یہ بھی سچ ہے میں کسی گہری اذیت میں ہوں
اور قہقہوں میں سب سے اونچا قہقہ بھی میرا ہے
ہم کہانی کے وہ بوسیدہ کردار جنہیں
زندگی کیا ہے، بتانے کے لیے مارا گیا
#نفسیاتی 🥀🥀
یہ کون چُپکے سے تنہائیوں میں کہتا ہے
تِرے بغیر سُکوں عُمْر بھر نہیں ملنا.
ﺑﺲ ﺍتنا ﻋﺠﯿﺐ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﻮﺉ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ
ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﻮ ﭘﮕﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ سکتا
ﺑﺲ ﺍتنا ﻇﺎﻟﻢ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ......
ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ
ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﯽ ......
ﺧﺰﺍﮞ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﻓﺰﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ......
ﺑﺲ ﺍتنا ﺑﮯﺣﺲ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ !!!!!...
اُسے کہنا ..!
جہاں ہم نے بچھڑتے وقت لکھا تھا..!
کوئی رت ہو، کوئی موسم ۔۔!
محبت مر نہیں سکتی۔۔!
وہاں پر لکھ گیا کوئی ..!
تعلق خواہ کیسا ہو، بالآخر ٹوٹ جاتا ہے!
طبیعت بھر ہی جاتی ہے۔!
کوئی مانے نہ مانے، پر محبت مر ہی جاتی ہے!🖤
صحــــرا نشـــــــیں
بچھڑنے والے اُداس رُت میں کلینڈروں پر
گزشتہ سالوں، دنوں، مہینوں کو دیکھتے ہیں.
مجھے اس دل میں اپنا الگ مقام چاہئے تھا____
قطار میں کیسے لگ جاتا ؟ پرستار تھوڑی تھا____
ہٹا دیا ہے ترا عکس مصلحت کے تحت
یہ کب کہا کہ نظر سے گرا دیا ہے تجھے
میں تیرے ذکر پہ انجان بن رہا ہوں مگر
یہ نہ سمجھنا کہ میں نے بھلا دیا ہے تجھے
سپردِ خاک مرا ایک ایک خط نہ کرے
وہ بدگمانیوں میں فیصلے غلط نہ کرے
سُلجھ بھی سکتا ہے جھگڑا اُسے کہو کہ ابھی
جدائی کے کسی کاغذ پہ دستخط نہ کرے
یہ آوارگی اس کی عنایت ہے...
ڈر سا لگتا ہے سدھر جانے سے
قسمیں، وعدے، دعوے من کے کچے کرتے ہیں
یہ ساری ہوائی باتیں کب سچے کرتے ہیں
آ گفتگو کر ! فلسفے پر، جنوں پر، عشق پر
یہ پیار محبت کی باتیں تو بچے کرتے ہیں
کسی نے ہاتھ تھام کر جھٹک دیا،شدید دکھ
کوی قبول کہہ گیا کسی اور کو سوچتے ہوئے
اور محبتیں بھی بے حسوں کو مل گئیں،برا ہوا
یہ لوگ سوچتے نہیں ہیں کسی کو چھوڑتے ہوے
__🍂🖤
میں تم کو روز یاد کرتا ہوں
کیا تمھیں ہچکیاں نہیں آتیں
کوئی تُم سے پُوچھے ، کون ہوں میں!
تُم کہہ دینا ، کوئی خاص نہیں
اِک دوست ہے ، کچّا پکّا سا
اِک جھوٹ ہے ، آدھا سچّا سا
اِک خواب ، ادُھورا پُورا سا
اِک پُھول ہے ، رُوکھا سُوکھا سا
اِک سپنا ہے ، بِن سوچا سا
اِک اپنا ہے ، اَن دیکھا سا
اِک رِشتہ ہے ، انَجانا سا
حقیقت میں ، افسانہ سا
کُچھ پاگل سا ، دیوانہ سا
بس اِک بہانا ، اچھّا سا
جیون کا ، ایسا ساتھی ہے
جو دُور ہو تو ، کُچھ پاس نہیں
کوئی تُم سے پُوچھے ، کون ہوں میں!
تُم کہہ دینا ، کوئی خاص نہیں! 🦋❤️
کوئی بتلاؤ کہ اک عمر کا بچھڑا محبوب
اتفاقاً کہیں مل جائے تو کیا کہتے ہیں
جب تلک دور ہے تو تیری پرستش کر لیں
ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں
احمد فراز 🖤
شاید ترے خوابوں میں مرا عکس نہیں ہے
ورنہ تری آنکھوں میں، شکایت نہیں ہوتی
اس درجہ مجھے خود میں مقفّل نہ کریں آپ!
اس درجہ اسیری میں محبت نہیں ھوتی.......
✨✨
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے
تُجھ سے جب مل کر بھی اُداسی کم نہیں ہوتی
تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے
کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے
ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے
یار !! ہوا سے کیسے آگ بھڑک اُٹھتی ہے
لفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے
کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے
درد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے
ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں
وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے
کیسے ہو سکتا ہے جو کُچھ بھی میں چاھوں
بول نا میرے یارا کیسے ہو سکتا ہے
اک شخص کے جنوں میں گرفتار ہو کے میں
بے بس ہوں اپنے آپ میں سردار ہو کے میں
یہ سوچ کر کہ شہر میں جاوں گا اب کہاں
چپ چاپ بیٹھ جاتا ہوں تیار ہو کے میں
(ڈاکٹر علی ساحر)
کسی کو کچھ نہ بتائیں گے تِرے بارے میں
کوئی پوچھے گا تو ہم صاف مکر جائیں گے
ہم تری قیدِ سلاسل کے سبب زندہ ہیں!!!!
تیری تحویل سے جائیں گے تو مر جائیں گے۔
۔
آسیب زدہ سناٹا ھے دل میں، سکون ڈر کے مارے نہیں آتا
__🖤💔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain