حالات میرے مجھ سے نہ معلوم کیجئے
مدت ہوئی ہے میرا مجھ سے واسطہ نہیں
کسی کو کیسے بتائیں بھلا ہم خود بھی تو
تِیرے بچھڑنے کے اسباب کم ہی جانتے ہیں💔
تم مجھے روزِقیامت ملنا
تم سے میرا حساب باقی ہے
میری وفا کی محبت کی ابرو بھی رہے
قطع ہو تعلق ایسے کہ گفتگو بھی رہے
ہر وقت ملتی رہتی ہے مُجھے انجانی سی سزا
میں تقدیر سے کل پوچھوں کیسے میرا قصور کیا ہے
*غَلطیاں معاف کی جا سَکتی ہیں *ذِلت کے تماشے نہیں🖋
چڑھ جائے تو پھر__اتر تا ہی نہیں.. یہ عشق بھی غریب کےقرض جیسا ہے..
*تمہیں بس 'لاکھ' تک آتی ھے گنتی *ہائے کروڑوں خامیاں ہیں مجھ میں
پہلے سچ مُچ تباہ تو ہو لیں٫٫٫
مُفت میں اُسے بھول جائیں کیاـــــ
خاموشیاں کھا گی ہمیں ورنہ 🥺
گفتگو کمال کیا کرتے تھے ہم🥺
"روز تھکتی ہوں میں کچھ کر کے مرمت اپنی،
روز مجھ میں ہی کوئی نیا نقص نکل آتا ہے۔"
کبھی گھنٹوں تک ہوتی تھی باتیں ۔۔۔۔!
اب عرصہ ہوا اجنبی ہے ہم ۔۔۔🥀🦋🥺🥲
آؤ غفلت کے کسی جُھولے میں جُھولا جائے😟👀
روح میں اُترے ہوئے لوگوں کو بُھولا جائے🦋🥀💔
بس ذرا سی توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔
ہجر میں مر نہیں جاتے ہیں لوگ۔
مدتوں بعد ہنسی آئی تو
وہ بھی اپنے ہی حالت پہ
"اور مجھے زیادہ درد وہاں سے ملا جہاں میں مخلص تھی۔"
لفظوں کے زخم جھیلنے کے بعد بھولنے کا فن یا تو پاگل کو آتا ہے یا کامل کو۔۔۔
حقیقت سے سامنا ہوا تو پتہ چلا ۔۔!!
لوگ تو باتوں سے ہی اپنے ہوتے ہیں
یونہی گرتے گرتے اک روز سنمبھل جائیں گے
بدلہ نہیں لیں گے کسی سےہم ،بس بدل جائیں گے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain