سنا ہے تمہاری ایک نگاہ سے قتل ہوتے ہیں لوگ فرازؔ
ایک نظر ہم کو بھی دیکھ لوکے زندگی اچھی نہیں لگتی ۔
ہم نیند کے زیادہ شوقین تو نہیں فرازؔ
کچھ خواب نہ دیکھیں تو گُزارانہیں ہوتا۔
کبھی ملے فرصت تو ضروربتانافرازؔ
وہ کون سی محبت تھی جوہم تمہیں نہ دے سکے۔
Anaiya
اس طرح غور سے مت دیکھ میرے ہاتھ کو فرازؔ
ان لکیروں میں حسرتوں کے سواکچھ بھی نہیں ۔
ضبط غم اس قدر آساں نہیں فرازؔ
آگ ہوتے ہیں وہ آنسو جو پیے جاتے ہیں
اک پل میں جو برباد کر دیتے ہیں دل کی بستی کوفرازؔ
وہ لوگ دیکھنے میں اکژمعصوم ہوتے ہیں ۔
میں نے یہ سوچ کرتسبیح ہے توڑدی فرازؔ
کیا گن گن کرمانگوں اس سے ، جو بے حساب دیتاہے۔
سجدوں میں گزاردوں اپنی ساری زندگی فرازؔ
اِک باروہ کہہ دے مجھے دُعاؤں سے مانگ لو۔
خالی ہاتھوں کو کبھی غور سے دیکھاہے فرازؔ
کِس طرح لوگ لکیروں سے نکل جاتے ہیں ۔
میں فنا ہوگیا وہ بدلا پھر بھی نہیں فرازؔ
میری چاہت سے بھی سچی تھی نفرت اس کی۔
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے گھر سے رستے بنالیے۔
اس نے مجھے چھوڑدیاتوکیاہوافرازؔ
میں نے بھی توچھوڑاتھا سارا زمانہ اس کے لیے۔
اس شخص سے فقط اتناساتعلق ہے فرازؔ
وہ پریشان ہوتو ہمیں نیندنہیں آتی ۔
دل منافق تھا، شب ہجرمیں سویاکیسے
اور جب تجھ سے ملا، ٹوٹ کے رویاکیسے۔
میرے مرنے پر سب خوش ہوں گے فرازؔ
بس اک تنہائی روئے گی کہ میرا ہمسفر چل بسا۔
کسی سے جُداہونا اگر اتناآسان ہوتا فرازؔ
تو جسم سے رُوح کو لینے کبھی فرشتے نہیں آتے۔
تمام عمر اسی کے خیال میں گزری فرازؔ
میراخیال جسے عمر بھر نہیںآیا۔
Good Evening
میرے دُ شمن مجھے یہ کہہ کر چھو ڑ گئے
جا تیرے اپنے ہی کا فی ہیں تجھے رُ لانے کے لئے
Zindgi ma kbi bichrna ho to mari sanse bi la jana q k ya tumhre bd kisi kam ki ni
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain