,میں نے اپنے رب سے رو رو کے ایک دعا مانگی تھی یا اللہ میری زندگی سے منافق لوگوں کو دور کر دے قربان جاؤ اپنے سونھے رب جس نے سب کو مجھ سے دور کر کے حقیقت سامنے لایا بے شک ھم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائیں گے۔ سبحان اللہ
کوئی خاموش ھو جاتا تو ھم تڑپ جاتے تھے اج ھم خاموش ھوئے تو کسی نے حال تک نہ پوچھا
ھوتا ھے کبھی کبھی دکھ تیرے بچھڑ جانےکا پر تیری کچھ باتوں نے جینا سیکھا دیا
تم اج بھی دل میں بستے ھو یہ الگ بات کے ھم بچھڑ گئے
نہیں کوئی قصور زمانے کا ھمنے خود کو خودتباہ کیا
ھمیں جلانے کے لیے تم جنھیں اپنے گلے کے ھار بنائے پھرتے ھو ایسے تو ھم اپنے گھر میں نوکر نہیں رکھتے جنہیں تم مرشد بنائے پھرتے ھو
سنو تم نے ایسی لڑکی کھو دی جو یہ سوچ کے رونے لگ پڑتی تھی کہ تمہیں جنت میں حوروں کے ساتھ کیسے برداشت کرے گی
کچھ لوگ تحفے بھی کمال دیتے ہیں وحشتیں تنہائیاں الجھنیں رسوائیاں
تھک چکی ھو ان دواؤں سے مجھ اب گہرا سکون چاھیے
اگر کسی کو تکلیف کر سکون سے سو لیتے ھو ھو تو اپنے ضمیر کا جنازہ پڑھ لو کیونکہ وہ مر چکا ھے