ﺁﺝ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻝ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﺎﻝ ﮐﺮﻭﮞ , ﮈﮬﯿﺮﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ , ﭘﮭﺮ ﮐﺎﻝ ﮐﭧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻏﺒﺎﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻧﮑﺎﻝ ﭘﮭﯿﻨﮑﻮﮞ💔💔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺫﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﮨﯽ ﺗﺮﺱ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎﻭﮮ ﮐﯽ ﻧﺰﺩﯾﮑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯽ ﺩﻭﺭﯾﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﯿﮟ
ﺁﮒ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﻮ
ﺑﮭﺎﮌﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺎﺭﮮ
انسان سنجیدہ ہو کے کیا کرے جبکہ وہ جانتا ہے کہ اک دن اسے اپنی سنجیدگی کے ساتھ دفن ہو جانا ہے
ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﺍﻭﺭ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﻭﮦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻠﮯ ﺑﮭﻼ ﻓﺮﺻﺖ
ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﺁﭖ ﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺩُﻋﺎ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺟﻮ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺧﺪﺍ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﺧﺪﺍ ﺻﺒﺮ ﺩﮮ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ
ﻣﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ
خود کو کسی کا عادی ہی نہ بنائیں۔ کہ آپکی خوشیاں - اسکی فرصتوں۔ اور موڈ - کی محتاج ہو کر رہ جائیں -
سالوں کا تعلق ہو، غضب کی محبت ہو یا بلا کا عشق ھو،جن لوگوں کیلئے آپ بیکار ہو جائیں وہ لاتعلقی ظاہر کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاتے - 🥀💔
•
بھت خاموش لوگوں سے بھھت الجھا نہی کرتے
جو دل کے روگ لگ جاٸیں تو پھر سلجھا نہی کرتے
میں بھیک دے کے بھکاری سے بددعا لوں
گی
کہ مجھ کو عین جوانی میں موت آجاۓ
" محبتوں"
کے " امین"
ہیں ہم
گویا
" احمق ترین"
ہیں ہم
" زندہ"
" جسم" میں
" مردہ دل"
ڈھونا بھی
بڑا عذاب ہے