بہت دنوں کی بات ہے_فضا کو یاد بھی نہیں_یہ بات آج کی نہیں_بہت دنوں کی بات ہے_شباب پر بہار تھی_فضاء بھی خشگوار تھی_نہ جانے کیوں مچل پڑا_میں اپنے گھر سے چل پڑا_کسی نے مجھے روک کر_بڑی ادا سے ٹوک کر_کہا تھا ! لوٹ آئیے_میری قسم نہ جائیے_پر مجھے خبر نہ تھی ماحول پر نظر نہ تھی_نہ جانے کیوں مچل پڑا_میں اپنے گھر سے چل پڑا_میں شہر سے پھر آ گیا_خیال تھا کہ پا گیا اُسے جو مجھ سے دور تھی_مگر میری ضرور تھی_اور اک حسیں شام کو_میں چل پڑا سلام کو_گلی کا رنگ دیکھ کر نئی ترنگ دیکھ کر_مجھے بڑی خوشی ہوئی_میں کچھ اسی خوشی میں تھا_کسی نے جھانک کر کہا_پرائے گھر سے جائیے_میری قسم نہ آئیے_وہی حسین شام ہے_بہار جس کا نام ہے_چلا ہوں گھر کو چھوڑ کر_نہ جانے جاؤں گا کدھر_کوئی نہیں جو ٹوک کر_کوئی نہیں جو روک کر_کہے کہ لوٹ آئیے میری قسم نہ جائیے میری قسم نہ جائیے
وہ جنگ کے میدان میں ہتھیار نہ ڈالے دشمن بھی اسی تاک میں ہے ، مار نہ ڈالے کہنا کہ کوئی کتنا بھی ڈر دل میں بٹھا دے قدموں میں کسی شخص کے دستار نہ ڈالے گھر کو ہی نہیں دل کو بھی تقسیم کرے گی آنگن میں کبھی بھی کوئی دیوار نہ ڈالے پہلے ہی مجھے عمرِ رواں بوجھ ہے ، دنیا شانوں پہ مرے اور کوئی بار نہ ڈالے اس بار رعایا کو سبق یاد کرا دو جو ہار کے آیا ہو اسے ہار نہ ڈالے