں رِعایت کیوں ھو بھیک لینے پہ بھی اَب چنگی لگا دی جائے کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو بے لگانوں کی تو بستی ھی جلا دی جائ