ہمیں تو ان کی سادگی لے ڈوبی
حسن کیا ھوتا ھے میرا خدا جانے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حا لت خراب کرلی ہے۔
جرم میں ہم کمی کریں بھی کیوں
تم سزابھی تو کم نہیں کرتے ۔
تو میرے بعد رکھے گامجھے یاد
میں اپنے بعد اک لمحہ نہ چاہوں ۔
تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا۔
تو میراحوصلہ تو دیکھ ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوق کمال بھی نہیں ، خوف زوال بھی نہیں ۔
کرنے گئے تھے تغا فل کا ہم اُن سے گِلہ
کی ایک ہی نگا ہ کہ بس خاک ہو گئے
حیراں ہوں تم کومسجد میں دیکھ کے غالب ؔ
ایسابھی کیا ہواکہ خُدایادآگیا۔
سکون اور عشق وہ بھی دونوں ایک ساتھ
رہنے دوغالبؔ کوئی عقل کی بات کرو۔
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کرجیتے ہیں جس کافرپہ دم نکلے۔
عشق نے غالبؔ نکماکردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے۔
anaiya-jani
وہ مجھ سے بچھڑکراب تک رویانہیں غالبؔ
کوئی توہے ہمدردجواسے رونے نہیں دیتا۔
بے وجہ نہیں روتا عشق میں کوئی غالب
جسے خودسے بڑھ کے چاہووہ رلاتاضرورہے۔
ہوئی مدت کہ غالب ؔ مرگیا، پر یادآتاہے
وہ ہراک بات پرکہنا کہ یوں ہوتاتو کیا ہوتا۔
الگ تھا تیرا اندازسب سے الگ تھا تیرامزاج بھی
توغالب نہ تھا فقط تو سب پہ غالب ہے آج بھی۔
بس ختم کریہ بازی عشق غالب ؔ
مقدر کے ہارے کبھی جیتانہیں کرتے۔
نہ تھا کچھ تو خداتھا ، کچھ نہ ہوتا تو خُداہوتا
ڈبویامجھ کو ہونے نے، نہ ہوتامیں، تو کیا ہوتا۔
چراغ جلاناتوپُرانی رسمیں ہیں فرازؔ
اب تو تیرے شہر کے لوگ انسان جلادیتے ہیں
ٹپک پڑتے ہیںآنسو جب یاد تمہاری آتی ہے فرازؔ
یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا
اب تو درد سہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے فرازؔ
جب درد نہیں ملتا تو دردہوتاہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain