چیخنے لگ گئی اندر کی اداسی مجھ میں میں نے رو رو کے تجھے اتنا پکارا، یارا ایک بھی پل نہیں کٹتا تھا تجھے دیکھے بن اب ترے بعد کریں کیسے گزارا، یارا میں تو اب بھی ہوں تری آنکھ سے اوجھل منظر تُو تو اب بھی ہے مجھے جان سے پیارا، یارا Malik 💔
" کِس نے مُجھ سے عشق کیا، کون میرا محبوب ہوا! میرے سب افسانے جُھوٹے، سارے شعر خیالی ہیں..!!! نہ پوچھ کيسى اذیت کے خار زار میں ھوں میں اپنی آخرى ھچکى کے انتظار میں ھوں Malik 💔
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھُلا ہی دیں گے لفظ میرے، مِرے ہونے کی گواہی دیں گے عکسِ خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی Malik 💔
احمد فراز جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے ہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگے گئی رتوں کا تعلق بھی جان لیوا تھا بہت سے پھول نئے موسموں میں مرنے لگے وہ مدتوں کی جدائی کے بعد ہم سے ملا تو اس طرح سے کہ اب ہم گریز کرنے لگے غزل میں جیسے ترے خد و خال بول اٹھیں کہ جس طرح تری تصویر بات کرنے لگے بہت دنوں سے وہ گمبھیر خامشی ہے فرازؔ کہ لوگ اپنے خیالوں سے آپ ڈرنے لگے
اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں بوجھ پانی کا اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں پاؤں رکھتے ہیں جو مجھ پر انہیں احساس نہیں میں نشانات مٹاتے ہوئے تھک جاتا ہوں برف ایسی کہ پگھلتی نہیں پانی بن کر پیاس ایسی کہ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں اچھی لگتی نہیں اس درجہ شناسائی بھی ہاتھ ہاتھوں سے ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں غمگساری بھی عجب کار محبت ہے کہ میں رونےوالوں کو ہنساتے ہوئے تھک جاتا ہوں اتنی قبریں نہ بناؤ میرے اندر محسن میں چراغوں کو جلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں محسن نقوی Makik
طلوعِ فجر سے پہلے کے منظر دیکھتے رہنا مرا معمول ہے راتوں کو اکثر جاگتے رہنا کسی کی یاد کے سارے حوالے ذہن میں رکھ کر خلاؤں میں کوئی گم گشتہ جنت ڈھونڈتے رہنا کبھی یخ بستہ راتوں میں کسی کا منتظر رہنا تصور میں کبھی ماضی سجا کر سوچتے رہنا کبھی بے چارگیِٔ عشق کے ہاتھوں سرِ محفل شکستہ آرزوؤں سے مسلسل کھیلتے رہنا گلوں کی تازگی سے اکتسابِ رنگ و بو کرنا جبینِ شوق پر روشن ستارے ٹانکتے رہنا Malik 💔
احمد فراز جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے ہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگے گئی رتوں کا تعلق بھی جان لیوا تھا بہت سے پھول نئے موسموں میں مرنے لگے وہ مدتوں کی جدائی کے بعد ہم سے ملا تو اس طرح سے کہ اب ہم گریز کرنے لگے غزل میں جیسے ترے خد و خال بول اٹھیں کہ جس طرح تری تصویر بات کرنے لگے بہت دنوں سے وہ گمبھیر خامشی ہے فرازؔ کہ لوگ اپنے خیالوں سے آپ ڈرنے لگے #Malik 💔
اک انجمن میں تری میرا ذکر ہوا پھر اس انجمن میں تازہ مرا ہجر ہوا اس ہجر میں پھر پیدا ترا فکر ہوا اس فکر میں میں ڈوب چلا ڈوبتے ڈوبتے تری یادوں سے ملا پھر تخیلاتی فراق ہوا فراق کے رنج میں بھی قزاق ہوا قزاق ہو کر میں نے لوٹے قافلے ان قافلوں میں پھر ہم تم سے جا ملے ملن میں پھر جامِ مہ ملے پھر آخر میں تمہارے لب کھلے ان لبوں سے مرا نام نکلا چلو بے شک برسرِ الزم نکلا مگر اب اس سخن سے بھی امان دل اُٹھ تو چلا مگر غم نہیں کہ انجمنِ یار میں مرا ذکر تو چلا (قاسم علی امان) #Malik 💔
حدیثِ درد کو آخر بیاں تو ہونا تھا جو کرب دل میں چھپا تھا عیاں تو ہونا تھا وہ پاس رہتے ہوئے فاصلوں کا قائل تھا اس اہتمام کو پھر داستاں تو ہونا تھا زمیں کا تاج تھا وہ شخص اپنی ہستی میں زمیں سے بڑھ کے اسے آسماں تو ہونا تھا دکھوں کی دھوپ کے اس دورِ بے مروّت میں مجھے کسی کے لئے سائباں تو ہونا تھا تجھے یہ کس نے کہا تھا حساب مانگ اس سے اب ایسی بات پہ جاں کا زیاں تو ہونا تھا جہاں سبھی تھے وہاں پر نہیں تھا میں لیکن جہاں کوئی بھی نہیں تھا وہاں تو ہونا تھا جو میں نہ ہوتا سرِ دار، دوسرا ہوتا کسی کو خلقِ خدا کی زباں تو ہونا تھا وہ خود پسند، جفا کار شخص تھا انورؔ نتیجتاً اسے بے کارواں تو ہونا تھا Malik 💔