کبھی کسی کے بارے میں خود سے فیصلہ نہ کرو
کیونکہ تم نہیں جانتے کس کا باطن کتنا پاکیزہ ہے
از قلم وفا نور آفریدی
وہی انسان مکمل ہے جس کے پاس نصیحت کے لیے الفاظ کی بجائے
عمل اور اچھا کردار ہے اچها بولو اچھا سوچو کیونکہ بد گمانی اور
بد زبانی دو ایسے عیب ہیں جو انسان کے ہر کمال کو زوال میں بدل دیتے ہیں
از قلم وفا نور آفریدی
آپ کسی سے محبت تو کر سکتے ہیں لیکن
کسی کو زبردستی خود سے محبت نہیں کروا سکتے
از قلم وفا نور آفریدی
*خاموشی کی اقسام درج ذیل ہیں...*
*آزمائش کے وقت تمہاری خاموشی ثواب ہے۔*
*فتنوں کے دور میں تمہاری خاموشی نجات ہے۔*
*کامیابی کے وقت تمہاری خاموشی اعتماد ہے۔*
*غصے کے وقت تمہاری خاموشی طاقت ہے۔*
*کام کے وقت تمہاری خاموشی تخلیق ہے۔*
*ان کی تمسخر کے وقت تمہاری خاموشی بلندی ہے۔*
*صحیح کے وقت تمہاری خاموشی ادب ہے۔*
*غم کے وقت تمہاری خاموشی صبر ہے۔*
*مشکل حالات کے وقت تمہاری خاموشی نادانی ہے۔*
*گناہ کے وقت تمہاری خاموشی کمزوری ہے۔!!*
از قلم وفا نور آفریدی
❤️
دو دن کی زندگی ہے اسے دو ہی اصولوں پر گزارو
رہو تو پھول کی طرح بکھرو تو خوشبو کی طرح
از قلم وفا نور آفریدی
ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کر لی
اس طرح سے بسر زندگی کر لی
از قلم وفا نور آفریدی
*✍🏻جب کوئی تمہارے بدترین پہلو دیکھ کر بھی تمہارے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرے، تب تمہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص تمہاری زندگی میں رہنے کے لائق ہے۔ ہر کوئی مشکل وقت میں تمہارے ساتھ کھڑا نہیں رہتا، اس لیے ان لوگوں کی قدر کرو جو تمہارے بدترین حالات میں بھی تمہارے ساتھ رہتے ہیں، کیونکہ وہی لوگ تمہاری بہترین حالت کے مستحق ہیں۔ 💯♥️*
اللہ حافظ
از قلم وفا نور آفریدی
لاتجبروا أحداً على إعتناق أرواحكم فالحب مثل الدين لا إكراه فيه
*کسی پر بھی جبر نہ کرو کہ تمہاری روح سے گلے ملے محبت تو دین کی مثل ہے جس میں زبردستی نہیں ہوتی*
❗ جلال الدين الرومي ❗
یعنی آپ کسی سے زور زبردستی محبت نہیں کر سکتے نہ کس کو خود سے محبت کرنے ہر مجبور کر سکتے ہیں
محبت تو روحوں کی پہچان کا نام ہے یہ لطافت و رحمت سے ہوتی ہے *زور و جبر سے پہچان کی ابتداء ہی نفرت سے ہوتی ہے*
لہذا جو تم سے منہ موڑے اس کے پیچھے مت جاؤ اسے قائل کرنے کی کوشش اور مائل کرنے کے انداز نہ اپناؤ
`جو روح تمہاری روح سے مانوس ہے اس کی روح خود ہی آ کر تمہارے گلے لگ جائے گی` نہ قائل کرنا پڑے گا نہ مائل کرنا پڑے گا
✍️ از قلم وفا نور آفریدی
ابن حزم نے*طوق الحمامة*میں محبت کرنے والوں کی ایک عجیب نشانی لکھی ہے
کہ جب دو محبت کرنے والوں درمیان محبت پختہ ہوجاتی ہے ان کے باہمی عہد و پیمان طے پا جاتے ہیں تو*دونوں کے قول فعل میں تضاد ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہو
اور یہ تضاد خوامخواہ بے معنی ہوتے ہیں.
اس کی وجہ جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے شروع میں تو چڑیا باز کا شکار کرنے میں *سو سو حیلے کرتی ہےباز کی ہر اچھی بری بات کو تسلیم کرتی ہے
*یونہی شاہین چڑیا کی ہر حق و ناحق بات پر سر جھکا لیتا ہو
مگر جب باز و چڑیا میں محبت کے عہد و پیمان طے پا جاتے ہیں تو پھر کھل کر اختلاف کیا جاتا ہے
اور یوں دونوں بیچارے ایک محبت کے جال میں پھنس کر رہ جاتے ہی
اسی جال میں رہ کر باہم لڑتے جھگڑتے ہیں
نہ محبت سے مکر سکتے ہیں نہ اختلاف رائے کو چھپا سکتے ہیں اور باہم جھگڑتے رہتے ہیں ازقلم وفانورآفریدی
28_Dec_2024
Wafaaa_Nooor
"کرسمس ڈے"
اللہ کو گالی دینے کے مترادف!
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
: شتمني ابن آدم وما ينبغي له ان يشتمني ويكذبني، وما ينبغي له اما شتمه، فقوله: إن لي ولدا واما تكذيبه، فقوله: ليس يعيدني كما بداني".
ترجمہ- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ مجھے گالی دیتا۔ اس نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے یہ بھی مناسب نہ تھا۔ اس کی گالی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، میرا بیٹا ہے اور اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ جس طرح اللہ نے مجھے پہلی بار پیدا کیا، دوبارہ (موت کے بعد) وہ مجھے زندہ نہیں کر سکے گا۔
[صحیح البخاری: 3193]
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain