چراغ دل کا، مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
ہر ایک حال میں تیور بَلا کے رکھتے ہیں
ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
میں تیــری مست نگاہی کا بھرم رکھ لونگا
ہوش آیا بھی تو کہہ دونگا مجھے ہوش نہیں
مسئلہ جب بھی اُٹھا چراغوں کا
فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے🥀
سردیوں کی بارش بھی ادھورے خواب جیسی ہوتی ہے
ہم دیکھ تو سکتے ہیں لیکن بھیگ نہیں سکتے۔۔۔🥀🖤