لوح_دائرہ میں دائرے پر پڑا ہوا اپنے خوں کے دھبوں کو چاٹتا ہوں کہ میرے ہونے کا سارا الزام میرے سر ہے لبوں کی دہلیز پر مری روح کب سے فریاد کر رہی ہے میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں، میں اپنی آنکھوں میں بجھ رہا ہوں یہ شاہراہوں کا حادثہ ہے مگر کسی کو خبر نہیں ہے مجھے بچا لو، مجھے بچا لو