ﻋﺸـــــــــــــــﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﯽ ﮨﺎﻧﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺑﺎﻝ
ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ "ﮬﻮ" ﭘﮑﺎﺭﺗﯽ ﮬﯿﮟ
ﺍﻭﺭ "ﮬﻮ" ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﮬـﮯ ﺟﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ
ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﮩﺮﺍ ﮬﮯ۔ ﻋﺸــــــــــــــــــــــــﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ
"ﮬﻮ" ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺗﭙﺎﺗﺎ ﮬـﮯ
ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺁﮒ ﭘﺮ ﭘﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﯾﺴﮯ
ﮬﯽ ﻋــــــــــــــــــــﺎﺷﻖ ﺑﮭﯽ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ
ﮬﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﺟﻠﺘﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄـــــــــــــــــﺮﺍﺏ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ
ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ
اس کا نام میرے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں لکھا گیا
لیکن میرے بخت میں موجود محبت کی لکیر میں صرف اور صرف اسے بسایا گیا ہے
اس کے لیے اپنے دل میں اتنی محبت دیکھ کر تو کبھی کبھی میں خود بھی حیران ہو جاتی ہوں کہ یہ آتی کہاں سے ہے، کیسے یہ محبت ارض و سما کی وسعتوں کی برابری کرنے پہ تُلی ہے۔۔🖤🙂
اتنی محبت کے باوجود بھی میں اسے اپنے نام نہیں کر سکتی
اور دکھ اس بات کا نہیں ہے کہ وہ میرا مقدر نہیں ہے
دکھ تو اس بات کا ہے کہ مجھے دو پل کے لیے بھی نہ اس کی محبت نصیب ہے اور نہ ہی اس کا ساتھ۔۔۔
اذیت!!!!!
سچ کہوں تو اب دِل سے بھی اپنے دل کی بات کرنے کا دل نہیں کرتا...💔
شاید ہم اِسی لئے بنے ہوں ،
ہر بار درمیان میں چھوڑے جانے کے لیے ،
جو نہیں پسند ، اُس کے ساتھ رہنے کے لیے ،
جو پسند ہے ، اُس سے دور رہنے کے لیے ___ "
ﮨﺎﮰ ﻣﺮﺷﺪ ﮨﻢ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ
ﺧﺰﺍﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺑﮯ ﺭﻭﻧﻖ ﮨﻮﺑﯿﭩﮭﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﺟﺎﺅﮞ گی
" ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ۔
تجھے یاد کر لیا ہے آیات کی طرح
قاٸم تو ہو گیا ہے روایات کی طرح🎶🎶🎶
میری آنکھوں کی ویرانی پر مت جاؤ اے دوست
میں اپنے بابا کی سب سے زیادہ ہنستی ہوئی بیٹی ہوں
غیروں کا ہوتے ہوتے مجھے آ ملا ہے تُو
آخر ہر ایک شخص کا اپنا نصیب ہے!
عائشہ شفق
میت پر میری منائیں گے یہ دکھاوے کا سوگ
یہ جھوٹے ـــــــــــ انا پرست ـــــــــــ مطلبی لوگ
" ہم کُچھ لوگوں کی زندگی میں بارہویں کھلاڑی کے طور پر موجود ہوتے ہیں ، جب کوئی اور دستیاب نہ ہو تو پھر ہمارا انتخاب ہوتا ہے ۔ " 🙂💔💔💔
میرے اندر آج اتنی خاموشی ہے کہ باہر کی ذرا سی آواز بھی میرے سر پہ ہتھوڑے کی طرح برس رہی ہے آج تو دل چاہ رہا کہ خاموش بیٹھ کر گھنٹوں آسمان کو دیکھوں کسی سے کچھ کہوں بھی نا اور کوئی سب سمجھ بھی لے
آج تو میں گھر بھی بات نہیں کی مجھے لگتا میں بات بعد میں کروں گی اور رونا پہلے شروع کر دوں گی
مجھے تمھارے میلے کپڑے نہیں پہننے !
وقت نے میرے دل سے
بھیڑیے کے دانت باندھ دیئے ہیں
میرے خون میں وحشت اگنے لگی ہے
خوشیوں کی پرورش کرتے ہوئے
دکھ مجھ سے زیادہ قد آور ہو گیا ہے
زندگی نے مجھے بہت بے آرام کیا ہے
لہٰذا میں جسم میں موت کو پناہ دینے سے نہیں ڈرتا
میں ہیجڑوں کی طوائف گاہ نہیں
جہاں تم اپنے ترس کی زکوٰۃ خیرات کر سکو
تمھاری ٹھوکر مجھے اس سے زیادہ نہیں توڑ سکتی
کیونکہ اب میں ہمدردی کی خواہش نہیں رکھتا
میں تم سے خفا نہیں
صرف اس بات پہ افسردہ ہوں
کہ تم نے میری تنہائی کو
اپنے میلے کپڑے پہنا دیئے ہیں
ﻗﮩﻘﮩﮯ ﺗﻮ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﮐﮭﺎﻭﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺗﻮ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ____
ﺧﻮﻑ ﮬﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﺮﺣﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ __
ﻣﻮﺕ ﮐﺐ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮬﮯ _
جس دن ہر ذی روح کو زندہ کیا جائے گا اور مُردوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا میری دعا ہے کہ اس دن بھی ہمارا سامنا نہ ہو_💔🙂
ﺑﺪﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺰﺍﺝ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ
ﻭﮦ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ😞😞😞
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻧﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﺷﺨﺺ
ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﺳﺎ " ﻋﺰﯾﺰ " ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ _
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ___ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ _ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain