کوئی قابل ہو تو ہم شانیں کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والے کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
جس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں
محفل کا وہی ساز ہے بیگانہ مضراب
بت خانے کے دروازے پر سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلمان تہ محراب
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
تیرا کوئی خط آیا
نہ کوئی خبر آئی
مل جاتے اگر اب ہم
آگ لگ جاتی پانی میں
بچپن سی وہی دوستی
ہو جاتی جوانی میں
اساں ایس حیاتی دے دن سارے
تیری آس تے ایویں گزار دتے
سانوں لگدا اے آونا توں کوئی نئیں
تاہیئوں بوہے اڈیک دے مار دتے
سر ھاڑ دی تعپ نے ساڑ دتا
ہتھ پوہ دے پالے نیں ٹھار دتے
کر نہ سکے ہم پیار کا سودا
قیمت ہی کچھ ایسی تھی
جیتی بازی ہار گئے ہم
قسمت ہی کچھ ایسی تھی
جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی اک ملاقات کی
اک بات کہوں گر سنتی ہو
تم مجھ کو اچھی لگتی ہو
ہیں چاہنے والے اور بہت
پر تجھ میں ہے اک بات بہت
تم اپنی اپنی لگتی ہو
ایسے ہنستی تھی وہ ایسے چلتی تھی
چاند کے جیسے چھپتی اور نکلتی تی
پربت کے پیچھے چمبے کا گاوں
گاوں میں دو پریمی رہتے ہیں
ہم تو نہیں وہ دیوانہ جن کو
دیوانے لوگ کہتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain