Damadam.pk
ayat@noor's posts | Damadam

ayat@noor's posts:

ayat@noor
 

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں
مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں
وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا
میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں
اسے دلاسے تو دے رہا ہوں مگر یہ سچ ہے
کہیں کوئی خوف بڑھ رہا ہے تسلیوں میں
تم اپنی پوروں سے جانے کیا لکھ گئے تھے جاناں
چراغ روشن ہیں اب بھی میری ہتھیلیوں میں
جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی
تری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں
مجھے یقیں ہے وہ تھام لے گا بھرم رکھے گا
یہ مان ہے تو دیے جلائے ہیں آندھیوں میں
ہر ایک موسم میں روشنی سی بکھیرتے ہیں
تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں
وصی شاہ

ayat@noor
 

آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
شبنم کا یہ سوال ہے اور چاند رات ہے
کیمپس کی نہر پر ہے ترا ہاتھ ہاتھ میں
موسم بھی لا زوال ہے اور چاند رات ہے
ہر اک کلی نے اوڑھ لیا ماتمی لباس
ہر پھول پر ملال ہے اور چاند رات ہے
چھلکا سا پڑ رہا ہے وصیؔ وحشتوں کا رنگ
ہر چیز پہ زوال ہے اور چاند رات ہے
وصی شاہ

ayat@noor
 

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
ڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم
تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہر
دیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم
گھر کے سارے پھول ہنگاموں کی رونق ہو گئے
خالی گلدانوں سے باتیں کرکے سو جائیں گے ہم
ادھ کھلی تکیے پہ ہوگی علم و حکمت کی کتاب
وسوسوں وہموں کے طوفانوں میں گھر جائیں گے ہم
اس نے آہستہ سے زہراؔ کہہ دیا دل کھل اٹھا
آج سے اس نام کی خوشبو میں بس جائیں گے ہم

ayat@noor
 

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا
شہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گا
تو بھی ڈھونڈے گا مجھے شوق سزا میں ایک دن
میں بھی کوئی خوبصورت سی خطا کر جاؤں گا
مجھ سے اچھائی بھی نہ کر میری مرضی کے خلاف
ورنہ میں بھی ہاتھ کوئی دوسرا کر جاؤں گا
مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر
میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا
شور ہے اس گھر کے آنگن میں کچھ روز اور
گنبد دل کو کسی دن بے صدا کر جاؤں گا

ayat@noor
 

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤگے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤگے
کسی معذور کو دیکھوگے تو یاد آؤں گا
اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا
میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا
آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا
وصی شاہ

ayat@noor
 

تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
میں مسکراتا ہوا آئینے میں ابھروں گا
وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے
مجھے خبر تھی کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا
سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے
یہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں یہ آنکھیں ہیں
میں ان میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے
بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں
تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے
وصی شاہ

ayat@noor
 

اور دکھ کی بات یہ ھے کہ سارے دکھ اپنوں نے دئیے

ayat@noor
 

جو دل کے سارے درد بانٹ لے
ایسے دوست زندگی میں بہت کم ملتے ہیں

ayat@noor
 

مجھ سے کھیلنا فطرت سی بن گئی ہے لوگوں کی
کاش کہ کھلونا ہو کر بکتا تو کسی ایک کا ہوتا

ayat@noor
 

لوگوں کے لیے آپ تب تک اچھے ہوں
جب تک آپ ان کی امیدوں کو پورا کرو
اور تمہارے لئے سبھی لوگ اچھے ہیں
جب تک آپ ان سے کوئی امید نہ رکھو

ayat@noor
 

کبھی کبھی ہمارے اپنوں میں کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو نہ تو انسان اپنا بنا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں اپنی زندگی سے نکال سکتا ہے

ayat@noor
 

فاصلوں نے نہیں خاموشیوں۔ نے توڑا ھے مجھے

ayat@noor
 

کیوں نہیں محسوس ہوتی انہیں میری تکلیف؟
جو کہتے تھے تمہیں ہم اچھے سے جانتے ہیں

ayat@noor
 

میں اختتام سے اکثر آغاز کرتی ہوں
میں نظر میں رکھ کر نظر انداز کرتی ہوں

ayat@noor
 

مرتا نہیں ہے کوئی کسی کے بغیر یہ حقیقت ہے زندگی کی
لیکن صرف سانس لینے کو ہی تو جینا نہیں کہتے

ayat@noor
 

خوبصورت زندگی کے راز
دعا کیجیے دعا لیجیے دعا دیجیے

ayat@noor
 

اچھا تو میں اب چلتا ہوں سفرِ آزاد پر
کوئی میرا پوچھے کہہ دینا إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون

ayat@noor
 

تجھے یہ شک ہے کہ تیرے لئے جان نہ دے پاؤں گا
مجھے یہ ڈر ہے کہ تو بہت روئے گی مجھے آزمانے کے بعد

ayat@noor
 

نہ کامیاب ہوتا ہے نہ ناکام ہوتا ہے
آدمی عشق میں بس بدنام ہوتا ہے

ayat@noor
 

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن
تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو