*یُوں بھی ہم دُور دُور رہتے تھے*
*یُوں بھی سِینوں میں اِک کُدورت تھی*
*تُم نے رسماً بھُلا دیا ورنہ!*
*اِس تکلّف کی کیا ضُرورت تھی؟
ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﮐﯽ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ
ﺫﺭﺍ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺑﺘﻼﺅ !!
ﺍﺑﮭﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ
ﺍﻭﺭ ﮐﺘﻨﺎ ﺻﺒﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ
الجھی الجھی سی طبیعت کیوں ھے ؟؟
پھر کوئ شہر میں رویا ہوگا ۔۔
کرب کے نصابوں میں ،،،قہقہے نہیں لگتے
چپ کا ماتم ہوتا ہے ۔۔۔تالیاں نہیں بجتیں
خود سے ملنے کو دل کرتا ہے..
بہت برا ہوں!! لوگوں سےسناہے.
سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے ہم اپنے کام سے
میں اگر خود میں مکمل ہوتا
تیری تقدیر میں پھر نہیں ہوتا
میں نے قصداً اُسے جانے دیا
وہ میری آخری سخاوت تھی!!
کون کہتا گهر گیا تها میں
اس کے جاتے ہی مرگیا تها م
زیر بحث آئے محبت کی کہانی کسی روز
اور یکلخت کوئی مجھ کو تمہارا کہہ دے