او زڑہ♥️ مے پہ شنو سترگو مئین دے🙈🙈🙈
زکہ پہ سپینہ پانڑہ📝📝📝 شنہ لیکل✍️ کومه ✍️✍️✍️
♥️♥️♥️
از قلم وفا نور آفریدی
*کلہ نا کلہ دومرہ تنگ شم*
*وامہ چی ستا د در ملنگ شم*
*چی چرتہ رک شم د دنیا نہ*
*دی غمونو نہ پہ سنگ شم*
*تہ لکہ شمع شان زلیگی*
*زہ لکہ زار درنہ پتنگ شم*
*ربہ ربہ تاتہ سوال کڑم*
*چی دنیا د چارو تنگ شم*
*چا دہ پارہ بے معنی یم*
*زنی خلقو لہ فرھنگ شم*
*خاکسار گرزی پہ ارمان ئی*
*وائی چی یار سرہ پہ سنگ شم*
❤🩹🥀
آفریدی
🥀داسے خلقو نہ مے لرے ساتے خدایہ،،،، 🥀
چے پہ زڑہ یے راتہ یوہ وی پہ خولہ بلہ.
از قلم وفا نور آفریدی
وختہ قرار شہ امتحان زمونگ دا مینے مکڑا
مونگہ پہ زڑہ باندے لیکلی یاران نہ ھیراو.💪 ❤❤


از قلم وفا نور آفریدی
🔥سہ پہ خندا🥀 سہ 🥀 پہ جڑا 🥀 تیریگی💥
🔥داسے میں ھر 🥀صبا بیگا🥀 تیریگی💥
🔥بے وافا ھر 🥀 سوک 🥀چاتہ حال 🥀 نہ وائی💥
🔥کنی 🥀غمونہ پہ 🥀 ھر 🥀چا تیریگی.
از قلم وفا نور آفریدی
.
ذما د حال پوختنہ سلہ کوے
پہ زڑہ دے یوہ وی او پہ خلہ بلہ کوے
ذہ چہ پہ کومہ باندے مرمہ گلے
ھغہ خبرہ سو سو زلہ کوے
زڑگیہ جاڑہ وس گیلے مہ کوہ
از قلم وفا نور آفریدی
سہ چہ کوے پہ زان پخپلہ کوے
چہ د پوختنے پہ ارمان دے مڑ شی
تہ بہ ئ د چم پوختنہ ئ ھلہ کوے
🤦اصلیحت راتہ معلوم شو دا یارانو
🙏 درتہ سوال کڑم لویہ خدایہ چے مختاج می ورتہ نہ کڑے 😰
✌️🙄
از قلم وفا نور آفریدی
مینہ ثواب دؠ کہ غذاب دؠ
زہ ۓ کوم مُلا دے گوری کتابونہ
از قلم وفا نور آفریدی
میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو
کاش ہو جائے یہ خبر تم کو
زندگی میں کبھی کسی کو بھی
میں نے چاہا نہیں مگر تم کو
جانتی ہوں کہ تم نہیں موجود
ڈھونڈھتی ہے مگر نظر تم کو
تم بھی افسوس راہ رو نکلے
میں تو سمجھی تھی ہم سفر تم کو
مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو
از قلم وفا نور آفریدی
میں اپنی دوستی کو شہر میں رسواء نہیں کرتی
محبت میں بھی کرتی ہوں مگر چرچا نہیں کرتی
جو مجھ سے ملنے آ جائے میں اس کی دِل سے خادم ہوں
جو اٹھ کے جانا چاھے میں اسے روکا نہیں کرتی
جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے پِھر بھول جاتی بوں
پِھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نہیں کرتی
تیرا اصرار سر آنكھوں پہ کے تم کو بھول جاؤں میں
میں کوشش کر کے دیکھوں گی مگر وعدہ نہیں کرتی
از قلم وفا نور آفریدی
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
بے نام سے سپنے دیکھا کر
یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں
ہے یہاں پہ کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں
کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے
وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
از قلم وفا نور آفریدی
سنو! اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے
کہ اک رستے پہ چلتے چلتے سو رستے نکل آئے
اگرچہ کم نہ تھی، چارہ گران شہر کی پرسش
مگر! کچھ زخم نا دیدہ بہت گہرے نکل آئے
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
بہت دن تک حصار نشہ یکتائی میں رکھا
پھر اس چہرے کے اندر بھی کئی چہرے نکل آئے
پرانے زخم بھرتے ہی، نئے زخموں کے شیدائی
مزاج آئنہ اوڑھے ہوئے گھر سے نکل آئے
تضاد ذات کے باعث کھلا وہ کم سخن ایسا
ادھوری بات کے مفہوم بھی پورے نکل آئے
از قلم وفا نور آفریدی
جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا
سمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگا
اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری
یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا
خوش فہمی ابھی تک تھی یہی کار جنوں میں
جو میں نہیں کر پایا کسی سے نہیں ہوگا
تدبیر نئی سوچ کوئی اے دل سادہ
مائل بہ کرم تجھ پہ وہ ایسے نہیں ہوگا
بے نام سے اک خوف سے دل کیوں ہے پریشاں
جب طے ہے کہ کچھ وقت سے پہلے نہیں ہوگا
از قلم وفا نور آفریدی
*`وضو کے بعد کی دعا`*
*اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ*
’’اے اللہ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں میں سے بنادے اور مجھے پاک صاف رہنے والوں میں سے کردے۔‘‘
جامع الترمذی، الطھارۃ، باب فی مایقال بعد الوضوئ؟ حدیث:55
از قلم وفا نور آفریدی
غصہ ہمیشہ تنہا آ تا ہے، لیکن جا تے ہو ئے اپنے
سا تھ ساتھ عقل ،اخلاق اور شخصیت کی خو بصورتی کو لے جا تا ہے
از قلم وفا نور آفریدی
ماد تول عمر پہ مندو یو کوتہ آبادہ نہ کرِہ
غنی پہ تمعہ د جنت دی پہ یو حو و ختہ منحو نو
از قلم وفا نور آفریدی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain