حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ أَوْ كَمَا قَالَ ابوعمران جونی نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کون ہے جو مجھ پر قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا ؟ میں نے ( اس ) فلاں کو تو بخش دیا اور ( ایسا کہنے والے ! ) تیرے سارے عمل ضائع
Asslaam Alikum kasy ho,bhai,bhno Mujhko dus sipary chaye pehly wali kya,koi,parh ke diga agar apni,kamo me bzi,ho ya apni ibadat me bzi ho koi bt nhe zbrdasti ke bt nhi he ok
ادب کے ساتھ کرنی چاہیے۔ قرآن کریم کی تلاوت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک حرف کے بدلے نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی رسول اللہ کا ارشاد ہے : ’’جو شخص کتاب اللہ کے ایک حرف کی تلاوت کرے اسے ہر حرف کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی، ہر نیکی10 نیکیو ں کے برابر ہوگی۔ ‘‘ (ترمذی)۔ احادیث مطہرہ میں نبی اکرم کی تلاوت کا معمول بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نبی اکرم صحابہ کرامؓ سے بھی قرآن کی تلاوت سنتے تھے۔ آپ نے درست تلفظ اور خوش الحانی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے کا حکم دیا لہٰذا ہرمسلمان کو اپنی دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کو معمول بنانا چاہیے۔ اس ویڈیو میں دیکھیں کہ حسینہ نامی ایک نائیجرین بچی انتہائی خوبصورت اور دل سوز آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کررہی ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز ک
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن حکیم سیکھے اور سکھائے اور ایک روایت میں ان ہی سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میں سے افضل شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ قرآن کریم اللہ پاک کی مضبوط رسی ہے، جس نے بھی اسے مضبوطی سے پکڑ لیا، اس کی تلاوت کی وہ دنیا وآخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا، قرآن کریم کی تلاوت روحانی وجسمانی بیماریوں کے لیے دوا کا کام بھی کرتی ہے، قرآنِ کریم کی تلاوت انتہائی ادب کے ساتھ کرنی چاہیے۔ قرآن کریم کی تلاوت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک حرف کے بدلے نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے د
حمد و ثنا اور توبہ و استغفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ایک دن میں سو مرتبہ کہے: اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو معاف ہوجاتے ہیں۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ ’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت۔‘‘ صحیح البخاری، الدعوات، باب فضل التسبیح، حدیث: 6405، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6842
توبہ و استغفار اغرمزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے دل پر پردہ سا آجاتا ہے اور میں دن میں سو دفعہ اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتا ہوں۔ صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب استحباب الاستغفار…، حدیث: 6858۔
دعا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ ’’پاک ہے تو اے اللہ! اپنی تعریفوں کے ساتھ، میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘ Supplication after ablution Reference: An-Nasa'i, 'Amalul-Yawm wal-Laylah, p. 173. See also Al-Albani, 'Irwa'ul-Ghalil 1/135 and 2/94.
دعا اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ’’میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے۔ تو بہت بابرکت ہے اے بڑی شان اور عزت والے!‘‘
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain