دیوانہ کہہ کر شہر میں رسوا کیے گئے
ہم میں فقط یہ عیب تھا ہم بےوفا نہ تھے
کاش کے میں اس کے نام سے بدنام ہوتا
گزرتا جس راہ سے لیکر نام اس کا لوگ بلاتے مجھے
کوئی الزام رہ گیا ہے تو وہ بھی مجھے دے دو
ہم تو پہلے بھی برے تھے تھوڑے اور سہی
بچھڑوں گی کچھ اس طرح تم سے
قبریں کھودتے رہ جاؤ گے میرے ہم ناموں کی
یہ بچھڑنا نہیں اجڑنا تھا
جس طرح سے جدا ہوئے ہم تم
اپنے دکھوں پے ہنسنا اپنی خوشیوں پے رونا
کیا کچھ سکھا جاتا ہے کسی کا کسی سے جدا ہونا
تم ہو زندگی تم ہی جینے کی وجہ ہو
تم کو نہ دیکھوں تو سانس تھم جاتی ہے
کاش کہ تم واقف ہو جاؤ میری محبت کی انتہا سے
حیران ہو جاؤ گے اپنی خوش نصیبی دیکھ کر
ہمیشہ ایسے شخص کو چنا کرو جو آپ کو عزت دے
عزت محبت سے کہیں زیادہ خاص ہوتی ہے
مجھے اس کی آواز سنائی دی تو اندازہ ہوا کہ
بعض آوازیں بھی جسم میں جان ڈال دیتی ہیں
میں نے ہر دعا میں اس کی خوشی کی دعا مانگی ہے
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کی خوشی میں شامل نہیں ہوں