داسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا وہ چاہتا ، تو مِرے ساتھ چل بھی سکتا تھا وہ شخص! تُو نے جسے چھوڑنے میں جلدی کی تِرے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا وہ جلدباز! خفا ہو کے چل دِیا، ورنہ تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا اَنا نے ہاتھ اُٹھانے نہیں دِیا ، ورنہ مِری دُعا سے، وہ پتّھر پگھل بھی سکتا تھا تمام عُمر تِرا منتظر رہا مُحسن یہ اور بات کہ ، رستہ بدل بھی سکتا تھا
بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے ہماری زندگی برباد کر کے پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے مگر ہاں منت صیاد کر کے بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن گیا ہے روح کو آباد کر کے ہر آمر طول دینا چاہتا ہے مقرر ظلم کی میعاد کر کے
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔ کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے قیصر الجعفری
ٹکتے رہنے کا بھی سِلسلہ ضروری ہے مِثالِ اَبر و ہَوا، دِل بَہم رہیں، لیکن مُحبّتوں میں ذرا فاصلہ ضروری ہے وہ خوف ہے کہ سَرِ شام گھر سے چَلتے وقت گَلی کا دُور تلک جائزہ ضروری ہے مِلے اِس آنکھ کو بھی تیرے خواب کی اُجرت چراغِ کشتہ کو اِتنا صِلہ ضروری ہے نجانے فیصلہ باقی کہ اِختلاف رہے کنارِ مَتن کوئی حاشیہ ضروری ہے تعلقات کے نا مُعتبر حوالوں میں تمام عُمر کا اِک رابطہ ضروری ہے
س مُروّت پہ مُحبّت کا گُماں کیا ہو گا تُو اگر دیکھ بھی لے دِل نگراں کیا ہو گا وہ فسانہ کہ جسے کہہ نہ سَکے آنسُو بھی خُشک ہونٹوں کے تبسّم سے بیاں کیا ہو گا ہم جہاں بیٹھے ہیں وہ شہر بھی ویرانہ ہے ہم جہاں خاک اُڑائیں گے وہاں کیا ہو گا اب تو یُوں چُپ ہیں کہ جیسے کبھی روئے ہی نہ تھے اب جو روئیں گے تو اندازِ فُغاں کیا ہو گا بیچ کر آنکھیں، خریدے ہیں یہ آنسُو ہم نے مول اِس جنس کا اب اور گراں کیا ہو گا اَپنی ہی شکل ہے شہزادؔ! جدھر دیکھتا ہُوں دِل بھی آئینہ ہے صاحب نظراں کیا ہو گا