حسن بھی خدا دیتا ہے
عقل بھی خدا دیتا ہے
عشق وہ سمندر ہے
جو دونوں کو بہا دیتا ہے
میرا اس شخص سے بس اتنا سا تعلق ہے
درد اسے ہو تو مجھے محسوس ہوتا ہے
اگر تم اپنے رب پر بہت بھروسہ رکھتے ہو تو یہ بھی جان لو،
💞کہ تمہارا رب اس بھروسے کو کبھی ٹوٹنے نہیں دے گا
آج کھاو قسم اپنی خوبصورت آنکھوں کی
کیا تجھے زرا بھی عشق نہیں ھے مجھ سے
اس کا عشق چاند جیسا تھا
پورا ہوا ، تو گھٹنے لگا ۔۔!!💔
اوقات نہیں تھی زمانے میں جو ہماری قیمت لگا سکے
کمبخت عشق میں کیا پڑے مفت میں نیلام ہو گۓ
کیوں کرتے ہو ہر کسی پر اعتبار اس زمانے میں
یہ ملتے کسی اور سے ہیں اور ہوتے کسی اور کے ہیں
دیکھا جو دل کی آنکھوں سے ہم نے انھیں
سادگی میں بھی انتہائ حسین لگے وہ ہمیں💗
سب عادتیں چھوٹ سکتی ہیں
اک تمہارے لیے اک تیرے سوا🔥
حسن بھی خدا دیتا ہے
عقل بھی خدا دیتا ہے
عشق وہ سمندر ہے
جو دونوں کو بہا دیتا ہے
خود کو کسی کی امانت سمجھ کر
ہر لمحہ وفادار رہنا بھی محبت ہے
روح سے روح کا رشتہ بنا لیتے ہیں
چلو اتنی گہرائی سے دل لگا لیتے ہیں
اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا
اتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا
اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئی
لہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا
تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں
اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا
ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم
خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا
ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا
اس راہ میں ہر زخم ہمیں راہنما تھا
کیوں گھر کے اب آئے ہیں یہ بادل یہ گھٹائیں
ہم نے تو تجھے دیر ہوئی یاد کیا تھا
اے شیشہ گرو کچھ تو کرو آئنہ خانہ
رنگوں سے خفا رخ سے جدا یوں نہ ہوا تھا
ان آنکھوں سے کیوں صبح کا سورج ہے گریزاں
جن آنکھوں نے راتوں میں ستاروں کو چنا تھا
اچھا ہوا کہ عشق میں برباد ہو گئے
مجبوریوں کی قید سے آزاد ہو گئے
کب تک فریب کھاتے رہیں قید میں رہیں
یہ سوچ کر اسیر سے صیاد ہو گئے
اس کیفیت کا نام ہے کیا سوچتے ہیں ہم
اور دوستوں کی ضد ہے کہ فرہاد ہو گئے
ملنے کا من نہیں تو بہانا نیا تراش
اب تو مکالمے بھی ترے یاد ہو گئے
بیزار بد مزاج انا دار بد لحاظ
ایسے نہیں تھے جیسے تیرے بعد ہو گئے
ثانیؔ فقط تمہارا لکھا جن خطوط پر
وہ تو کبھی کے زائد المیعاد ہو گئے
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
میں مسکراتا ہوا آئینے میں ابھروں گا
وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے
مجھے خبر تھی کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا
سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے
یہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں یہ آنکھیں ہیں
میں ان میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے
بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں
تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain